ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > روحانی رہنما اور گرو > پپالی مقدس نصوص کے جستہ جستہ حقائق سے اخذ کردہ مہاتما بدھ کی زندگی

پپالی مقدس نصوص کے جستہ جستہ حقائق سے اخذ کردہ مہاتما بدھ کی زندگی

الیکزینڈر برزن، اگست ۲۰۱۰ء

تاریخی شہادتوں پر مبنی مہاتما بدھ کا ظہور کلاسیکی بودھی ادب کی تہہ سے کئی پرتوں میں ہوتا ہے۔ اس کی قدیم ترین شکل کسی ایک متن سے نمودار نہیں ہوتی بلکہ اسے پالی سوتّا اور تھرواد روایت کے ونایا ادبی علوم میں قلم بند کیے جانے والے واقعات کو جستہ جستہ جوڑ کر مرتب کیا جا سکتا ہے۔ مہاسانگھک، سرواستیواد اور مہایان روایتوں سے تعلق رکھنے والے بعد کے متون، بعض اوقات بہت سی مافوق الانسانی خصوصیات کے واسطے سے ان اولین متون سے مرتب ہونے والے محض ایک بیرونی خاکے کی صرف آرائش کرتے ہیں۔ بہر حال، پالی ادبی علوم سے رونما ہونے والی اصل شبیہہ ایک انتہائی انسان دوست شخص کو سامنے لاتی ہے جس نے مشکلوں سے بھرے ہوئے غیر محفوظ زمانوں میں زندگی بسر کی اور شخصی، نیز خانقاہی دونوں سطحوں پر ان گنت مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا کیا۔ یہاں ہم مہاتما بدھ کی زندگی کے قدیم ترین بیان کا خاکہ پیش کریں گے جواسٹیفن بیچیلر کی اس عالمانہ تحقیق پر مبنی ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب "ایک بودھی دہریے کے اعترافات" میں مرتب کیا ہے۔ تمام اسماء اپنی پالی عبارت کے مطابق دیے جائیں گے۔

مہاتما بدھ کا جنم ۵۶۶ سال قبل مسیح میں موجودہ زمانے کے جنوبی نیپال میں واقع لُمبینی سبزہ زار کے مقام پر ہوا تھا۔ یہ سبزہ زار ساکیہ کی سلطنت کپل واتھو سے زیادہ دوری پر واقع نہیں ہے۔ اگرچہ پالی صحیفوں میں ان کا شخصی نام سدھاتھ نظر نہیں آتا۔ تاہم ، اپنی سہولت کی خاطر یہاں ہم اسی کا استعمال کریں گے۔ مہاتما بدھ کے سلسلے میں اکثر استعمال کیا جانے والا ایک اور نام گوتم اصل میں ایک قبیلے کا نام ہے۔

جیسا کہ بعد کے بودھی ادبی علوم میں بیان کیا گیا ہے کہ سدھاتھ کے والد سُدهودن، کوئی راجا نہیں تھے، بلکہ وہ گوتم قبیلے کے ایک سردار تھے، جنہوں نے ہوسکتا ہے کہ ساکیہ میں ایک علاقائی گورنر کی خدمات انجام دی ہوں۔ پالی صحائف میں ان کی ماں کا نام نہیں دیا گیا، مگر بعد کے سنسکرت ماخذوں میں ان کا تذکرہ مایا دیوی کے طور پر ملتا ہے۔ سدھاتھ کی ماں ان کے پیدائش کے کچھ ہی دنوں بعد چل بسیں اور اسی لیے ان کی چھوٹی بہن پجاپتی نے ان کی پرورش کی، جن سے اس زمانے کے رواج کے مطابق سدھاتھ کے والد نے شادی کرلی تھی۔

ساکیہ ایک قدیم جمہوری ریاست تھی، لیکن سدھاتھ کی پیدائش کے وقت یہ ریاست اس عہد کی طاقت ور کوسل سلطنت کا حصہ تھی۔ سلطنت کوسل موجودہ دور کے بہار میں دریائے گنگا کے شمالی کنارے سے لے کر ہمالیہ کی ترائی تک پھیلی ہوئی تھی۔ ساوتھی اس سلطنت کا دار السلطنت تھا۔

چونکہ مہاتما بدھ کی زندگی میں جگہ پانے والے اہم مقامات کی جغرافیائی اور طبعی تفصیلات کے مختصر بیان سے ان کی سوانح کو سمجھنے میں کسی قدر مدد ملے گی، اس لئے ان مقامات کا خاکہ یہاں پیش کیا جا رہا ہے۔ ساکیہ کوسل کے مشرقی حصہ میں ہے، مللا کے صوبے سے ملحق جو ساکیہ کہ جنوب مشرق میں واقع ہے۔ مللا کے مشرق میں جمہوریہٴ وجّی تھی، جس کا دارالسلطنت ویسالی تھا۔ جمہوریہٴ وجّی پر کئی قبیلوں کی مشترکہ حکومت تھی، ان میں لچھوی قبیلہ سب سے مشہور تھا۔ وجّی اور کوسل کے جنوب میں، دریائے گنگا کے دوسری طرف مگدھ کی طاقتور ریاست تھی جس کا دارالسلطنت راج گہہ میں واقع تھا۔ کوسل کے مغرب اور موجودہ دور کے پاکستانی پنجاب میں گندھارا تھا جس کی حیثیت ھخمانشی کی فارسی سلطنت کے ایک صوبے کی تھی۔ اس کے صدر مقام، ٹیکسلا اس زمانے کی مشہور ترین یونیورسٹی تھی۔ وہاں یونانی اور فارسی افکار نیز ثقافتیں اپنی معاصر ہندوستانی ثقافتوں اور افکار میں گھل مل جاتی تھی۔

