ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > روحانی رہنما اور گرو > گامپوپا اپنی روحانی کامرانیوں تک کیونکر پہنچے

گامپوپا اپنی روحانی کامرانیوں تک کیونکر پہنچے

گَیشے نگاوانگ دھارگیئے
زبانی ترجمہ بذریعہ لوبسانگ گلسٹن
دھرمشالہ، ہندوستان، ۱۹۷۹ء
تدوین بذریعہ سمایا ہارٹ اور الیگزینڈر برزن، نومبر ۲۰۰۳ء

"مُکش کا ہیروں والا زیور" کو کدم اور مہا مُدرا روایتوں کی مشترکہ روکا نام دیا جاتا ہے۔ اس کے مصنف، گامپوپا (۱۷۹۰ء – ۱۱۵۳ء) کے متعدد کدمپا اساتذہ تھے جنھوں نے ان کو اپنے سلسلے کی رسوم اور تصورات کی تعلیم دی۔ اپنے گُرو میلاریپا (۱۰۴۰ء – ۱۱۲۳ء) سے مہامُدرا روایتوں اور تعلیمات کی حصولیابی کے بعد گامپوپا نے دونوں لہروں کی تعلیمات کو ملا کر ایک کر دیا۔

اس تصنیف کے مطالعے اور تحسین کے لیے، ہمیں اس کے مصنف گامپوپا کے بارے میں کسی قدر جانکاری حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ مصنف کے سوانح کی تاریخ کے بغیر، ان تعلیمات کا مفہوم ادھورا رہے گا۔ ہمیں ضرورت ہے گامپوپا سے مانوس ہونے اور گامپوپا کو ایک ایسے شخص کے طور پر جاننے کی جس نے واقعتاً ایک معمولی آدمی کی زندگی گزاری اور جس نے، اپنی مشقوں کے ذریعے اصل روحانی کامرانیوں کا حصول کیا۔ یہ تعلیمات ان کے دھرم کے تجربے اور مشق کا حاصل ہیں۔

پیشین گوئیاں

اس سے پہلے کہ میلاریپا اپنے مختلف شاگردوں سے ملتے، انھوں نے عالم خیال میں بودھ کی شبیہہ وجریوگنی کی زیارت کی جس نے یہ پیشن گوئی کی کہ عنقریب ہی وہ ایک خورشید مثال شاگرد، ایک قمر مثال شاگرد اور بہت سے ایسے شاگردوں سے ملیں گے جو آسمان میں نجوم کی مثال ہوں گے۔ خورشید مثال شاگرد گامپوپا تھے جنھیں داگپو کا عظیم ڈاکٹر کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ وہ ریچونگپا (۱۰۸۴ء – ۱۱۶۱ء) میلاریپا کے خصوصی شاگردوں میں سے ایک کےمرتبے تک پہنچے۔

گامپوپا کوئی معمولی انسان نہیں تھے۔ اس زماں اور کائنات میں ان کی موجودگی کی پیشین گوئی، بہت سے سوتروں، بالخصوص "سفید کنول کے سوتر" میں پائی جاتی ہے جس میں مندرجہ ذیل انداز میں، صاف طور پر یہ کہا گیا ہے۔

ایک روز، بودھ شاکیہمُنی کےعہد میں، بودھ اپنے شاگرد آنند کی جانب مڑے اور کہا، "آنند، پرِنروان میں میرے داخلے کے بعد اس نصف کرے کی شمال سمت میں، ایک مسلم الثبوت بھکشو سامنے آئے گا جسے بھکشو ڈاکٹر کے طور پر جانا جائے گا۔" گامپوپا ایک بھکشو تھے، ایک ماہر طبیب تھے جن کے اندر علاج معالجے کی فطری استعداد پائی جاتی تھی۔ "وہ ایک ایسے شخص ہوں گے جو دھرم کے لیے مکمل طور پر وقف کی گئی بہت سی سابقہ زندگیوں کے تجربے سے گزر چکا ہوگا اور جس کے بہت سے روحانی اساتذہ رہ چکے ہوں گے۔"

خانہ داری کی زندگی

گامپوپا تبت کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں پیدا ہوئے جو نیپال کی سرحد کے قریب، داگپو کے جنوبی علاقے میں واقع ہے، ان کے والد اُس گاؤں کے ایک انتہائی نامور طبیب تھے۔ ان کے والدین نے دو بیٹوں کو جنم دیا اور ان میں گامپوپا عمر میں بڑے تھے۔ ایک بچے کے طور پر، گامپوپا نہایت ہوشیار تھے۔ انھوں نے اپنے والد کے پیشے کی تربیت حاصل کی اور خود بھی ایک زبردست طبیب بن گئے۔ جب وہ تقریباً پندرہ برس کی عمر کے تھے، انھوں نے بہت سے نیئنگما صحائف کا مطالعہ کیا اور اس طرح نیئنگما روایت کا زبردست علم حاصل کیا۔ انھوں نے بہت سے روحانی مطالعات کی جستجو کی اور بائیس برس کی عمر کو پہنچنے پر، انھوں نے چوگمی سے شادی کر لی جو پڑوس کے ایک گاؤں کے نہایت متمول خاندان کی بیٹی تھیں۔ شادی کے بعد ان کے یہاں ایک بیٹے اور ایک بیٹی نے جنم لیا۔

کچھہ برسوں کے بعد، اچانک ان کا بیٹا چل بسا۔ اپنے بیٹے کی میت کے ساتھہ گامپوپا قبرستان گئے اور اس علاقے کی رسوم کے مطابق فرائض انجام دیے۔ رسوم میت کی ادایگی کے بعد جب وہ گھر لوٹے تو دیکھا کہ ان کی بیٹی بھی چل بسی ہے۔ بیٹی کی موت کو ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ ان کی بیوی متعدد بیماریوں میں مبتلا ہوگئیں۔ گامپوپا چونکہ خود بھی ایک طبیب تھے، انھوں نے بیوی کو ہر طرح کی دوائیں دیں، دوسرے ڈاکٹروں سے مشورہ کیا اور ان کی صحت یابی کے لیے طرح طرح کی پوجائیں انجام دیں، لیکن کوئی بھی کوشش کارگر نہ ہوئی۔ جیسے جیسے ان کی حالت بگڑتی گئی، وہ نا امید ہوتے گئے۔ بالآخر، گامپوپا ان کے بستر پر بیٹھہ گئے اور ان کی موت کے لیے تیاری کے طور پر ایک سوتر پڑھا۔ مگر وہ مر نہ سکیں۔

گامپوپا حیران تھے کہ وہ مریں کیوں نہیں؟ انھیں موت سے کس نے بچا رکھا ہے؟ آخر وہ کون سی شے ہے جسے وہ اس زندگی میں چھوڑ نہیں پا رہی ہیں، ایک ایسی زندگی میں جو امید سے خالی ہے، جس میں صرف ایک مسلسل درد اور اذیت کا امکان ہے۔ بیماری سے نڈھال، بستر پر پڑی ہوئی بیوی کے لیے ان کے دل میں شدید دردمندی کا جذبہ پیدا ہوا اور گامپوپا نے کہا، "تمھارے علاج کے لیے میں نے ہر ممکن کوشش کر لی، بہت سے ڈاکٹروں کو آزما لیا اور تمھاری صحت یابی کے لیے ہر طرح کی دعائیں کیں، رسمیں انجام دیں، لیکن وہ سب بیکار گئیں۔ وہ تمھارے پچھلے اعمال کی وجہ سے کارگر نہ ہو سکیں۔ ہماری سابقہ زندگیوں کی کرمی طاقتوں اور دعاؤں نے تمہیں اور مجھے متحد کر رکھا ہے۔ لیکن اب ، گو کہ تمھارے لیے میرے دل میں نہایت درجہ شفقت اور محبت بھری ہوئی ہے، میں یہ ضرور جاننا چاہوں گا کہ وہ کون سی شے ہے جس نے تمھیں یہاں روک رکھا ہے؟ کوئی ایسی دولت جو ہمارے گھر میں رکھی ہوئی ہے، کوئی مال و متاع جو ہم نے مل کر جمع کیا ہو، اگر وہ تمھیں روک رہے ہوں یا اگر ان میں سے کسی کے لیے بہت زیادہ چاہت ہو، تو میں وہ سب کچھہ دان کروں گا۔ میں انھیں بیچ ڈالوں گا یا کسی خانقاہ کو نذرانے کے طور پر پیش کروں گا، یا پھر غریبوں محتاجوں میں بانٹ دوں گا۔ میں ان تمام چیزوں سے پیچھا چھڑا لوں گا جو تمھیں مرنے سے روک رہی ہیں۔ تم مجھہ سے جو بھی چاہوگی، وہی کروں گا۔"

چوگ می نے جواب دیا، "مجھے دھن دولت کا یا اس گھر کی کسی چیز کا لوبھ نہیں ہے۔ یہاں ایسا کچھہ بھی نہیں جس نے مجھے روک رکھا ہو۔ مجھے سب سے زیادہ فکر تمہارے مستقبل کی ہے اور اسی کے کارن میں مر نہیں پا رہی ہوں! میری موت کے بعد تمھارے لیے یہ آسان ہوگا کہ تم پھر سے بیاہ کر لو، بہت سی بیٹیاں اور بیٹے پیدا کرو، ہم دونوں نے جتنے بچے پیدا کیے تھے اس سے زیادہ! لیکن، میں یہ دیکھہ رہی ہوں کہ اس طرح کا جیون تمھارے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے تمھارے لیے میری چنتا زیادہ ہے! اگر تم یہ وعدہ کرو کہ اس طرح کی زندگی گزارنے کے بجائے تم پوری طرح خود کو دھرم کے لیے وقف کر دوگے۔ کیونکہ یہ سب سے موثر اور معقول طریقہ ہے تمام ذی شعور لوگوں کے لیے اپنی اور دوسروں کی خوشی کے حصول کا، جبھی میں سکون کے ساتھہ اس زندگی کو تیاگ سکوں گی۔ ورنہ تو میں بہت دنوں تک اسی حال میں پڑی رہوں گی!"

"اگر یہ معاملہ ہے تو پھر" گامپوپا نے کہا، "میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے بس بھر میں دھرم کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دوں گا اور زندگی کی اس روش کو بھی تیاگ دوں گا۔"

چوگمی نے جواب دیا- "گرچہ مجھے تم پر بھروسہ ہے، پھر بھی پوری طرح طمانیت اور اپنے عہد کا یقین دلانے کے لیے، تم ایک گواہ لے آؤ!"