شمالی شاہراہ پر، جسے اس دور کی خاص تجارتی سرگرمی کے مرکز کی حیثیت حاصل تھی، کپل واتھو واقع تھا، وہ بڑا شہر جہاں سدھاتھ نے نشوونما پائی۔ شمالی شاہراہ کوسل کو بائیں جانب گندھارا سے ملاتی تھی، اور ساکیہ، مللا اور جمہوریہٴ وجّی سے گزرتی ہوئی جنوب کی سمت مگدھ کو چلی جاتی تھی۔ اس طرح، اگرچہ پالی صحائف میں سدھاتھ گوتم کے انیس برس سے پہلے کی عمر کے بارے میں بہت کم معلومات ملتی ہیں، مگر ایسا لگتا ہے کہ ان کا تعارف بہت سی ثقافتوں سے ہوچکا تھا۔ یہ امکان بھی ہے کہ انہوں نے ٹیکسلا کی یونیورسٹی میں تعلیم پائی ہو، گو کہ اس کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔

سدھاتھ نے بھد کچنا سے شادی کی جسے سنسکرت ادب میں یشودھرا کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ سدھاتھ کی عم زاد اور دیودت کی بہن تھیں۔ دیودت بعد میں مہاتما بدھ کا خاص حریف بن گیا ان کے یہاں ایک بچے نے جنم لیا، بیٹا راہل اپنے بیٹے کی پیدائش کے بعد، انتیس برس کی عمر میں مہاتما بدھ نے کیل وتتھو کو چھوڑ دیا اور روحانی صداقت کی تلاش میں مگدھ کی طرف روانہ ہوگئے۔ شمالی شاہراہ کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے اور دریائے گنگا کو پار کرکے وہ راج گہہ جا پہنچے۔ اس وقت مگدھ پر راجہ بمبسار کی حکومت تھی اور کوسل پر راجہ پاسیناڈی کی۔ کوسل اور مگدھ کے مابین ایک معاہدے کی شق کے طور پر دونوں راجاؤں نے ایک دوسرے کی بہن سے شادی کرلی تھی۔ راجہ پاسیناڈی کی بہن کا نام دیوی تھا۔

مگدھ میں سدھاتھ نے دو اساتذہ، الارا کالام اور اوداک رامپُت کے فرقوں میں تعلیم حاصل کی۔ برہمنی روایت سے اپنے ربط کی وجہ سے انہوں نے سدھاتھ کو اس بات کی تربیت دی کہ کس طرح لاشیئت ﴿وہاں کچھ بھی نہیں ہونے کی حالت﴾ پر دھیان مرکوز کیا جائے اور کسی شے کو دوسری شے سے ممیز کیا جائے نہ ہی ممیز نہ پر دھیان مرکوز کیا جائے۔ بہر حال، ان کمالات کی حصولیابی سے سدھاتھ کی تشفّی نہیں ہوئی اور انہوں نے ان اساتذہ کو چھوڑ دیا۔ اس کے بعد انہوں نے انتہائی زہد و ریاضت کا راستہ اختیار کیا، یہاں تک کہ کھانا پینا یکسر ترک کر دیا۔ اب کی بار بھی انہیں احساس ہوا کہ اس طرح کی مشقت راہ نجات تک نہیں پہنچاتی۔ لہٰذا ، انہوں نے اپنا پرت توڑ دیا اور پاس ہی واقع اوروولا کی راہ لی جسے آج ہم بودھ گیا کے نام سے جانتے ہیں۔ جہاں انہیں بودھی درخت کے نیچے پینتیس برس کی عمرمیں روشن ضمیری حاصل ہوا۔ یہ ان کا مگدھ میں آئے ہوئے چھٹا سال تھا۔

روشن ضمیری کی حصولیابی کے بعد، وہ مغرب میں میگادی چلے گئے، ہرنوں کے کھلے باغ، اسپٹان آج کا سارناتھ، وارانسی کی بالکل نزدیک۔ اگرچہ دریائے گنگا کے جنوب کا علاقہ بادشاہ پاسیناڈی نے مگدھ کے حوالے کردیا جب اس نے اپنی بہن دیوی کی شادی بادشاہ بمبسار سے کرائی۔ مہاتما بدھ نے اپنے پانچ ساتھیوں کی رفاقت میں برسات کا موسم وہیں، ہرنوں کے کھلے باغ میں گزارا اور جلد ہی مقلدین کی ایک چھوٹی سی تعداد ان کے گرد جمع ہوگئی۔ اس طرح زاہدوں کا ایک گروہ وجود میں آیا، دیکھ بھال کے لیے انہیں جس کی ضرورت تھی۔

ویسالی کے لچھوی شریف آدمی مہالی نے مہاتما بدھ کے بارے میں سنا تو راجہ بمبسار کو مشورہ دیا کہ انہیں مگدھ آنے کی دعوت دیں، چنانچہ، برسات کے بعد مہاتما بدھ اور ان کا پھیلتا ہوا گروہ مشرق کی سمت مگدھ کے دارالسلطنت راج گہہ کو لوٹ آیا۔ راجہ بمبسار مہاتما بدھ کی تعلیمات سے متاثر ہوا اور انہیں بانسوں کے چھوٹے سے جنگل پر مشتمل، "ویلوون" نامی ایک سبزہ زار نذر کیا جو استعمال میں نہیں تھا اور جہاں بارش کے دنوں میں وہ اپنے گروہ کے ٹھہرنے کا انتظام کر سکتے تھے۔

جلد ہی ساریپُت اور موگلان جو ایک ممتاز مقامی گورو کے خاص چیلے تھے، مہاتما بدھ کے گروہ میں شامل ہو گئے۔ آگے چل کر یہ دونوں مہاتما بدھ کے سب سے قریبی شاگرد بن گئے۔ ساریپُت نے مہاتما بدھ سے درخواست کی کہ وہ اپنی روز افزوں پھیلتی ہوئی خانقاہی برادری کے لیے ایک عہد نامے کی تشکیل کریں اور راجہ بمبسار نے یہ تجویز رکھی کہ ان کی برادری دوسرے فقیر پیشہ روحانی گروہوں مثلاً جینیوں کی طرح کچھ خاص رسموں کو اختیار کرے۔ راجہ نے خصوصی طور پر یہ مشورہ دیا کہ اپنی تعلیمات پر بات چیت کے لیے وہ سہ ماہی نشستوں کا اہتمام کیا کریں۔ مہاتما بدھ نے یہ مشورہ قبول کر لیا۔

ایک دن، اناتھ پنڈک جو کوسل کے دارالسلطنت ساوتھی کا ایک مالدار ساہوکار تھا، کاروبار کے سلسلے میں راج گہہ آیا۔ اس نے انہیں ساوتتھی (بادشاہ پاسیناڈی کے دار السلطنت) میں برسات کا موسم گزارنے کے لیے ایک جگہ کی پیش کش کی۔ اس کے کچھ ہی دنوں بعد مہاتما بدھ اور ان کے بھکشوؤں کا گروہ کوسل چلا گیا، مگر یہ واقعہ اس سے کئی سال پہلے کا ہے جب اناتھ پنڈک نے انہیں قیام کے لیے مناسب جگہ پیش کی تھی۔

اسی اثنا میں، اپنے پریوار سے ملنے کے لیے مہاتما بدھ کپل واتھو واپس آئے۔ ان کے والد سُدهودن فوراً ہی ان کے مقلدین میں شامل ہو گئے اور ان کا آٹھ برس کا بیٹا راہل بھی، ان کے خانقاہی سلسلے کا ایک نو آموز فرد بن گیا۔ بعد کے برسوں میں کئی ساکیہ امرا بھی اس حلقے میں آملے جن میں مہاتما بدھ کے عم زاد آنند ، انورُدھ اور دیودت، اسی کے ساتھ ساتھ مہاتما بدھ کے سوتیلے بھائی، نندا بھی شامل ہوگئے۔ جو سندر نندا، یعنی "خوش جمال نندا" کے طور پر بھی جانے جاتے ہیں۔

مہاتما بدھ کی سوتیلی ماں اور خالہ پجاپتی نے بھی اس بڑھتے ہوئے حلقے میں شمولیت کی درخواست کی مگر پہلے پہل مہاتما بدھ نے انکار کر دیا۔ ہمت نہ ہارتے ہوئے، مہاتما بدھ کے انکار کے بعد بھی انہوں نے اپنا سرمنڈوا لیا، پیلے کپڑے پہن لیے اور دوسری عورتوں کے ایک بڑے گروہ کے ساتھ، بہر حال، مہاتما بدھ کی پیروکار بن گئیں۔ پجاپتی کے اس حلقے میں داخلے کے لیے درخواست جاری رکھی، مگر مہاتما بدھ نے دوسری اور پھر تیسری مرتبہ بھی انکار کر دیا۔ بالآخر، مہاتما بدھ کے انتقال سے کچھ برس پہلے، آنند نے مداخلت کی اور پرجاپتی کی طرف سے منت کی، اور انجام کار مہاتما بدھ انہیں اپنے حلقے میں داخلہ دینے پر رضامند ہوگئے۔ یہ واقعہ جمہوریہٴ وجّی کے ویسالی نامی مقام کا ہے، اور اسی سے بدھ مت میں راہباؤں کے سلسلے کی شروعات ہوتی ہے۔

اناتھ پنڈک کو ان کی زبردست فیاضی اور سخاوت کے لیے جاناجاتا تھا اور مہاتما بدھ کی کوسل کو واپسی کے کچھ برس بعد انہوں نے سونے کا ایک بڑا ذخیرہ پیش کیا تاکہ ساوتھی میں ایک کھلا ہوا باغ "جیت ون" یعنی کہ "جیت کا جنگل یا جھرمٹ" خرید لیا جائے۔ انہوں نے وہاں مہاتما بدھ اور ان کے بھکشوؤں کے لیے برسات کے موسم میں قیام کی غرض سے ایک نہایت شاندار حویلی تعمیر کروائی۔ آخر کار، عرفان کی حصولیابی کے لگ بھگ بیس برس بعد، اپنے خانقاہی گروہ کے لیے مہاتما بدھ نے برکھا رت کے رسمی ٹھکانے قیام گاہ کی رسم کا آغاز کیا، جس کے دوران تمام خانقاہ نشین ہرسال برسات کے موسم میں تین مہینے کے لیے یکجا ہو جاتے تھے اور سال کے باقی ماندہ دنوں کی طرح ایک جگہ سے دوسری جگہ آنے جانے کا سلسلہ موقوف کر دیتے تھے۔ مجموعی طور پر، مہاتما بدھ نے جیت کے جنگل میں واقع اس ٹھکانے پر، اپنی زندگی کی انیس برساتیں گزاریں اور اپنے ۸۴۴ اپدیش دیے۔ اناتھ پنڈک نے مہاتما بدھ کی خانقاہی برادری کی سرپرستی کا اپنا سلسلہ جاری رکھا، اگرچہ اپنی زندگی کے اختتامی دور میں، وہ دیوالیہ ہو گئے تھے۔