گامپوپا نے اپنے چچا سے اپنے اس عہد کا گواہ بننے کو کہا۔ اپنی محبوب بیوی کے سامنے، چچا کے ساتھہ گواہ کے طور پر کھڑے ہوئے، گامپوپا نے اپنی قسم دوہرائی کہ وہ اپنا جیون دھرم کے لیے وقف کر دیں گے۔ اس سے چوگمی بہت خوش ہوئیں اور بولیں-" اپنی موت کے بعد بھی، میں تمھاری دیکھہ بھال کرتی رہوں گی!" یہ کہتے کہتے، شوہر کا ہاتھہ اپنے ہاتھہ میں لیے، آنکھوں میں بہت سے آنسو بھرے ہوئے، چوگ می رخصت ہو گئیں۔

گامپوپا نے اپنی بیوی کی آخری رسوم کی ادایگی کا اہتمام بڑے پیمانے پر کیا۔ راکھہ، ہڈیوں اور مٹی کو گوندھ کر انھوں نے بھینٹ چڑھانے والی بہت سی تختیاں بنائیں جن پر روشن ضمیروں کے مجسموں کی شبیہہ اتاری گئی تھی۔ بیوی کے اعزاز میں انھوں نے جو استوپا تعمیر کروایا، "چوگمی کا ستوپ"، ابھی بھی تبت میں موجود ہے۔

اب کہ گامپوپا اکیلے رہ گئے تھے، انھوں نے اپنا سارا سرمایہ دو برابر حصوں میں تقسیم کیا۔ ایک حصہ فروخت کر دیا، اور اس رقم سے تین جواہرات کو نذرانے پیش کیے اور غریبوں، محتاجوں میں خیرات تقسیم کردی۔ دوسرا حصہ انھوں نے اپنی کفالت اور مذہبی رسوم کی ادایگی کے لیے رکھہ لیا۔

ایک روز، اُن کے چچا جو چوگمی کے سامنے گامپوپا کے عہد کے وقت گواہ بنے تھے، ملاقات کے لیے آئے، اس خیال کےساتھہ کہ وہ ابھی تک اپنی محبوب بیوی کے سوگ میں ہوں گے۔ وہ انھیں کچھہ مشورہ دینے، ان کا دکھہ بانٹنے اور یہ دلاسا دینے کے لیے آئے تھے کہ کرم کے قانون کی روشنی میں اس طرح کی صورت حال سے کیونکر عہدہ برآ ہوا جا سکتا ہے۔

گامپوپا نے جواب دیا کہ وہ ذرا بھی متفکر نہیں ہیں۔ اس کے برعکس، وہ خاصے خوش ہیں کہ ان کی بیوی چل بسیں۔ چچا کو یہ سن کر بہت غصہ آیا اور انھوں نے مٹھی بھر دھول اٹھا کرگامپوپا کے چہرے پر پھینک دی۔ وہ چیخ کر بولے، "کیا مطلب ہے تمھارا؟" تمہیں اس سے بہتر بیوی نہیں مل سکتی تھی۔ اتنی خوبصورت ہستی!"

اپنے چچا کے اس اشتعال پر حیران ہوتے ہوئے گامپوپا نے سوال کیا، " آخر کیسے گواہ ہیں آپ؟ کیا آپ اس وقت موجود نہیں تھے جب میں نے دھرم کی مشقوں کو اختیار کر لینے کا عہد کیا تھا؟ کیا آپ اس وقت سن نہیں رہے تھے؟" اس پر چچا کو بہت شرمندگی کا احساس ہوا اور بولے، " ہاں! یہ بالکل صحیح ہے۔ گرچہ میں ایک بوڑھا شخص ہوں، مجھے دھرم کی مشقوں کو جاری رکھنا یاد نہیں رہتا، لیکن تم عمر میں مجھہ سے بہت چھوٹے ہو، پھر بھی تمھارے اندر روحانی سفر کے راستے پرچلتے رہنے کا اتنا حوصلہ ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوگی اگر میں کسی بھی طریقے سے تمھارے کچھہ کام آسکوں!"

بھکشو بننا اور کدم گروؤں کے ساتھہ پڑھنا

ایک دن، گامپوپا نے بڑی مقدار میں کھانے پینے کی چیزوں اور کپڑے لتّے کا ذخیرہ جمع کیا، یہ فیصلہ کرتے ہوئے کہ اب سے آگے وہ خلوت گزینی کی زندگی گزاریں گے۔ اپنے رشتے داروں یا دوستوں سے ایک لفظ بھی کہے بغیر، انھوں نے اپنے وطن کو خیرباد کہا اور پھینپو کے علاقے کی طرف چل پڑے، ایک گرو یا مرشد کی تلاش میں۔

اس کے بعد، جلد ہی ان کی ملاقات شاوا-لِنگپا سے ہوئی، جو کدم روایت سے وابستہ ایک شفیق استاد تھے۔ گامپوپا نے ان سے ابتدائی مرحلے کے ساتھہ ساتھہ مکمل طور پر بھکشو بننے سے پہلے جو عہد کیے جاتے ہیں، انھیں جاننے کی درخواست کی۔ استاد نے عہد دلانے کے بعد انھیں سونم-رنچن کا نام عطا کیا۔ ایک بھکشو کی حیثیت سے، انھوں نے کدمپا گَیشوں کے ایک سلسلے کی مشقوں کو گہرائی کے ساتھہ انجام دینے کے علاوہ، ان عظیم گروؤں کی معیت میں مراقبے اور مطالعے کی خوب مشق کی۔ اکثر تو وہ کئی کئی روز تک کچھہ کھائے اور پانی کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتارے بغیر، مراقبہ کے مکمل ارتکاز کی نشاط بخش اور طبیعی کیفیت میں ڈوبے رہتے۔ اس ریاضت کے نتیجے میں گامپوپا مکمل ارتکاز کے ساتھہ سمادھی لگانے کی مشق میں اس سطح تک جا پہنچے، جہاں وہ لگاتار سات روز تک مراقبے میں بیٹھے رہ سکتے تھے۔

اس طرح گامپوپا، اپنے گرو میلاریپا کی تلاش میں روانہ ہونے سے پہلے ہی اپنی دھرم کی مشق کے معاملے میں اچھی خاصی بصیرت اور اعتماد حاصل کر چکے تھے۔ انھوں نے کدم تعلیمات پر مکمل گرفت اور مہارت بہم پہنچا لی تھی اور غیر معمولی خوابوں، مثلاً یہ کہ وہ دسویں سطح کے بودھی-ستوا ہیں، ان سے بہرہ یاب ہو چکے تھے۔ ایک خواب وہ بار بار دیکھتے تھے کہ ایک نیل فام یوگی، ہاتھہ میں چھڑی لیے آتا ہے، اپنا دایاں ہاتھہ ان کے سر پر رکھتا ہے اور کبھی کبھی ان پر تھوک دیتا ہے۔ یہ سوچ کر کہ اس عجیب و غریب خواب کا اشارہ کسی ایسی مضرت رساں روح کی طرف ہے، جو اُن کی دھرم سے متعلق مشق میں بڑی حد تک مداخلت کرنے اور روکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، انھوں نے اچل یعنی کہ وہ جسے جنبش نہ دی جا سکے کی مدرا میں مراقبے یا پناہ لینے کی شدید ریاضت انجام دی۔ "اچل" ایک ڈراؤنی شبیہہ ہے جسے روحانی مشق میں مزاحم ہونے والی تمام طاقتوں کو ختم کر دینے یا جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی کدم روایت میں خصوصی طور پر اختیار کیا جاتا ہے۔ بہر نوع، مراقبے میں جانے کے اس اقدام کے بعد، یہی خواب پہلے سے زیادہ تواتر کےساتھہ، اور ہمیشہ سے زیادہ مستحکم اور مفصل طور پر دکھائی دینے لگا۔ گامپوپا کو یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ اس خواب کا اشارہ یہ ہے کہ جلد ہی وہ اپنے آئندہ گرو، عظیم یوگی میلاریپا سے ملنے والے ہیں۔

میلاریپا سے ملاقات

گامپوپا نے میلاریپا کا نام پہلی بار اس وقت سنا جب وہ سڑک کے کنارے واقع ایک استوپا کا طواف کر رہے تھے اور تین بھکاریوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی آواز ان تک پہنچ رہی تھی۔ ان بھکاریوں میں سے ایک ہر وقت ملک میں پھیلی ہوئی خشک سالی کا رونا روتا رہتا تھا اور یہ کہتا رہتا تھا کہ کس طرح بہت دنوں سے وہ فاقہ کر رہا ہے۔ دوسرے نے جواباً یہ کہا کہ ہمیں اپنے آپ پر شرم کرنی چاہیے اور اس طرح آٹھوں پہر کھانے کی رٹ نہیں لگانی چاہیے، تاآنکہ استوپا کے طواف میں مصروف بھکشو تک ان کی آواز نہ پہنچ جائے جو نہایت اہانت آمیز بات ہوگی۔ "علاوہ ازیں" اس نے کہا، "صرف ہم لوگ ہی بھوکے نہیں ہیں جن کے پاس کھانے کو کچھہ بھی نہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک مشہور و معروف درویش یوگی، میلاریپا بھی ہے جو کبھی کھانے دانے کو ہاتھہ بھی نہیں لگاتا، پہاڑوں میں رہتا ہے اور جس نے اپنے آپ کو، کلی طور پر دھرم کی مشق کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ وہ کبھی کھانے سے محرومی کی شکایت نہیں کرتا۔ ہم سب کو یہ مخلصانہ دعا کرنی چاہیے کہ ہم بھی اسی کی جیسی زندگی گزار سکیں۔"

میلاریپا کا نام سننے کے بعد گامپوپا کو زبردست طمانیت اور خوشی کا احساس ہوا۔ انھوں نے یہ بات اپنے استاد کو بتا دی جنھوں نے کہا، "مجھے شروع سے ہی اس بات کا علم ہے کہ اس طرح کے کسی مراقبے کے استاد سے تمھارا گہرا کرمی تعلق ہے۔ ان کے پاس جاؤ! تمھیں کامیابی ملے گی!"