کوسل راجہ پاسیناڈی نے جیت کے جنگل والے ٹھکانے پر گوتم بدھ سے پہلی بار ملاقات کی جب مہاتما بدھ کی عمر چالیس برس کے قریب تھی۔ مہاتما بدھ نے راجہ کو شدت سے متاثر کیا جس کے نتیجے میں پاسیناڈی بھی ان کے سرپرستوں اور پیروکاروں میں شامل ہوگیا۔ مگر، بہر حال راجہ پاسیناڈی سے مہاتما بدھ کا تعلق ہمیشہ نہایت نازک رہا۔ گو کہ یہ راجہ علم کا ایک فکری سرپرست اور مربّی تھا، مگر پھر بھی، وہ عیاش طبع اور اکثر بہت بے رحم ہو جاتا تھا۔ مثال کے طور پر، کسی خوف کے تحت، راجہ نے اپنے مللا کے دوست اور اپنی فوج کے کمانڈر بندھول کو جان سے مروادیا، اگرچہ اپنی پشیمانی کے احساس کی تلافی کے لیے، اس نے اپنی فوج کے سر براہ کی حیثیت سے بندھولا کے بھتیجے کاراین کا تقرر بھی کر دیا۔ برسوں بعد اپنے چچا کی موت کا انتقام لینے کی خاطر کاراین نے پاسیناڈی کو معزول کر دیا۔ بہر حال، مہاتما بدھ نے راجہ کے ناہموار سلوک اور مقدر کے اتار چڑھاؤ کو برداشت جو کیا تو بے شک صرف اس خیال سے کہ انہیں چوروں اور جنگلی جانوروں کی طرف سے اپنے گروہ کو لا حق خطرات سے بچاؤ کی ضرورت تھی، اور اسی کے ساتھ ساتھ، ان کی امداد کے لئے انہیں مالدار سرپرستوں تک رسائی بھی درکار تھی۔

اپنے حکمراں خاندان کے سلسلے کو بچائے رکھنے کے لئے راجہ پاسیناڈی کو ایک بیٹے کی ضرورت تھی۔ اس کی پہلی بیوی جو مگدھ کے راجہ بمبسار کی بہن تھی صاف ظاہر ہے کہ اسے کوئی بیٹا نہ دے سکی۔ پھر راجہ نے ایک اور شادی رچا لی، مللکا سے جو نچلی ذات کی ایک حسین عورت تھی اور مہاتما بدھ کی پیروکار تھی۔ راج دربار کے برہمن پروہتوں کو اس عورت کی یہ طبقاتی حیثیت اپنے لئے اہانت آمیز محسوس ہوئی۔ مللکہ کے یہاں راجہ پاسیناڈی سے ایک بیٹی وجیری پیدا ہوئی۔

راجہ نے اب یہ سوچا کہ ایک بیٹے کے لئے اسے تیسری بیوی لانی ہوگی۔ سو اس نے مہاتما بدھ کے عم زاد مہانام کی بیٹی وسبھا کو بیاہ لیا، جو مہاتما بدھ کے والد کی موت کے بعد ساکیہ کا گورنر بن گیا تھا۔ مہانام مہاتما بدھ کے نزدیکی شاگردوں آنند اور انورُدھ کا بھائی تھا۔ ہر چند کہ مہانام نے وسبھا کو اونچی حیثیت کی ایک عورت کے طور پر پیش کیا تھا، مگر اصل میں وہ ایک کنیز کے بطن سے اس کی ناجائز اولاد تھی۔ اس نے اگرچہ راجہ پاسیناڈی کو ایک بیٹا دیا، ودادبھ مگر کوسل راج سنگھاسن کے وارث کی حیثیت سے اس کی حالت اپنی ماں کے مخفی سلسلہٴ نسب کی وجہ سے خراب تھی۔ اس کی اس کمزوری نے مہاتما بدھ کو بھی وسبھا سے رشتے داری کے باعث مشکل میں ڈال دیا۔

اس حقیقت سے لاعلم ہوتے ہوئے کہ وہ ایک ناجائز اولاد ہے، ودادبھ نے سولہ برس کی عمر میں پہلی بار اپنے دادا مہانام سے ملاقات کے لئے ساکیہ گیا۔ پاسیناڈی کے فوج کے کمانڈر کاراین کو وہاں پہنچنے کے بعد ودادبھ کی ماں کے صحیح پس منظر کا پتہ چلا۔ جب فوج کے کمانڈر نے پاسیناڈی کو بتایا کہ اس کا بیٹا ایک کنیز کا ناجائز پوتا ہے تو راجہ کو ساکیوں پر طیش آگیا۔ اس نے اپنی بیوی اور بیٹے کو ان کی شاہی حیثیت سے بے دخل کر دیا اور انہیں غلامی کی درجے پر پہنچا دیا۔ ان کی طرف سے مہاتما بدھ نے پیروی کی اور بالآخر راجہ نے پھر سے ان کی حیثیت بحال کی۔

بہر حال اس واقعے کے بعد کوسل میں مہاتما بدھ کی حیثیت غیر محفوظ ہوگئی اور تقریباً ستر برس کی عمر میں وہ پہلی مرتبہ مگدھ اور اس کے دارالسلطنت راج گہہ کی طرف واپس گئے۔ وہاں انہوں نے راجہ کے بانسوں کے جنگل کی بجائے ایک امرائی میں قیام کیا جو شاہی طبیب جیوکا کی ملکیت تھی۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس وقت مہاتما بدھ شاید پہلے سے بیمار تھے۔

جس وقت مہاتما بدھ بہتّر سال کے تھے، مگدھ کہ راجہ بمبسار کو اپنے بیٹے اجاتستو کے حق میں مجبوراً تخت چھوڑنا پڑا۔ اجاتستو نے اپنے باپ کو قید میں ڈال دیا اور ان پر فاقے کی موت مسلط کر دی۔ بمبسار کی بیوہ دیوی نے، جو راجہ پاسیناڈی کی بہن تھی، اس صدمے میں اپنی جان گنوا دی۔ اس کی موت کا بدلہ لینے کی لئے پاسیناڈی نے اپنے بھتیجے اجاتستو کے خلاف جنگ چھیڑ دی، اس کوشش میں کہ گنگا کے شمال کی سمت وارانسی کے اطراف کے یہ گاؤں کو پھر سے حاصل کرلے جو اس نے بمبسار کو دیوی کے جہیز کی شکل میں پیش کیے تھے۔ یہ جنگ غیر فیصلہ کن اور امن کے قیام میں ناکام رہی۔ پاسیناڈی کو مجبوراً اپنی بیٹی وجیری کی اجاتستو سے شادی کروانی پڑی۔

لگ بھگ اسی وقت، مہاتما بدھ کےعم زاد دیودت نے جو اجاتستو کا استاد بن گیا تھا، مہاتما بدھ کے خانقاہی سلسلے کا اہتمام اپنے قبضے میں کرنا چاہا۔ دیودت نے مہاتما بدھ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی کہ بھکشوؤں کے لئے نظم و ضبط کی غرض سے کئی نئے ضابطے عائد کیے جایئں مثلاً یہ کہ وہ جنگلوں میں بودوباش اختیار کریں، دنیا دار لوگوں کے گھروں میں داخل نہ ہوں، صرف پھٹے پرانے کپڑے پہنیں اور ان سے ملبوسات کے تحفے قبول نہ کریں اور سبزی خوری پر سختی سے کاربند ہوں۔ مہاتما بدھ نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کیونکہ ان کے خیال میں یہ پابندیاں ان کے سلسلے کو کچھ زیادہ ہی ریاضت کش بنا دیں گی اور وہ عام معاشرے سے کٹ جایئں گے۔ دیودت نے مہاتما بدھ کے اختیار کو تسلیم کرنے کے بجائے اسے مسترد کر دیا اور مہاتما بدھ کے بہت سے نو عمر بھکشوؤں کو اپنے خیالات کی طرف مائل کرتے ہوئے اپنا ایک الگ فرقہ بنا لیا جس کی حیثیت خانقاہی برادری کے ایک حریف گروہ کی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ دیودت نے کئی بار مہاتما بدھ کو جان سے مارنے کی ناکام کوششیں کیں۔ آخر کار ساریپُت اور موگلان نے مہاتما بدھ کی جماعت چھوڑ کر جانے والے بھکشوؤں کو پھر سے لوٹ آنے پر آمادہ کیا۔

ایسا لگتا ہے کہ دیودت کو اپنے اعمال پر پچھتاوا ہوا مگر مہاتما بدھ کی طرف سے معاف کیے جانے سے پہلے ہی اس کا انتقال ہوگیا۔ مہاتما بدھ نے کبھی بھی اس کے لیے اپنے دل میں کسی طرح کی بدگمانی یا بدخواہی کو جگہ نہیں دی۔ راجہ اجاتستو کو بھی اپنے باپ کو قتل کرنے کا افسوس ہوا اور شاہی طبیب جیوکا کی صلاح پر اس نے مہاتما بدھ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور پشیمانی ظاہر کی۔

تقریباً ایک سال بعد، مہاتما بدھ ایک بار پھر اپنے آبائی علاقے ساکیہ کے سفر پر گئے۔ مہاتما بدھ کے سامنے آداب بجا لانے کی غرض سے راجہ پاسیناڈی کی آمد کے دوران، جنرل کاراین نے ایک محاصرے کا ڈول ڈالا اور کوسل کی راج گدّی پر ودادبھ کو بٹھا دیا۔ معزول راجہ پاسیناڈی نے یہ دیکھ کر کہ اس کے پاس واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہے، اپنے بھتیجے اور داماد راجہ اجاتستو کو راج گہہ میں پناہ دلانے کے لیے مگدھ کی طرف فرار کی راہ اختیار کی۔ بہر حال، پاسیناڈی کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں ملی اور اگلے روز اسے مردہ حالت میں پایا گیا۔

اس دوران میں کوسل کے نئے راجہ ودادبھ نے اپنے دادا مہانام کے نسب نامے میں دھوکے کا بدلہ لینے کے لیے ساکیہ کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔ آپ یاد کیجیے کہ مہانام مہاتما بدھ کا عم زاد اور ساکیہ کا گورنر تھا۔ گو کہ مہاتما بدھ نے تین مرتبہ راجہ کو قتل کرنا چاہا تا کہ وہ حملہ نہ کرے مگر ان کی یہ کوشش بالآخر ناکام رہی۔ کوسل سپاہیوں کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ساکیہ کے دارالسلطنت کپل واتھوکے تمام باشندوں کو ہلاک کر دیں۔ اس قتل عام کو روکنے میں ناکام ہو کر، مہاتما بدھ نے اسی طرح جیسے پاسیناڈی نے ان سے پہلے ناکامی کے ساتھ کیا تھا، مگدھ میں راج گہہ کی طرف فرار کا راستہ اپنایا تا کہ وہاں انہیں راجہ اجاتستو کی پناہ مل جائے۔