اس رات، گامپوپا کو مشکل سے نیند آئی۔ رات کے بیشتر حصے میں وہ صدق دلی سے دعا مانگتے رہے اور اپنی اس خواہش کو دوہراتے رہے کہ عظیم یوگی میلاریپا سے فوراً ہی ان کی ملاقات ہو جائے۔ انھیں جب اونگھہ آئی تو ایک خاص خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک سفید شنکھہ سے آواز نکل رہی ہے، کرۂ ارض کی سب سے گونجیلی آواز۔ انھوں نے یہ اطلاع بھی اپنے استاد کو دی۔ استاد نے فرمایا، "یہ ایک انتہائی مبارک نشانی ہے۔ تم کو فوراً روانہ ہو جانا چاہیے، میلاریپا سے ملاقات کے لیے!"

گامپوپا دوڑ پڑے، اس طرف جہاں فقیروں نے اپنا ٹھکانا بنا رکھا تھا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا وہ میلاریپا کو ذاتی طور پر جانتے ہیں۔ اور کیا انھیں میلاریپا کا کچھہ اتا پتہ معلوم ہے؟ اور اگر ہاں تو کیا وہ ان کی رہنمائی کر سکتے ہیں۔ انھوں نے فقیروں کو بتایا کہ ان کے پاس سونے کی سولہ آؤنس گرد ہے، اس میں سے سے نصف وہ فقیروں کو دے دیں گے اور بقیہ نصف، ملاقات ہونے پر اس عظیم گرو میلاریپا کی نذر کر دیں گے۔ یہ سن کر ان میں معمر ترین فقیر نے کہا کہ وہ میلاریپا کو جانتا ہے اور گامپوپا کو میلاریپا کے غار تک راستہ دکھانے کے لیے تیار ہے۔

مگر بوڑھا فقیر دھوکے باز تھا، اور راستے میں اس نے یہ بات مان لی کہ اسے میلاریپا کے غار کا راستہ معلوم نہیں ہے۔ اس نے بہانہ یہ بنایا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں اور اب گامپوپا کی مزید رہبری کا کام انجام دینا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اس وقت وہ ایک ایسی جگہ پر تھے جہاں نہ تو گھر تھے، نہ لوگ، نہ جانور۔ یہ جگہ ایک دم سنسان تھی۔ فقیر تو یہ کہہ کر اڑن چھو ہو گیا اور گامپوپا نے اپنے آپ کو یکسر اکیلا پایا۔ وہ کئی روز تک بس بھٹکتے رہے، بھٹکتے رہے، بغیر کھائے پیے، یہاں تک کہ بالآخر اُن کی ملاقات سوداگروں کے ایک گروہ سے ہوئی۔ گامپوپا نے ان میں سے ایک سے پوچھا کہ کیا اسے کچھہ پتہ ہے کہ میلاریپا سے کہاں ملاقات کی جا سکتی ہے۔ سوداگر نے جواب دیا کہ وہ میلاریپا کو خوب جانتا ہے اور یہ کہ میلاریپا ایک عظیم ثالث اور عظیم یوگی ہے۔ اس نے گامپوپا کو بتایا کہ میلاریپا اکثر اپنا ٹھکانہ بدلتے رہتے ہیں، ایک غار سے دوسرے غار میں، ایک قصبے سے دوسرے قصبے میں آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ان دنوں وہ فلاں قصبے میں اور فلاں غار میں مقیم ہیں۔ اس شخص نے ایک خاص سمت اشارہ کیا اور متجسس شاگرد کو عظیم یوگی تک پہنچنے کی کچھہ صاف اور واضح ہدایات دیں۔ خوشی سےبے قابو ہو کر گامپوپا نے تشکر آمیز انداز میں سوداگر کو گلے لگایا اور کچھہ دیر تک انھیں گھیرے رکھا۔

یہ کئی دنوں کا سفر تھا او چونکہ وہ بغیر کچھہ کھائے پیے سفر کر رہے تھے، اس لیے بالآخر ایک جگہ زمین پر گر پڑے۔ طبیعت بحال ہوئی تو انھیں خیال آیا کہ اس عظیم یوگی سے ملاقات کا جواز مہیا کرنے والا کوئی کرم ان کےپاس نہیں ہے، لہٰذا اب وہ یقیناً جان سے ہاتھہ دھو بیٹھیں گے۔ گامپوپا نے تشکر اور احترام کے عمیق ترین احساس کےساتھہ اپنے ہاتھہ جوڑے، دل سے دعا مانگی کہ وہ پھر سے آدمی کی جون میں جنم لیں اور یہ کہ وہ میلاریپا کے شاگرد کی حیثیت سے پیدا ہوں۔

جس وقت گامپوپا موت کے انتظار میں فرش پر پڑے ہوئے تھے، کدمپا گروؤں میں سے کسی ایک نے انھیں دیکھہ لیا۔ یہ دیکھہ کر کہ گامپوپا سخت زمین پر گر گئے ہیں وہ مدد کے لیے ان کی طرف آیا۔ اس نے پوچھا "تم یہاں کیا کر رہے ہو؟" گامپوپا نے جواب دیا، "مجھے عظیم استاد میلاریپا کی تلاش ہے۔ کئی روز سے میں کھانے پانی کے بغیر سفر میں ہوں- اب مجھے ایسا لگتا ہے کہ میں مرنے والا ہوں۔ اور مجھے نہایت افسوس اس بات کا ہے کہ میرے پاس اس گرو سےملاقات کا جواز مہیا کرنے والا کوئی کرم نہیں ہے۔" کدمپا گرو جا کر کچھہ پانی اور خوراک لے آئے اور پھر گامپوپا کو اس قصبے کا راستہ بتایا جہاں اس وقت میلاریپا کا قیام تھا۔

اس قصبے میں پہنچ کر، گامپوپا نے کئی لوگون سے پوچھا کہ وہ کس طرح اپنے مطلوبہ گرو سے مل سکتے ہیں اور کیونکر ان خصوصی تعلیمات سے مستفید ہو سکتے ہیں جن کی انھیں تلاش ہے۔ انجام کار، ان کی ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو بجائے خود ایک عظیم استاد تھا اور جسے میلاریپا جیسے باکمال یوگی کی شاگردی کا شرف حاصل تھا۔ گامپوپا نے اسے بتایا کہ انھیں اس گرو سے ملنے اور ان کی تعلیمات سے بہرہ ور ہونے کی کتنی شدید طلب ہے۔ استاد نے جواب دیا کہ گامپوپا کا اس عظیم یوگی سے فوراً جا ملنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے ابھی کچھہ روز انتظار کرنا ہوگا اور اس امتحان سے گزرنا ہوگا کہ وہ مطلوبہ تعلیمات کی حصولیابی کا واقعی اہل ہے بھی کہ نہیں۔

ابھی کچھہ ہی دن پہلے میلاریپا نے اپنے شاگردوں سے ملاقات کی تھی اور انھیں گامپوپا کی آمد کےبارے میں بتایا تھا۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ وہ ایک بھکشو ڈاکٹر کی آمد کے منتظر ہیں جو ان کے ساتھہ مطالعہ کرنے کے بعد ساری تعلیمات حاصل کر لیں گے اور پھر ان تعلیمات کو سبھی دس جہتوں میں پھیلا دیں گے۔ میلاریپا نے انھیں ایک خواب کے بارے میں بتایا جو انھوں نے پچھلی رات دیکھا تھا اور جس میں بھکشو ڈاکٹر ان کے پاس شیشے کا ایک خالی برتن لے کر آئے تھے۔ میلاریپا نے وہ برتن پانی سے بھر دیا جس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ گامپوپا ان کے پاس ایک کھلا ہوا اور متجسس دماغ لے کر آئیں گے، تعلیمات کی حصولیابی کے لیے، اور میلاریپا ان کے دماغ کا وہ برتن اپنی تعلیمات اور بصیرتوں کے آب حیات سے پوری طرح بھر دیں گے۔

اس کے بعد میلاریپا نے مسرت آمیز انداز میں ایک قہقہہ لگایا اور کہا، "اب مجھے یقین ہو چلا ہے کہ بودھ دھرم سورج کی طرح تمام سمتوں میں جگمگائے گا۔" پھر انھوں نے اپنے گرد جمع ہونے والے لوگوں کے لیے ایک گانا گیا، "سفید شیرنی کا دودھ بے شک غذائیت سے مالا مال ہے۔ لیکن جس شخص نے یہ دودھ چکھا نہیں، وہ اس کی غذائیت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ تم کو خود ہی اسے چکھنا چاہیے، ایک قطرہ ہی سہی، اور اسی وقت تم اس کی غذائیت کو سمجھہ سکوگے۔ یہی بات میری تعلیمات پر بھی صادق آتی ہے۔ پہلے اپنے اندر اس تجربے کی طلب پیدا کرو، پھر اس کا ذوق پیدا کرو، اور پھر تمھیں اس کی غذائیت معلوم ہوگی!"

"تلوپا اور ناروپا کے سلسلہ نسب سے متعلق تعلیمات کی صداقت اور گہرائی میں کسی طرح کے شک کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ ان پر غور نہیں کرتے تو آپ ان کی تہہ تک پہنچ بھی نہیں سکیں گے۔ صرف ان پر مراقبے اور انھیں اپنے تجربے کا حصہ بنانے اور انھیں برتنے کے بعد ہی آپ ان کے عمق کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میرے عظیم اور پدر جیسا انداز رکھنے والے گرو مارپا، انھیں ہندوستان سے یہاں لائے اور میں نے، بہ طور ایک یوگی کے ان پر مراقبہ کیا ہے۔ میں نے ان تعلیمات کی سچائی کو آزمایا ہے اور ان کی روشنی میں اپنے تجربوں کی تشکیل کی ہے۔"

"سفید شیرکا دودھ ایک خصوصی برتن میں ہوگا کسی عام نہیں۔. اگر یہ بٹلوئی مٹی کے برتن میں ڈالاجائے تو فوراً ٹوٹ جائےگا۔ اس کے لئے وسیع اور فرمابردار تعلیمات کے لئے ایک خاص قسم کا کوئی اہل و مستند چاہئیے۔ میں ان لوگوں کو سجھانے سے انکار کرتا ہوں جو اس روایت اور میرے سے تعلیمات حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ میں انہی کوسجھاؤں گا جو تیار اور اہل و مستند ہیں۔"

شاگردوں نے میلاریپا سے پوچھا، "وہ شخص جسے آپ نے خواب میں دیکھا تھا، کب تک آئے گا؟" میلاریپا نے جواب دیا، "وہ غالباً برسوں تک یہاں پہنچے گا۔ وہ بیہوش ہوگیا ہے اور اس نے میری مدد طلب کی ہے۔ میں نے اسے یہاں تک لانے کے لیے اپنی کراماتی طاقتوں کا استعمال کیا ہے۔"

اگلے روز، مراقبے کے دوران، رہ رہ کر میلاریپا پر ہنسی کے دورے پڑتے رہے۔ ان دوروں سے چونک کر ان کی دیکھہ بھال کرنے والی ایک وفادار خاتون ان کے پاس آئیں اور قہقہوں کا سبب پوچھا- "آخر کیا وجہ ہے؟ کبھی تو آپ اتنے سنجیدہ رہتے ہیں اور کبھی ہنسنے لگتے ہیں؟ آپ کو اپنے اس رویّے کی وضاحت کرنی چاہیے کیونکہ لوگ یہ سوچ سکتے ہیں کہ آپ کا دماغ چل گیا ہے۔ آخر ہو کیا رہا ہے؟ آپ اس معاملے میں پر اسرار نہیں رہ سکتے!"