مگدھ کو جانے والی سڑک جمہوریہٴ وجّی سے ہو کر گزرتی تھی جہاں مہاتما بدھ کے سب سے قریبی شاگرد ساریپُت دارالسلطنت ویسالی میں ان کی راہ دیکھ رہے تھے۔ وہاں بہر حال مہاتما بدھ کا ایک سابق خدمت گار سوناکت جو ویسالی کا ایک امیر تھا اور پہلے ہی اپنا بھکشوؤں والا رسمی لباس ﴿بھوشا﴾ ترک کرکے بودھی فرقے سے علیحدگی اختیار کرچکا تھا، اس نے وجّی کی پارلیمنٹ میں مہاتما بدھ کو بدنام کیا تھا۔ انہیں اس نے یہ بتایا کہ مہاتما بدھ کو کسی قسم کی فوق انسانی طاقتیں حاصل نہیں ہیں۔ اور وہ صرف منطق کے مطابق اس طرح کی تعلیمات دیتے ہیں کہ خواہشات پر قابو کیونکر پایا جائے لیکن یہ نہیں سکھاتے کہ ماورائی کیفیتوں تک رسائی کیسے حاصل کی جائے۔ مہاتما بدھ نے ان باتوں کو اپنی ستائش کے طور پر دیکھا۔ تاہم یہ الزام تراشی اور شاید اسی وقت راہباؤں کے سلسلے کا قیام مہاتما بدھ کی حمایت میں تخفیف کا اور وجّی میں ان کا مقام و مرتبے میں فرق آنے کا سبب بنا۔ نتیجتاً مہاتما بدھ نے گنگا کو پار کر کے راج گہہ کی راہ پکڑی جہاں وہ قریب ہی واقع گجھا کوٹ یعنی گدھ کی چوٹی کی گپھاؤں میں مقیم رہے۔

راجہ اجاتستو کا وزیراعظم وساکر مہاتما بدھ سے ملاقات کے لیے آیا۔ اس نے انہیں اجاتستو کے اپنی سلطنت کو وسعت دینے اور جلد ہی جمہوریہٴ وجّی پر حملہ کرنے کے ارادے کی خبر دی۔ اگرچہ مہاتما بدھ نے مشورہ دیا کہ وجّی کے باشندوں پر طاقت کے ذریعے فتح نہیں پائی جاسکے گی، تاہم وہ اپنے روایتی معزز طور طریقوں کو برقرار رکھیں گے۔ لیکن پھر بھی وہ متوقع جنگ کو چھیڑے جانے سے روکنے میں ناکام رہے جیسا کہ ساکیہ پر کوسل حملے کے سلسلے میں پہلے بھی واقع ہوچکا تھا۔ مزید نقصان یہ ہوا کہ تقریباً اسی وقت مہاتما بدھ کے عزیز ترین شاگرد ساریپُت اور موگلان ، دونوں کا انتقال ہوگیا۔ سن رسیدہ ساریپُت تو بیماری کی بھینٹ چڑھے اور موگلان کو ایک الگ تھلگ ٹھکانے پر ڈاکوؤں نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔

مگدھ میں کوئی بھی ہمدردی یا حمایت نہ ملنے کے باعث مہاتما بدھ نے ایک بار پھر شمال کی طرف واپسی کا فیصلہ کیا، غالباً اپنے وطن مالوف ساکیہ لوٹ آنے کا ، شاید یہ دیکھنے کے لیے کہ کوسل کے حملے کے بعد وہاں کیا کچھ بچ رہا ہے۔ روانہ ہونے سے پہلے مہاتما بدھ نے آنند سے کہا کہ گدھ کی چوٹی پر وہ تمام بھکشوؤں کو جمع کریں جہاں وہ انہیں اپنی آخری نصیحت دیں گے۔ مہاتما بدھ نے انہیں یہ ہدایت دی کہ اپنی خانقاہی برادری کو وجّی کی پارلیمنٹ کے نمونے پر جمہوری انداز میں مرتب کریں۔ آپس میں مل جل کر رہیں، اپنی بھکشا کو مل بانٹ کر استمعال کریں اور اپنے بڑوں کا احترام کریں۔

مہاتما بدھ نے جلد ہی گدھ کی چوٹی اور مگدھ کو خیر باد کہا اور ویسالی میں جمہوریہٴ وجّی تک پہنچنے کے بعد برسات کا موسم اپنے ٹھکانے پر گزارنے کے لیے وہاں قیام پذیر ہوگئے۔ انہوں نے دیکھا کہ سر پر منڈلاتی ہوئی جنگ کے خطرے کے باوجود سارا معاشرہ انحطاط میں ڈوب چلا ہے۔ وجّی پارلیمنٹ میں اپنے لیے بدگمانی کی فضا دیکھتے ہوئے، مہاتما بدھ نے برسات کا زمانہ اکیلے گزارا اور بھکشوؤں سے کہا کہ وہ اپنے دوستوں یا حمایتیوں میں اپنے ٹھکانے کا بندوبست کرلیں۔

بارش کے دنوں میں اکیاسی سالہ مہاتما بدھ شدید طور پر بیمار پڑ گئے اور موت کے دہانے تک جا پہنچے۔ آنند نے ان سے کہا کہ بھکشوؤں کو وہ ایک آخری نصیحت دیں۔ مہاتما بدھ نے جواب دیا کہ وہ جو کچھ بھی جانتے تھے، سب بتا چکے ہیں اور آئندہ دنوں میں ان کی تعلیمات کو بجائے خود بھکشوؤں کے لیے ایک پناہ گاہ اور ہدایت کا وسیلہ ہونا چا ہیے۔ دکھ سے مُکش کے لیے انہیں یہ تعلیمات اپنے اندر اتار لینی چاہئیں اور اپنے تحفظ کے لیے کسی قائد یا فرقے کی طرف نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس کے بعد مہاتما بدھ نے اعلان کیا کہ وہ جلد ہی مرجائیں گے۔

اپنے عم زاد شاگردوں، آنند اور انورُدھ کے ساتھ، ایک بار پھر برسات کے بعد مہاتما بدھ سفر پر نکل پڑے۔ ساکیہ کی سمت جاتے ہوئے یہ لوگ پوا میں ٹھہرے جو مللا کے دو بڑے شہروں میں سے ایک تھا۔ وہاں ایک لوہار عورت نے جس کا نام چنڈا تھا انہیں سور کا زہریلا گوشت پیش کیا۔ اس شک کے ساتھ کہ کہیں کچھ گڑبڑ ہے، مہاتما بدھ نے اپنے عم زادوں سے کہا کہ وہ اس گوشت کو نہ کھائیں۔ مگر خود اسے کھا گئے اور ہدایت دی کہ باقی بچا گوشت زمین میں گاڑ دیں۔ مللا جنرل کاراین کا وطن تھا جس نے ساکیہ میں قتل عام کی قیادت کی تھی، اوربہت ممکن ہے کہ وہ زہر آنند کے لیے رہا ہو جسے یہ شہرت حاصل تھی کہ اس نے مہاتما بدھ کی تمام تعلیمات کو حفظ کرلیا ہے۔ اگرآنند کو مار دیا جائے تو مہاتما بدھ کی تعلیمات اور ان کا فرقہ کبھی ابھر نہ پائے گا۔

شدید خون آلود پیچش میں مبتلا، مہاتما بدھ نے آنند سے کہا کہ انہیں پاس ہی کسینار لے جایا جائے۔ وہاں دو درختوں کے درمیان لگائے گئے ایک بستر پر لیٹے ہوئے، مہاتما بدھ نے اپنے ساتھ کے کچھ بھکشوؤں سے پوچھا کہ کیا ان کے من میں ابھی کچھ اور سوال یا شکوک تو نہیں ہیں۔ صدمے سے مغلوب ہوکر آنند اور دوسرے بھکشو بس چپ رہے۔ پھر ۴۸۵ سال قبل مسیح میں، اکیاسی برس کی عمر کو پہنچ کر مہاتما بدھ کا انتقال ہوگیا۔

مہاتما بدھ کی آخری رسوم کی ادائیگی سے ٹھیک پہلے پوا سے بھکشوؤں کا ایک گروہ آیا۔ ان کی سر براہی مہاکسپ کر رہا تھا جس کا اصرار اس بات پر تھا کہ آخری رسوم کو اس وقت تک کے لیے موقوف کر دیا جائے جب تک کہ وہ لوگ اپنا آخری نذرانہٴ عقیدت پیش نہ کرلیں۔ مہاکسپ مگدھ کا رہنے والا ایک برہمن تھا اور کچھ ہی برس پہلے اپنے بڑھاپے میں بھکشو بن گیا تھا۔ مہاتما بدھ نے اس سے اپنی پہلی ملاقات کے موقع پر، اس برہمن کے نئے ملبوسات کے بدلے میں اسے اپنے پہنے ہوئے پرانے کپڑے دے دیے تھے۔ بعد میں، مہاتما بدھ کے لباس کی یہ پیش کش، اختیار کی منتقلی اور بودھی بزرگوں کے ایک سلسلے کی شروعات سے تعبیر کی گئی۔

بہرحال، مہاتما بدھ نے کئی موقعوں پر، اپنے شاگردوں سے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ ان کے انتقال کے بعد، ”دھرم” ہی خود ان کے معلم کا فریضہ انجام دے گا۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا فرقہ وجّی کے پارلیمانی طریق کے نمونے پر اپنا کام کرتا رہے۔ ان کی منشا اپنے فرقے کے لیے یہ نہیں تھی کہ وہ کوسل اور مگدھ کی ریاستوں کے نمونے پر اپنے آپ کو ڈھالے اور کسی ایک بھکشو کو اپنا سردار مقرر کرلے۔

اس سب کے باوجود، مہاتما بدھ کے رخصت ہوجانے کے بعد ایسا لگتا ہے کہ مہاکسپ اور آنند کے مابین اقتدار کی ایک کشمکش شروع ہوگئی تھی، دوسرے لفظوں میں، ایک ایسی کشمکش جو گورو سے چیلے کی طرف مطلق العنان اقتدار کی منتقلی کے ایک روایتی ہندوستانی نظام اور چھوٹی برادریوں کی طرح رہنے والے نیز معینہ رسوم و ضوابط کے مطابق زندگی گزارنے والے دریوزہ گر بھکشوؤں کے مساوات پر مبنی نظام کے مابین شروع ہوگئی تھی۔ جیت مہاکسپ کے حصے میں آئی۔

مہاتما بدھ کی آخری رسوم کی ادائیگی اور باقیات کے بٹوارے کے بعد، بھکشوؤں نے مہاکسپ کی اس تجویز پر رضامندی ظاہر کی کہ اگلی برسات کے موسم میں مہاتما بدھ کی دی ہوئی تعلیمات کو یکجا کرنے، ان کی تصدیق کرنے اور ان کی ضابطہ بندی کرنے کے لیے راج گہہ میں ایک مجلس کا انعقاد کیا جائے۔ جن بزرگوں کو اس مجلس میں شریک ہونا تھا ان کا انتخاب مہاکسپ کو کرنا تھا، اس نے صرف آرہتی بھکشوؤں کا انتخاب کیا، یعنی کہ وہ لوگ جو مُکش کے حصول کی منزل تک رسائی پا چکے تھے، اور ان کی کل تعداد ۴۹۹ تھی۔ پہلے پہل مہاکسپ نے آنند کو اس بنیاد پر شامل نہیں کیا تھا کہ اس نے ابھی آرہتی منصب ﴿نروان﴾ حاصل نہیں کیا تھا۔ ہرچند کہ آنند کو مہاتما بدھ کے مواعظ سب سے زیادہ حفظ تھے، اسے الگ کر دیا گیا تھا۔ آنند مہاتما بدھ کی اس خواہش کا ایک مضبوط حامی اور کھلی ترجمانی کرنے والا تھا کہ مہاتما بدھ کے قائم کردہ سلسلے کا ایک اکیلا قائد نہیں ہونا چاہیے۔ آنند کے لیے مہاکسپ کی ناپسندیدگی کا شاید ایک اور سبب یہ واقعہ تھا کہ آنند ہی نے مہاتما بدھ کو اپنے مسلک میں عورتوں کے داخلے پر قائل کیا تھا۔ اس واقعے نے مہاکسپ کے رجعت پسندانہ اور سخت گیر برہمنی پس منظر کو مجروح کیا ہوگا۔ بہر حال، بعد میں جب خانقاہی بزرگوں نے آنند کو باہر رکھے جانے کے خلاف احتجاج کیا تو مہاکسپ نے سپر ڈال دی اور آنند کو مجلس میں شرکت کی اجازت دے دی۔ تھرواد میں درج شہادت کے مطابق آنند نے مجلس کے انعقاد سے عین قبل والی رات کو آرہتی منصب حاصل کرلیا تھا۔