میلاریپا نے جواب دیا، " میں بالکل ٹھیک ہوں۔ میری ذہنی حالت پوری طرح نارمل ہے اور میں پر اسرار نہیں ہو رہا ہوں۔ میں نے تو اپنے ایک شاگرد کے ساتھہ، جو مجھ سے ملنے کے لیے آرہا ہے، کچھہ مضحک بات ہوتے ہوئے دیکھہ لی تھی۔ پہلے تو وہ بے سدھ ہو گیا اور پھر اس کے پورے جسم میں درد اور سوجن شروع ہو گئی، مگر وہ ہمت والا ہے اور اس انتھک کوشش میں لگا ہوا ہے کہ مجھہ تک آجائے اور ملاقات کرے۔ یہ دیکھہ کر مجھے ہنسی آگئی۔ میں خوش ہوں اور بیک وقت یہ بات مجھے بہت مضحکہ خیز بھی محسوس ہوتی ہے۔"

"وہ جلد ہی اس قصبے میں پہنچ جائے گا اور جو کوئی بھی، مرد ہو یا عورت، اسے اپنے گھر میں پہلے مدعو کر لے گا، اس کی دعاؤں کے نتیجے میں، کچھہ ہی عرصے میں عرفان حاصل کر لےگا۔ اس کے فیاض طبع میزبان کو بڑی تیز رفتاری کے ساتھہ، ایسی زبردست بصیرتیں حاصل ہو جائیں گی کہ وہ اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو جائے۔"

اس کے چند روز بعد ہی گامپوپا وہاں پہنچ گئے، بہت کمزوری اور بیماری کی حالت میں۔ یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ پہلا دروازہ جس پر انھوں نے دستک دی اسی دیکھہ بھال کرنے والی خاتون کا تھا جس نے میلاریپا سے ان کی ہنسی کی وضاحت طلب کی تھی۔ وہ خود بھی اس نئے مہمان کی تلاش میں تھی، لہٰذا اس کی چاپ سنتے ہی فوراً گھر سے نکل آئی۔ اس نے مسافر سے پوچھا کہ وہ کون ہے اور اسے کیا چاہیے۔ گامپوپا نے میلاریپا کی تلاش میں اپنے سفر کی تفصیلات بیان کیں۔ اس خاتون نے فوراً سمجھہ لیا کہ یہی وہ شاگرد ہے جس کے بارے میں میلاریپا نے اسے بتایا تھا۔ اس نے اسے گھر کے اندر بلا لیا اور میلاریپا کی پیشن گوئی کو یاد کرتے ہوئے، اسے بہت نذرانے پیش کیے۔

پھر اس خاتون نے گامپوپا کی خوب تواضع کی اور انھیں میلاریپا کی پیشن گوئیوں کے قصے سنائے۔ خاتون نے کہا، "تمھارے لامہ تمھارا انتظار کر رہے ہیں؛ انھوں نے ہم سب کو تمھارے بارے میں اچھی طرح بتا دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تم بے ہوش ہو گئے تھے اور یہ کہ انھوں نے تمھارے لیے اپنی کراماتی امداد بھیجی تھی، اور اب وہ بے صبری کے ساتھہ تمھاری آمد کے منتظر ہیں۔ تم چاہو تو فوراً ہی جا کر ان سے مل سکتے ہو اور تمھارا خیر مقدم گرم جوشی کے ساتھہ کیا جائے گا۔" یہ سن کر گامپوپا اپنی تعریفوں پر پھول گئے اور سوچنے لگے، "اوہ! تو پھر میں کوئی بہت ہی عظیم انسان ہوں گا کہ میرے گرو میرا انتظار کر رہے ہیں۔" میلاریپا نے گامپوپا کے اندر پنپنے والے غرور کے باعث آدھ مہینے تک ان کی طرف نظر بھی نہ اُٹھائی۔ انھوں نے ارادۃً انھیں نظر انداز کیا اور ان سے لاپروائی برتی، اور گامپوپا کو اپنے قیام کے لیے ایک دوسری جگہ کی تلاش کرنی پڑی۔

دو ہفتے گزر گئے تو اس خاتون نے گامپوپا کو میلاریپا کے گھر کا راستہ دکھایا اور میلاریپا سے سوال کیا کہ کیا وہ گامپوپا سے ملاقات کریں گے۔ میلاریپا تیار ہو گئے۔ جس وقت گامپوپا وہاں پہنچے، میلاریپا بیچ میں بیٹھے ہوئے تھے؛ ریچنگ پا ان کے برابر ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے اور اسی سطح کی نششت پر، دوسری طرف، ایک دوسرا شاگرد بیٹھا ہوا تھا۔ ان سب نے یکساں لباس پہن رکھا تھا، پوری طرح اجلا سفید۔ وہ ایک ہی جیسے دکھائی دیتے تھے اور ایک ہی انداز میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے چہروں پر تاثرات بھی ایک ہی جیسے تھے۔ میلاریپا یہ دیکھنے کے منتظر رہے کہ کیا گامپوپا کو معلوم ہے کہ وہ کون ہیں؟ ہوشیار گامپوپا نے ریجنگ پا کے سرکی ہلکی سی جنبش سے یہ سمجھہ لیا ہوگا کہ میلاریپا اس تکون کے وسط میں بیٹھے ہیں۔ گامپوپا نے میلاریپا کے سامنے سجدہ تعظیمی ادا کیا، اپنے تمام نذرانے نکالے اور ان کے سامنے جما دیے۔ انھوں نے اپنے گرو سے ملاقات کی شدید خواہش کا، ان سے تعلیم حاصل کرنے اور عرفان کے حصول کی سطح تک جا پہنچنے کی اس آرزو کا ذکر کیا جو ان کے سینے میں دہک رہی تھی۔

چند لمحوں کے لیے میلاریپا مراقبے میں چلے گئے، پھر انھوں نے سونے کی اس گرد کی طرف ہاتھہ بڑھایا جو انھیں گامپوپا نے نذرانے کے طور پر پیش کی تھی، اس کے بعد چٹکی بھر گرد ہوا میں اچھال دی، " میں اسے اپنے گرو مارپا کی نذر کرتا ہوں۔" انھوں نے اعلان کیا اور دفعتاً فضا میں بادلوں کی گرج سنائی دی اور آسمان میں دور تک برق سی لہرا گئی۔ افق پر ایک عظیم قوس قزح کا ظہور ہوا اور بہت سی دوسری مبارک نشانیاں نمودار ہوئیں۔

اس وقت میلاریپا ایک تیز نشہ آور مشروب "چانگ" پینے میں مصروف تھے۔ ان کی میز پر رکھے ایک کٹورے میں یہ شراب بھری ہوتی تھی۔ کچھہ ثانیوں کے بعد انھوں نے شراب سے بھرا ہوا پیالہ اٹھایا اور اسے گامپوپا کی طرف بڑھا دیا۔ پہلے تو گامپوپا ہچکچائے کیونکہ، بہر حال، وہ ایک مسلم الثبوت بھکشو تھے اور پرہیزگاری کا عہد کر چکے تھے۔ انھیں دوسرے شاگردوں کے سامنے بیٹھے ہوئےکچھہ ندامت سی محسوس ہوئی۔ میلاریپا نے نشہ آور مشروب پینے کے سوال پر کہا، "اب اور زیادہ تردد نہ کرو ! میں نے جو کچھہ تمھیں دیا ہے، اسے حلق سے نیچے اتار لو-" لہٰذا بغیر مزید جھجک کے، گامپوپا نے سارا مشروب پی لیا۔

اس کے بعد میلاریپا نے ان کا نام پوچھا، اور انھوں نے جواب دیا کہ ان کا نام "سونم -رنچن" ہے، اور یہ نام ان کے کدمپا گرو کا دیا ہوا ہے۔ میلاریپا نے سوچا کہ یہ ایک نہایت مبارک نام ہے: سونم کا مطلب ہے "مثبت طاقت" اور رنچن کا مطلب ہے "عظیم ہیرا"۔ سو وہ مثبت طاقت کا عظیم ہیرا ہیں۔ محبت بھرے انداز میں میلاریپا نے ان کی تعریف میں ایک گیت دوہرایا جس میں تین مرتبہ ان کے نام آیا تھا۔ گامپوپا نے محسوس کیا کہ انھیں جو نام دیا گیا ہے، وہ انتہائی معنی خیز اور اہم ہے۔

گرو اپنی کہانی سناتے ہیں

اس کے بعد میلاریپا نے کہا، "سب سے پہلے میں تمھیں اپنی سوانح عمری کا کچھہ حصہ سناؤں گا، لیکن اس سے پہلے کہ میں یہ کہانی شروع کروں، ہم سب اپنے عظیم گرو مارپا کو خراج عقیدت ادا کریں گے اور ان کی تعظیم بجا لائیں گے جن سے ان مشقوں کی روایت کے اس سلسلے کی شروعات ہوتی ہے جس کی تقلید ہم سب کرتے ہیں۔" ان لوگوں نے اپنی عقیدتوں کا خراج ادا کر دیا اور سجدہ تعظیمی ادا کرچکے تو میلاریپا نے اپنی کہانی شروع کی:

"ان دنوں، ہندوستان میں مہاسِدّھ کے سب سے مشہور اور حقیقی نمائندے ناروپا اور مائیتریپا ہیں۔ مارپا انہی دو عظیم اور معروف ہندوستانی مہاسِدّھوں کے عظیم روحانی فرزند واقع ہوئے ہیں۔ اور ہمارے عظیم گرو مارپا ان تمام تعلیمات کی محافظ اور ماخذ ہیں جن کی پیروی ہم سب اتنی توجہ کے ساتھہ کرتے رہے ہیں۔ داکاؤں، داکنیوں اور دھرم کے نگہبانوں نے ان کی شہرت تمام سمتوں میں پھیلائی ہے۔ مارپا کے بے مثل شہرت کے بارے میں سننے کے بعد، قطع نظر اس کے کہ مجھے کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، میں نے عہد کر لیا تھا کہ میں انھیں ڈھونڈ کر رہوں گا۔ جب مارپا سے میری ملاقات ہوئی، اس وقت میرے پاس ایسی کوئی مادی شے نہیں تھی جو میں انھیں نذرانے کے طور پر پیش کرسکوں، لیکن میں نے اپنا جسم، اپنی گویائی اور اپنا دماغ ان کی نذر کر دیا۔ مارپا نے اعلٰی ظرفی کے ساتھہ یہ اعتراف کیا کہ انھیں ایسے موثر طریقوں کا علم ہے جن کے ذریعے وہ ایک مختصر زندگی میں بھی عرفان حاصل کر سکتے ہیں اور یہ طریقے ان تک اپنے عظیم استاد نروپا کے واسطے سے منتقل ہوئے تھے۔"

"میں نے وہاں کئی برس گزارے، اپنے گرو سے گہری تعلیمات اور مشقیں سیکھتے ہوئے، تصنع سے قطعاً عاری زندگی گزارتے ہوئے، اپنے آپ کو پوری طرح وقف کر کے، دل سے ان کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے، دنیا کی تمام ذی شعور مخلوقات کی بھلائی کے لیے عرفان کی حصولیابی کا عہد کرتے ہوئے اور اس خدمت کا حوصلہ جتاتے ہوئے۔ میں نے مارپا کے تمام کمال و تعلیمات اپنے اندر اتار لئے ہیں۔ میرے استاد نے یہ قسم کھائی تھی کہ اب ایسا کچھہ بھی نہیں ہے جو وہ مجھے دے سکیں۔ میں نے اپنے دماغ کا برتن اپنے گرو مارپا کی تعلیمات کے امرت سے لبا لب بھر لیا ہے۔"

"یہ ہے وہ بات جو مارپا نے مجھے بتائی، اور یہ نہایت اہم مشورہ ہے، 'اب پانچ نسلوں کا وقت آ چکا ہے، خاص طور پر یہی وقت، انسان کا عرصہ حیات مائل بہ زوال ہے۔ وہ گھٹ رہا ہے، بڑھ نہیں رہا ہے۔ ہر چیز کے علم کی پیاس اپنے اندر پیدا نہ ہونے دو۔ دھرم کے جوہر اور اس کی ریاضت کو سمجھنے کی کوشش کرو اور یہ کوشش کرو کہ اپنے اس عمل میں تم درجہ کمال تک جا پہنچو۔ صرف اسی صورت میں تم ایک مختصر سی مدت حیات میں عرفان کا نور حاصل کر سکوگے۔ ہر میدان میں کامرانی کی منزل تک پہنچنے کی کوشش نہ کرو'!"

"میں نے، اپنے گرو مارپا کی تعلیمات اور ان کی ہدایت کے مطابق، غیر معمولی عزم کے ساتھہ، اور زندگی کی ناپائداری کو سمجھتے ہوئے، اپنی لگن کو قائم رکھتے ہوئے اور اس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتے ہوئے، ان تعلیمات کی بہت سی مفید مطلب بصیرتوں کو حاصل کیا ہے اور ان کا تجربہ کیا ہے۔ میں نے تینوں کایاؤں کو جو بودھ کے اجسام سے عبارت ہیں، اچھی طرح پہچان لیا ہے: اپنے تجربے مشق اور مراقبے کی مدد سے، مکمل اعتماد کے ساتھہ ان کی پہچان حاصل کی ہے۔ ان تینوں کایاؤں کے حصول میں میرا ایقان پختہ ہے۔ اور عین اس طرح جیسے میں نے اپنی ریاضت اور مشق سے ان بصیرتوں اور تجربوں کو بڑھاوا دیا ہے، میں وہ سب کچھہ جو میں نے اپنے مہربان گرو مارپا سے حاصل کیا تھا، اب تمھیں دینا چاہتا ہوں۔ تم ان تعلیمات کو محض ایک اصول یا نظریےکے طور پر مت اپناؤ، انھیں محض دھرم کی خیالی تعبیر نہ سمجھو۔ تم کو چاہیے کہ میری ہی طرح تم انھیں اپنے حقیقی تجربے کا حصہ بنا لو۔"

اس کے بعد میلاریپا نے گامپوپا سے کہا، "اپنا سونے کی گرد کا نذرانہ واپس لے جاؤ، کیونکہ مجھہ جیسے بوڑھے انسان کے لیے یہ سونا کسی کام کا نہیں۔ اور وہ چائے بھی واپس لے جاؤ جو تم نے مجھے پیش کی تھی۔ مجھہ جیسے بوڑھے کے پاس نہ تو کوئی برتن ہے، نہ باورچی خانہ جہاں چائے بنائی جا سکے؛ تم اپنے تمام نذرانے واپس لے جاؤ۔ اگر تم اپنے آپ کو اس پر آمادہ دیکھو کہ تم نے اپنے پورے وجود کو میرے لیے وقف کر دیا ہے، اور تم میری رہ نمائی اور میری تعیلمات کے مطابق رہنے پر تیار ہو، تو پھر تمھیں میری ہی طرح زندگی گزارنی ہوگی۔ تمھیں سادا جیون بتانا ہوگا اور میری زندگی کے اسلوب اور میری مشقوں کے مطابق زندہ رہنا ہوگا!"

گامپوپا نے جواب دیا، " اگر آپ میری پیش کی ہوئی چائے صرف اس لیے قبول نہیں کرتے کہ آپ کے پاس کوئی برتن اور باورچی خانہ نہیں ہے، تو میں کہیں اور جا کر چائے بنا لاؤں گا۔" سو، گامپوپا قریب کے ایک گھر میں چلے گئے۔ چائے تیار کی اور اس بھینٹ کے ساتھہ اپنے گرو کے پاس لوٹ آئے۔ اس پر میلاریپا کو بہت خوشی ہوئی۔ انھوں نے دوسرے شاگردوں کو بھی بلا لیا اور سب نے ایک ساتھہ گامپوپا کی تیار کی ہوئی مزیدار چائے کا لطف اٹھایا۔

میلاریپا گامپوپا کو پڑھاتے ہیں

میلاریپا نے ان تعلیمات اور مشقوں کے بارے میں پوچھا جو گامپوپا حاصل کر چکے تھے۔ گامپوپا نے اپنے تمام سابق اساتذہ کی دی ہوئی تعلیمات کو وضاحت کے ساتھہ بیان کیا، اور اپنے تمام پچھلے مراقبوں کے بارے میں بھی بتایا۔ میلاریپا نے کہا کہ یہ سب نہایت عمدہ تعلیمات ہیں اور یہ کہ گامپوپا کے پاس تممو یا باطن میں حرارت پیدا کرنے والی تعلیمات کے لیے، جو سچائی کے مزاج کو خالی پن (voidness [emptiness]) کے طور پر دیکھہ سکنے کے ایک ہنرمندانہ طریقے سے عبارت ہے، پوری بنیاد موجود ہے۔

میلاریپا نے اپنا بیان جاری رکھا، "گرچہ وہ تمام اختیارات، تعلیمات اور دعائیں جو تم نے اپنے سابقہ گروؤں کی مدد سے حاصل کی ہیں۔ میری روایت میں پوری طرح قابل قبول ہیں، مجھہ کو تمھیں ایک بار پھر سے اپنے حلقہ ارادت میں داخل کرنا ہی ہوگا تاکہ اس امر کی تصدیق ہو جائے کہ تم نے جو کچھہ بھی حاصل کیا تھا، وہ تمھاری زندگی کے حالات کے باعث ابھی بے کار نہیں ہوا ہے۔ میں تمھیں وجریوگنی کی مشق میں پھر سےشامل کروں گا"۔ عطائے اختیار کی اس روش کے مطابق، میلاریپا نے بہت کم وقت میں انھیں تمام تعلیمات دے دیں۔ گامپوپا نے اپنے آپ کو ان مشقوں میں فوراً ہی اچھی طرح مصروف کر دیا اور بہت جلد ان تعلیمات کی بصیرتیں اور تجربے اخذ کر لیے۔ ہر روز ان کی بصیرتوں میں بتدریج اضافہ ہوتا رہا، جیسے کہ زمین سے کونپل نمودار ہوتا ہے۔ اپنی رفتار ترقی سے وہ پوری طرح مطمئن اور بہت مسرور تھے۔

انھوں نے تم مو پر مراقبہ کیا اور ہر روز انھیں ایک نئے تجربے کا ادارک ہوا۔ سرما کی ایک انتہائی ٹھنڈی رات کو، وہ ایک غار میں یکسر برہنہ ہو کر، اپنے اندر پیدا کی گئی باطنی حرارت کو جانچنے کے لیے مراقبہ کر رہے تھے۔ رات بھر وہ گرم رہے، مگر صبح کو جب انھوں نے تممو کی مشق چھوڑی تو وہ پوری طرح منجمد ہو گئے۔ ہفتے بھر تک انھوں نے یہ مراقبہ جاری رکھا اور اس ہفتے کے خاتمے پر انھوں نےعالم خیال میں پانچ مراقبہی بودھوں کا ادراک کیا۔ پھر جب وہ اپنے گرو کے پاس ان تمام تجربوں اور رویاؤں کی تفصیل بیان کرنے کے لیے گئے، تو میلاریپا نے کہا- "یہ نہ تو اچھا ہے، نہ برا۔ اسے حقیقی بنانے کے لیے مزید جتن کرو!اس طرح کے خوابوں کی طرف مائل مت ہو! باطن کی آگ سے پیدا ہونے والی طاقت کو اچھی طرح مستحکم کرو"!

گامپوپا تین مہینوں تک انہماک کے ساتھہ مراقبے میں رہے، اور اس مدت کے گزر جانے کے بعد انھیں ایسا محسوس ہوا کہ یہ پوری کائنات ایک مہیب پہیے کی طرح بُنائی کر رہی ہے۔ کافی عرصے تک یہ محسوس کرنے کے بعد وہ میلاریپا کے پاس گئے تاکہ ان سے ہدایت لیں۔ ان کے گرو نے جواب دیا۔ " یہ نہ تو اچھا ہے نہ برا۔ یہ نشانی ہے اس بات کی کہ مختلف تصوارات اور توانائیاں جو مختلف لطیف اور نازک توانائی کے چینیلوں سے گزرتی ہیں، اب مرکزی چینیل میں داخل ہو رہی ہیں۔ تمھیں مزید کوشش کرنی ہوگی کہ اور زیادہ مراقبے میں رہو!"