بہرحال، کونسل کے اجلاس کا انتظار کرتے وقت، آنند کی ملاقات راجہ اجاتستو کے وزیر اعظم وساکر سے ہوئی۔ اس سے آنند کو یہ پتہ چلا کہ مگدھ کی فوجیں وجّی پر حملے کی جو تیاریاں کر رہی تھیں، ان کے علاوہ وہ اونتی ایک مملکت جو مگدھ کے مغرب میں واقع تھی، وہاں کے راجہ پجوت کی جانب سے ایک متوقع حملے کے لیے بھی خود کو تیار کر رہی تھیں۔ اس طرح، اگرچہ مہاتما بدھ کو اس مقام پر اپنے فرقے کی سربراہی کے لیے بزرگوں کی کسی صف کی تقرری کا خیال نہیں آیا تھا، تاہم، مہاکسپ کا خود ہی سربراہ کا رول اپنے ہاتھ میں لے لینا، بلاشبہ ان خطرات سے بھرے ہوئے اور غیر یقینی وقتوں میں، مہاتما بدھ کی تعلیمات اور خانقاہی برادری کی بقا کے لیے معاون ثابت ہوا۔

پہلی بودھی مجلس میں جس کا انعقاد ستیپنیگوہا ﴿سات پتوں کی گپھا﴾، راج گہہ کے قریب ہوا، اس میں پانچ سو آرہتوں نے شرکت کی۔ آنند نے اپنے حافظے سے بیشتر سوتّوں اور اوپالی کی قرآت کی، ونایا خانقاہی آداب اور ضابطوں کو پڑھ کر سنایا۔ اس مجلس کا جو بیان تھرواد میں ملتا ہے، اس کےمطابق ابھیدھم ام تعلیمات جو علم کے خاص موضوعات پر مبنی تھیں، اس وقت نہیں پڑھی گئیں۔ بہر حال، سرواستیواد کی روایت کے اندر وائبھاشک کا بیان مہاکسپ نے تھوڑا سا سنایا تھا، ساری ابھیدھم تعلیمات نہیں سنائی تھیں۔ لیکن ساؤتراتک دعووں کے مطابق، یہ ابھیدھم تعلیمات درحقیقت مہاتما بدھ کے اپنے لفظوں پر مشتمل نہیں تھیں بلکہ انہیں آرہتوں میں سے سات لوگوں نے ترتیب دیا تھا۔

تبتی روایتوں کے مطابق، مہاکسپ نے سات سرداروں یا بزرگوں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ چین کی "چان" روایات، اور ان کے بعد کوریائی "سون" اور جاپان کی "زین" روایتیں ہندوستان میں اٹھائیس سرداران قبیلہ کے ایک سلسلے کا پتہ دیتی ہیں جس کے ساتھ بودھیدھرم کی جگہ اٹھائیسویں ہے۔ بودھیدھرم وہ ہندوستانی استاد تھا جس نے چان تعلیمات چین تک پہنچائیں۔ جنوبی ایشیا میں اسے پہلے چان بزرگ خاندان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

اس تفصیل کا خلاصہ یہ ہے کہ تھروادیوں کے پالی ادبی علوم مہاتما بدھ کی ایک ایسی شبیہہ سے پردہ اٹھاتے ہیں جو ایک کرشمائی، تقریباً پوری طرح ایک المیہ روحانی پیشوا کی ہے، جس نے انتہائی مشکل حالات میں رہتے ہوئے اپنے شاگردوں اور نام لیواؤں کے مسلسل بڑھتے پھیلتے گروہ کو سنبھالنے اور سہارا دینے کے جتن کیے۔ اسے قدم قدم پر سیاسی سازشوں، متعدد جنگوں، ہم وطنوں کے قتل عام، اس کے علاوہ ایک پارلیمنٹ کے روبرو اپنی شخصی اہانت، اپنی قائدانہ حیثیت کے خلاف خود اپنے ہی پیروکاروں میں سے ایک باغی گروہ کی مخالفت اور چیلنج، اور آخر میں زہر خورانی کے باعث اپنی موت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سب کے باوجود، مہاتما بدھ نے ان تمام آزمائشوں سے گزرتے ہوئے اپنا ذہنی سکون برقرار رکھا اور ہمت نہیں ہاری۔ ان چھیالیس برسوں کے دوران، جن میں روشن ضمیری کی حصولیابی کے بعد، مہاتما بدھ درس دیتے رہے تھے، اپنے اس عہد میں وہ ثابت قدم رہے کہ انہیں دنیا کو، بہرحال، مُکش اور روشن ضمیری کی راہ دکھانی ہے۔