مزید مشقوں سے گزرنے کے بعد، گامپوپا نے عالم خیال میں آوالوکیت-ایشور کا دیدار کیا جو ان کےسر کے اوپر سے ان کے جسم میں داخل ہوئے اور ان کے اندر گھل مل گئے۔ جب انھوں نے میلاریپا سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو ان کے گرو نے کہا، "یہ نہ تو اچھا ہے نہ برا۔ یہ اشارہ ہے اس بات کا کہ تمھارے سر کے چکر کا مرکز توانائی کھل رہا ہے۔"

مراقبے کے دوران، گامپوپا اندرونی طور پر طبیعی تغیرات کے ایک پورے سلسلے سے گزرے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ ان کی ریڑھ کی ہڈی کے ساتھہ ساتھہ اوپر سے نیچے تک آندھی کے تیز جھکڑ چل رہے ہیں اور گرم ہوا کی ایک لہر جاری و ساری ہے۔ انھوں نے یہ بات جب میلاریپا کو بتائی تو انھوں نے جواب دیا، "یہ نہ تو اچھا ہے نہ برا۔ یہ اشارہ اس بات کا ہے کہ توانائی کے نازک چینیل جسم کے اندر ایک دوسرے سے مربوط ہو رہے ہیں۔ جس وقت یہ نازک چینیل آپس میں جڑتے ہیں اور تم ان پر قابو حاصل کر لیتے ہو، اس وقت تمھیں ان ہیجانات کا احساس ہوتا ہے۔ اب تم واپس جاؤ اور مزید مراقبے میں لگ جاؤ!"

ایک اور وقت انھوں نے دیوتاؤں یعنی کہ الوہی مخلوقات کی مختلف حالتوں کا عالم خیال میں پورا مشاہدہ کیا۔ انھوں نے صاف دیکھا کہ بلند مرتبہ رکھنے والے دیوتا کم تر سطحوں کے دیوتاؤں پر سفید شہد لنڈھا رہے ہیں تاکہ انھیں اپنے خصوصی حلقے میں داخل کر لیں۔ میلاریپا نے وضاحت کی، " یہ نہ تو اچھا ہے نہ برا۔ یہ نشانی ہے اس امر کی کہ حلق کا چکر مرکز توانائی کھل رہا ہے۔ روحانی نشاط کے مختلف وسائل اور مقامات یعنی کہ تمھارے جسم کی ان تمام حالتوں میں سے ہر ایک اب فروغ پذیر ہے اور اس میں ترقی ہو رہی ہے۔"

اس مرحلے میں، میلاریپا نے گامپوپا کو بہت سی یوگی مشقیں بتائیں یعنی کہ ایسی مُدرائیں جن کا تعلق ہاتھوں کی معینہ جنبش سے تھا اور جسمانی حرکتیں جو جسم کے دوسرے نازک اور باریک مراکز توانائی کو کھول سکیں۔ انھوں نے ہدایت دی، "ایسی چیزوں کی طرف مائل مت ہونا۔ انھیں بس اپنے ارتقا کی نشانیاں سمجھنا، لیکن ان کی وجہ سے اپنے مراقبہ کو بٹنے یا بھٹکنے نہ دینا۔ اس کے بجائے، بس اپنی مشقیں جاری رکھو اور انھیں مستحکم کرتے رہو!"

مراقبے کی اس سطح پر، شاگرد کے لیے انتہائی اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ گرو سے اپنا نزدیکی رشتہ بنائے رکھے، کیونکہ شاگرد کو، بہر حال، بہت مخصوص رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ اگر شاگرد اپنے گرو سے بہت دوری پر ہی رہے تو گرو اسے ایسی برمحل شخصی ہدایات نہیں دے سکتا جو شاگرد کی روحانی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہوتی ہیں۔ اور اگر خود گرو کو اس امر کا شخصی تجربہ نہ ہو سکے کہ شاگرد اس وقت کن کیفیتوں سے گزر رہا ہے، تو یہ بھی ایک زبردست مسئلہ ہوگا۔ ایسے موقعے پر شاگرد کی تمام تر ترقی رک جاتی ہے۔ اسی لیے، ایک نہایت عرفان یافتہ اور تجربہ کار گرو کا ہونا لازم آتا ہے، تاکہ مراقباتی تجربے کے ہر مرحلے میں روزآنہ رہ نمائی شاگرد کو ملتی رہے۔

گامپوپا کی ترقی

اس مرحلے میں، گامپوپا کے اندر یہ اہلیت پیدا ہو چلی تھی کہ روزمرہ کی غذا کے بجائے، سمادھی کے دوران اپنے مراقبہ کو مرکوز رکھنے کے لیے وہ پوری طرح روحانی غذا پر انحصار کر سکیں۔ ایک رات، گامپوپا نے چاند گرہن اور سورج گرہن کا ایک خواب دیکھا۔ تبتی علم نجوم کے مطابق ایک عقیدہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی گرہن واقع ہوتا ہے، تو ایک دیو سورج اور چاند کو ہڑپ کر جاتا ہے۔ خواب میں انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ دو طرح کی مخلوقات تھین جو سورج اور چاند کو نگل رہی تھیں، ان میں سے ایک گھوڑے کی دُم کے ایک بال برابر تھی، اور دوسری کیڑوں مکوڑوں کی باریک دھاریوں کے برابر۔ گامپوپا اس خواب کے بارے میں جب میلاریپا کی ہدایت پانے کے لیے ان کے پاس گئے تو انھوں نے مشورہ دیا کہ یہ سوچ کر پریشان مت ہو کہ تم کسی غلط راستے پر ہو، اور یہ کہ یہ نہ تو اچھا ہے نہ برا۔ یہ خواب مراقبے میں تمھاری ترقی کی نشانی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں اطراف کے توانائی والے چینیلوں سے، ہوا کے لطیف جھونکے اب مرکزی چینیل میں داخلے کے لیے نلکی بنا رہے ہیں۔

میلاریپا نے انھیں اپنی مشق جاری رکھنے کے لیے، ان کی مزید حوصلہ افزائی کی، کیونکہ انھیں پتہ تھا کہ یہ تمام نشانیاں ان کے شاگرد کی کامرانیوں کے لیے ہیں۔ جب کوئی مشق کرنے والا اپنی سانسوں پر قابو پا لیتا ہے اور ادھر ادھر کے چینیلوں سے توانائی کے لطیف جھونکوں کو مرکزی چینیل می داخل کرنے پر قادر ہو جاتا ہے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس شخص نے اپنی مشق میں بہت ترقی کر لی ہے۔ تمام ذی شعور مخلوقات میں لطیف توانائی کا نظام یکساں ہوتا ہے۔ بالعموم، ذی شعور مخلوقات زیادہ تر اپنے دائیں چینیل کی طرف سے سانس لیتی ہیں اور، اس طرح ان میں دوسروں سے زبردست وابستگی پیدا ہو جاتی ہے، یا پھر اگر بالخصوص بائیں چینیل کی طرف سے سانس لیں تو نتیجتاً ان کی طبیعت میں بہت زیادہ غم و غصہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ہم شاذ و نادر ہی مثبت اور تعمیری سوچ کو ترقی دیتے ہیں جن کی شروعات مرکزی چینیل سے ہوتی ہے، کیونکہ اس چینل میں جا بجا گرہوں نے روکاوٹیں ڈال رکھی ہیں۔ تجربہ کار یوگی جب مرکزی چینیل سے سانس لینے پر قادر ہو جاتے ہیں تو وہ ان گرہوں کو جوڑ لیتے ہیں۔ وہ اپنی سانسوں اور نازک توانائیوں کو، دونوں اطراف کے چینیلوں سے ایک مرکزی چینیل کی راہ پر لگانے کے اہل ہو جاتے ہیں، اور اس طرح وہ صرف مثبت ارادوں کی افزائش کرتے ہیں۔

اس کے بعد جب گامپوپا میلاریپا کے پاس گئے تو میلاریپا انھیں بہت خوش نظر آئے۔ لیکن ہر نئی بصیرت یا تجربے کی تفصیل سننے کے بعد، انھوں نے گامپوپا سے بس اتنا کہا کہ، "اور اب اس کے بعد اب اس کےبعد، اب اس کے بعد"، جس کا مفہوم یہ تھا کہ جیسے جیسے تجربے کھلتے جائیں، گامپوپا کو اس سے آگے اور اس سے آگے بڑھتے جانا ہے یہاں تک کہ وہ مکمل عرفان کی حصولیابی کے درجے تک جا پہنچیں۔ میلاریپا کے اندر گامپوپا کو براہ راست ان کی ترقی کے بارے میں بتانے کا حوصلہ نہیں تھا، اس ڈر سے کہ گامپوپا کہیں مغرور نہ ہو جائیں، جو راہِ سلوک میں ان کی مزید ترقی پر روک لگا دے گا۔

اس کے بعد گامپوپا مہینے بھر کے لیے مراقبے کی غرض سے ایک غار میں چلے گئے۔ اس مراقبے کے اختتام پر، انھیں منڈل اور بودھ کی ہیوجر شبیہہ کے پورے طائفے کے ساتھہ ہیوجر کا پورا دیدار ہوا۔ جیسے ہی انھوں نے اسے دیکھا، انھوں نے سوچا کہ یہی وہ مظہر ہے جس کی طرف لامہ نے یہ کہتے ہوئے اشارہ کیا تھا کہ "اب اس کےبعد، اب اس کے بعد، اب اس کے بعد!" اور یہ تو وہ رمز ہے جس کی مدد سے ان کی مشقیں اور ریاضتیں اپنے اختتام تک پہنچ رہی تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھہ اس خواب کے بعد منڈلوں اور بودھ کی شبیہوں والے اور بھی خواب دکھائی دیے۔ ایک دن انہوں نے ہیروکا کے ایک روپ کا رویا دیکھا جس میں ایک دیوتا کا ہڈیوں سے بنا ہوا منڈل شامل تھا۔ میلاریپا نے انھیں متنبہ کیا کہ اسے وہ کوئی بڑا کارنامہ نہ سمجھنے لگیں، یہ کہتے ہوئے کہ یہ نہ تو اچھا ہے نہ برا۔ یہ تو صرف نابھی پر جسم کے وسط میں واقع چکر کے مرکز کے کھلنے کی ایک نشانی بھر ہے۔ جب تم نابھی کے چکر کو پوری طرح کھولتے ہو تو ہر شے تمہیں سفید دکھائی دیتی ہے، ہڈیوں جیسی سفید جن کا روغن سورج کی تمازت نے سوکھہ گیا ہو، کیونکہ سفید بودھیچت کی توانائی پوری طرح ارتقاء پذیر ہو چکی تھی۔

اس کے بعد وہ ایک ایسے تجربے سے دوچار ہوئے جو حقیقتاً عالم رویا کا تجربہ نہیں تھا۔ انھوں نے محسوس کیا کہ وہ بہت مہیب ہو چکے ہیں، کسی دیوزاد کی طرح۔ انھیں احساس ہوا کہ پُنر جنم کی مختلف حالتوں سے متعلق یا ان کی نمائندگی کرنے والی تمام قسموں کی ذی شعور مخلوقات ان کی پسلیوں، ان کی ایڑیوں اور ان کے جسم کے تمام حصوں پر رینگ رہی ہیں۔ یہ ایک نشانی تھی اس بات کی کہ انھوں نے ایک نازک نظامِ توانائی کی واقعتاً تکمیل کر لی ہے۔ اس مرحلے تک، وہ صرف تممو، پر عام قسم کے مراقبے کا تجربہ کر رہے تھے، اپنے اندرونی وجود کی حرارت کا مراقبہ۔ اب انھیں تممو کی سادھنا یا مشق کی سب سے ترقی یافتہ سطح سے متعلق ہدایات دی جا سکتی تھیں۔

تجربے، خواب اور کامرانیاں

یہ بات توجہ کی طالب ہے کہ جب کبھی میلاریپا گامپوپا کے تجربوں کی مختلف منازل کے بارے میں رپورٹ سنتے تھے تو ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ "یہ نہ تو اچھا ہے، نہ برا، ابھی مزید مراقبہ جاری رکھو!" انھوں نے اپنے شاگرد کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ ان کے تجربوں کا مطلب کیا ہے، لیکن انھوں نے کبھی اُن کی تعریف نہ کی۔ اور در اصل یہی ہونا بھی چاہیے تھا کہ ایک گرو کیونکر اپنے شاگرد کی رہنمائی کرے۔ اگر گرو بہت زیادہ تعریف کرنے لگے اور شاگرد کی بہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتے ہوئے اس طرح کی باتیں کہنے لگے کہ"یہ نہایت اہم ہے"، یا یہ کہ "تم ایک زبردست تجربے سے گزر چکے ہو"، تو شاگرد اڑنے لگے گا، جس سے اس کے ارتقا میں بہت بڑی رکاوٹ کھڑی ہو جائے گی۔ وہ اپنے کو بہتر نہ بنا سکے گا، اور اپنے مختلف تجربوں سے منسلک ہو جائے گا، اور ان سے مغلوب ہونے لگے گا۔

گرچہ ان کی سوانح حیات کچھہ ہی صفحوں میں بیان کر دی گئی ہے، لیکن گامپوپا کو کئی کئی مہینوں تک مراقبے میں رہنا پڑا؛ ان تجربوں کا بار اٹھانا اتنا آسان نہ تھا، اور یوں بھی اس طرح کے عمیق مراقبے میں برسہا برس لگ جاتے ہیں۔ اس منزل تک رسائی سے پہلے، گامپوپا نے متواتر تینتیس خواب دیکھے، لیکن چونکہ ان میں سے فرداً فرداً ہر ایک کا تذکرہ غیر ضروری ہے، اس لیے ان میں سے صرف آخری خواب کی تفصیلات پیش کی جائیں گی۔

میلاریپا نے جب اپنے تین ممتاز ترین شاگردوں، گامپوپا، ریچونگپا اور لِنگریپا سے اپنے اپنے خواب بیان کرنے کو کہا، تو لِنگریپا نے اپنے طلوع آفتاب والے ایک خواب کی تفصیل سنائی۔ انھوں نے اپنے گرو سے کہا کہ اس خواب میں، جیسے ہی پربت کی چوٹی سے سورج نے سر اٹھایا، اس کی شعاعیں لِنگریپا کے دل پر مرکوز ہو گئیں اور اس کا دل ایک عظیم روشنی میں منتقل ہو گیا۔ ریچونگپا نے میلاریپا کو یہ بتایا کہ انھوں نے اپنے خواب میں یہ دیکھا کہ بہت شور شرابے کے ساتھ، وہ تین قصبوں سے گزر کر آئے ہیں۔

گامپوپا نے میلاریپا کو اپنا خواب بتایا ہی نہیں۔ بس ان کے سامنے اپنے سجدہ تعظیمی ادا کرتے رہے، گریہ کرتے رہے اور لامہ کی گود میں اپنا سر رکھہ دیا۔ وہ اس لیے رو رہے تھے کہ ان کا خواب اس لایق نہیں تھا کہ اسے بیان کیا جائے۔ وہ ایک انتہائی بھیانک خواب تھا، اور اس کا مطلب یہی نکلتا کہ وہ ایک نہایت با رعب اور دوسروں میں دہشت پیدا کرنے والے شخص ہیں۔ گامپوپا کو ڈر تھا کہ کہیں اس خواب کا مطلب یہ نہ ہو کہ ان کے راستے میں بہت زیادہ روکاوٹین ہوں گی، اور انھوں نے میلاریپا سے گزارش کی کہ وہ ان سے اپنا خواب بیان کرنے کے لیے زور نہ دیں۔ میلاریپا نے گامپوپا سے کہا کہ انھیں یہ علم ہے کہ کون سا خواب اچھا ہوتا ہے یا برا ہوتا ہے، اور یہ کہ وہ تو بس اپنا خواب انھیں بتا دیں۔

لِنگریپا کے خواب نے جو ان سب میں بہتر معلوم ہوتا تھا، لِنگریپا کے دل میں یہ خیال بٹھا دیا کہ تینوں شاگردوں میں، وہی سب سے عظیم المرتبت ہیں، کیونکہ ان کے خواب میں مبارک نشانیاں بہ ظاہر بھری پڑی تھیں۔ میلاریپا نے یہ تعبیر پیش کی کہ ان کا خواب بدترین ہے۔ انھوں نے کہا – اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ لِنگریپا کے اندر درد مندی کا جذبہ بہت کم ہے اور یہ کہ ذی شعور ہستیوں کو بہت محدود پیمانے پر ان کی ذات سے فیض پہنچے گا۔ ان کے قلب پر سورج کی شعاعوں کا اجتماع یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسی زندگی میں ڈاکنی وجریوگنی کے بودھ میدان تک چلے جائیں گے۔ انھوں نے ریچونگپا کے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ انھیں ایک ہی مدت حیات میں عرفان نہیں مل سکے گا۔ انھیں مزید تین جنموں کی راہ دیکھنی ہوگی کیونکہ انھوں نے میلاریپا کے لیے کچھہ کرنے کا اپنا عہد تین مرتبہ توڑا تھا۔

جسے گامپوپا ایک ڈراؤنا اور برا خواب سمجھہ رہے تھے وہ یہ تھا کہ بہت سے جانوروں کے ساتھہ وہ ایک کھلے میدان میں ہیں، اور وہ ان جانوروں کے سر قلم کرتے جا رہے ہیں۔ گامپوپا کو حیرانی اُس وقت ہوئی جب میلاریپا نے ان کے اس دہشت ناک خواب پر خوشی کا اظہار کیا۔ وہ اپنا خواب جب بیان کر چکے تو میلاریپا نے کہا، "لاؤ! اپنا ہاتھہ مجھے دو!" اور انھوں نے محبت آمیز انداز میں ان کا ہاتھہ تھام لیا۔ انھوں نے فرمایا کہ گامپوپا پر انھیں بڑا بھروسہ ہے۔ اور یہ کہ گامپوپا ان کی توقعات پر پورے اترتے ہیں۔ انھوں نے سب کو بتایا کہ جانوروں کے سرقلم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ گامپوپا سنسار میں بہت سے ذی شعور جانداروں کو ان کی قید سے رہائی دلائیں گے۔

میلاریپا نے کہا، "اب ذی شعور مخلوقات کی فلاح کے لیے میرا کام، دھرم کے تحفظ اور تبلیغ کے لیے میرا کام، پورا ہو چکا ہے، اب میرے بعد کوئی اور ہے جو میری جگہ لے گا!"

گامپوپا اب ایک ایسے درجہ کمال تک پہنچ چکے تھے، جہاں عام ذی شعور مخلوقات کی طرح، انھیں سانس لینے کی ضرورت نہیں رہ گئی تھی، وہ دن بھر میں بس ایک مرتبہ سانس اندر لیتے تھے اور اسے باہر نکالتے تھے۔ وہ اپنی حقیقی شکلوں میں بودھوں کے خیالی دیدار اور مسلسل بصیرتوں کی ایک لہر کے تجربے سے گزر رہے تھے، جس میں آٹھہ علاج کرنے والے بودھوں اور پینتیس اعتراف کرنے والے بودھوں کا دیدار بھی شامل تھا۔

میلاریپا نے اپنے طالب علم کو بتایا کہ اب گامپوپا سمبھوگاکایا سے تعلیمات حاصل کرنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔ جو بودھ کی لطیف شکلوں میں سے ایک کا پیکر ہے، اور جسے صرف آریہ بودھی-ستوا، یعنی کہ خالی پن کا غیر تصوراتی ادراک رکھنے والے ہی دیکھہ سکتے ہیں۔ جلد ہی وہ دھرمکایا کے تجربے کو بھی حاصل کر سکیں گے، جو ایک ہمہ داں دماغ کا پیکر ہے اور جس تک صرف اہلِ عرفان یا روشن ضمیر لوگوں کی ہی رسائی ہو سکتی ہے۔

راستوں کا الگ ہو جانا

ایک روز، میلاریپا نے گامپوپا سے کہا، "اب میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور اپنی باقی ماندہ زندگی، تمھارے ساتھہ گزارنا چاہوں گا۔ لیکن کچھہ گزشتہ دعاؤں کی طاقت کے باعث ہمیں ایک دوسرے سے الگ ہونا پڑے گا اور تمہیں او کے وسطی صوبے میں جانا ہوگا!"

میلاریپا نے گامپوپا کو بہت سی ہدایتیں دیں، نخوت اور تکبر سے دور رہنے کی تنبیہہ کی، خاص کر اس لے کہ وہ اتنی بہت سی معجزاتی طاقتوں کے مالک تھے۔ انھوں نے گامپوپا کو بتایا کہ وہ کبھی بھی ماضی اور مستقبل کے علم یا اپنی غیر معمولی جسمانی طاقتوں کے احساس سے مغلوب نہ ہوں کیونکہ یہی باتیں اُن کے لیے زبردست روکاوٹیں بن سکتی ہیں۔ انھوں نے خاص طور پر یہ نصیحت کی کہ وہ اپنے دائیں اور بائیں خامیاں ڈھونڈیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے گرد و پیش کے لوگوں میں کمیاں اور کمزوریاں دیکھنے سے محتاط رہیں۔ انھوں نے گامپوپا کو یہ سبق بھی دیا کہ کوئی بھی صحیح معنوں میں باطن ہم دیگر سے آگاہ نہیں ہے، اور یہ کہ لوگ صرف اپنا محاسبہ کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی طریقہ ایسا نہیں جس کی مدد سے گامپوپا کسی دوسرے شخص کو، چاہے اس کے اعمال اچھےہوں یا برے ہوں، بالکل صحیح صحیح پرکھہ سکتے ہوں۔

پھر میلاریپا نے گامپوپا سے کہا کہ وہ ایک خاص مقام پر جائیں اور وہاں ایک خانقاہ قائم کریں، اسی کےساتھہ یہ وضاحت بھی کی کہ وہاں گامپوپا کو اپنے تمام شاگرد مل جائیں گے، ایسے تمام لوگ جن سے وہ بودھ دھرم کو فروغ دینے کے لیے کرمی طور پر منسلک ہیں۔ انھوں نے گامپوپا کو خبردار کیا کہ ان لوگوں سے وہ زیادہ قریب نہ رہیں جو تین طرح کے جذباتی زہر کے غلام ہیں۔ وابستگی، غصہ اور بند ذہنی کی پیدا کردہ سادہ لوحی کے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ بخیل لوگوں کو منھہ نہ لگائیں، کیونکہ ایسے لوگوں کے ساتھہ اگر وہ بہت دن رہ لیے تو ان کا انجام یہ ہوگا کہ لکڑی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بھی بچاتے رہیں گے۔ انھوں نے گامپوپا کو مشورہ دیا کہ اپنے اندر زیادہ سے زیادہ تحمل پیدا کریں اور کبھی بھی اپنے لاماؤں کی نافرمانی نہ کریں، خواہ اپنے آپ کو وہ صاحب عرفان ہی کیوں نہ دیکھنے لگیں۔ انھیں ہمیشہ صاف، شفاف اور تمام لوگوں کے ساتھہ دوستانہ انداز میں رہنا چاہیے۔ آخری بات میلاریپا نے گامپوپا کو یہ بتائی کہ اپنے مراقبوں اور مجاہدوں کو جاری رکھتے ہوئے، تا وقتے کہ وہ اپنے آخری مقصد، عرفان کی حصولیابی میں کامیاب نہ ہو جائیں، انھیں اپنی کامرانیوں میں معاون ہونے والی تمام طاقتوں کو فروغ دینا ہوگا۔

میلاریپا نے گامپوپا کو اسی طریقے سے رخصت کیا جس طرح ان کے گرو مارپا نے انھیں رخصت کیا تھا۔ انھوں نے بہت سی تیاریاں کیں اور کھانا لے آئے اور اپنے دوسرے شاگردوں کے ساتھہ کچھہ دور تک گامپوپا کے ساتھہ گئے۔ اپنے گرو کو الوداع کہنے سے پہلے، گامپوپا نے ان کی تعریف میں بہت سے اشعار پڑھے، جن میں اپنی اسی زندگی کے دوران میلاریپا سے ملنے کی خوش بختی کا اعتراف کیا گیا تھا۔ گامپوپا نے جو گانے گائے ان میں یہ کہا گیا تھا کہ ان کی واحد آرزو مارپا سے ملاقات کی تھی اور وہ کس قدر متشکر تھے، صرف اس لیے نہیں کہ انھیں میلاریپا کی روایت کے مطابق تعلیم کے حصول کا موقع ملا تھا، بلکہ اس لیے بھی کہ وہ اپنے کدمپا استادوں سے حاصل کی جانے والی تعلیم کو اس علم کے ساتھہ جو انھوں نے میلاریپا کی رہ نمائی میں حاصل کیا ملانے اور جوڑنے کا نیک کرم انجام دینے کی سعادت سے بھی سرفراز ہوئے۔ گامپوپا کو اس یقین کا احساس ہوا کہ انھوں نے اپنی قیمتی زندگی کا پورا پورا فائدہ اٹھایا ہے۔

ایک آخری پل پار کرنے کے لیے

وہ دونوں ایک پل پر آئے اور میلاریپا نے کہا، "اب تم تنہا آگے جاؤ۔ مجھے الوداع کہو، کچھہ مبارک وجہوں سے، میں اس پُل کو پار نہیں کروں گا۔" پھر انھوں نے گامپوپا کو دعائیں دیں اور گامپوپا آگے بڑھ گئے۔ جب وہ پُل کو پار کر چکے تو میلاریپا نے انھیں لوٹ آنے کو کہا۔" ایک بار پھر واپس آجاؤ۔ میرے پاس تمھیں دینے کے لیے ایک بہت خاص تعلیم ہے۔ اگر میں یہ مشورہ تمھیں نہیں دے سکا، تو پھر اور کسے دوں گا؟"

گامپوپا نے پوچھا، "کیا اس خاص تعلیم اور مشورے کے لیے میں تمھیں ایک منڈل پیش کروں؟" میلاریپا نے جواب دیا کہ اب کوئی نذرانہ ضروری نہیں ہے۔ پھر انھوں نے گامپوپا کو متنبہ کیا کہ وہ اس مشورے کو ضایع نہ جانے دیں، بلکہ اسے اپنے دل کے عمیق ترین گوشوں میں اتار لیں۔ اس کے بعد میلاریپا نے اپنی پیٹھہ گامپوپا کی طرف موڑی، اپنا لباس اوپر کو سمیٹا، اور اپنا برہنہ نچلا دھڑ ان کے سامنے کر دیا۔ گامپوپا نے دیکھا کہ میلاریپا کے بدن کا پچھلا نششت والا حصہ سارے کا سارا سخت ہے، ایک دم سکھائے ہوئے چمڑے کی طرح۔

میلاریپا نے کہا، "مشق کے لیے کوئی بھی چیز مراقبے سے زیادہ بڑی نہیں ہے۔ بشرطے کہ تمھیں یہ معلوم ہو کہ کس مقصد کے لیے مراقبہ کرنا ہے اور کس طرح مراقبہ کرنا ہے۔ میں، جس نے کہ مراقبے کے بہت سے طریقوں کا علم اور سمجھہ حاصل کی ہے، اس وقت تک مراقبہ کرتا رہا جب تک کہ میری نششت والی جگہ کی کھال سوکھہ کر چمڑے کی طرح سخت نہیں ہو گئی۔ تمھیں بھی یہ کرنا چاہیے۔ یہ تمھاری آخری تعلیم ہے۔"

پھر انھوں نے گامپوپا سے کہا کہ اب رخصت کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ شاگرد نے استاد کو الوداع کہا، اور لہاسا کے جنوب کی سمت چل پڑے، جہاں انھوں نے میلاریپا کی پیشین گوئی کے مطابق اپنی ایک خانقاہ قائم کی۔

اختتام

"مُکش کا ہیروں والا زیور" ماحصل ہے ان تجربات کا جو گامپوپا نے اپنے کدمپا استادوں اور میلاریپا کی روایت سے ماخوذ تعلیمات اور مراقبوں کی مدد سے تشکیل دیے تھے۔ جس وقت انھوں نے یہ متن قلم بند کیا، وہ متذکرہ دونوں روایات کے عارف تھے اور انھوں نے اس متن میں دونوں مکاتب کی دانش کو آپس میں ملا دیا تھا۔

مخاطبوں کی یہ روایت ہے کہ وہ گرو جس نے اس متن کو ایک کتاب کی شکل دی، اس کے مختصر سوانح بھی بیان کر دیے جائیں، تاکہ مصنف کے الفاظ شاگردوں پر زیادہ گہرے اثرات مرتب کر سکیں۔ اگر آپ ایک کتاب کو محض پڑھ لیں یا اگر آپ کسی بھی متن کا مطالعہ اس کے مصنف کی بابت کچھہ جانے بغیر کر لیں تو یہ عمل اتنا با معنی نہ ہوگا۔ میں اسی روایت کی تقلید کر رہا ہوں۔

در حقیقت، ہم میں اور گامپوپا اور میلاریپا میں کوئی فرق نہیں ہے۔ شروع میں، میلاریپا ایک معمولی شخص تھے، اپنے تمام مضرت رساں اور تخریبی اعمال کی منفی طاقتوں سے بھرے ہوئے۔ لیکن انھوں نے اپنے پریشان کن جذبوں اور واہموں کو ختم کرنے کے لیے سخت محنت کی، اور بتدریج وہ بصیرتوں اور تجربات سے بہرور ہوتے گئے۔ یہی کچھہ گامپوپا کے ساتھہ بھی ہوا، وہ اپنی روحانی کامرانیوں کے حصول تک پہنچنے کے لیے انھیں بہت محنت کرنی پڑی تھی۔ انھوں نے جس وقت اپنی جستجو اور جد وجہد کا آغاز کیا وہ عظیم روشن ضمیر اور عرفان یافتہ ہستیوں کے مالک نہیں تھے، اور ان کے لیے اپنی دانش و فہم اور مراتب کو ترقی دینا آسان نہیں تھا۔ جہاں تک میلاریپا کا تعلق ہے، تو ان کا حال تو ہم میں سے بیشتر کے مقابلے میں زیادہ خراب تھا- اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر ہم عزمِ راسخ کے ساتھہ سخت محنت پر آمادہ ہوں تو کامرانی کا امکان ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ جب ہم اپنے اندر عظیم گروؤں کی ہمت اور حوصلہ پیدا کر لیتے ہیں، تو پھر ہم خود میلاریپا اور گامپوپا کے جیسے بن سکتے ہیں۔

"مُکش کا ہیروں والا زیور" ایک ایسے ہی عظیم گرو کا عطیہ ہے، جس نے، ہمارے فائدے کے لیے کدمپا اور مہامدرا روایت کے دو دھاروں کو ملا کر ایک صاف راستے کی شکل دی۔