ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت کا تعارف > مراقبہ کیا چیز ہے؟

مراقبہ کیا چیز ہے؟

الیگزینڈر برزن
ماسکو، روس جون ۲۰۱۰
ترمیم مسودہ از کمبرلی فٹز مورگن اور الیگزانڈر برزن

تعارف

جب ہم لفظ " مراقبہ " سنتے ہیں تو اکثر لوگوں کے دلوں میں اس کے متعلق مختلف خیال آتے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک کسی ایسی متصوّفانہ مشق کا تصور پیدا ہوتا ہے جس میں کسی طرح آپ اپنے من کی کسی اور ہی دنیا میں چلے جاتے ہیں۔ کچھ اور لوگوں کے نزدیک یہ ایک ایسی با ضابطہ طریقت ہے جس کو ایشیا کے بعض لوگ اختیار کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم مراقبہ کا بغور جائزہ لینا چاہتے ہیں تو ہمیں تین سوال پوچھنے چاہئیں اور ان کے جواب بھی دینے چاہئیں۔ مراقبہ کیا ہے؟ میں مراقبہ کیوں کرنا چاہوں گا؟ اور میں اسے کیسے کروں؟

مراقبہ کیا چیز ہے؟

پہلا سوال ہے : مراقبہ کیا ہے؟ مراقبہ ہماری تربیت کا ایک ایسا ضابطہ کار ہے جس کے ذریعہ ہم ایک مزید سود مند من کی کیفیت یا انداز فکر پیدا کرتے ہیں۔ یہ من کی ایک خاص کیفیت بارہا پیدا کرنے سے ہوتا ہے تا کہ ہم اس کے عادی ہو جائیں اور اسے اپنی عادت بنا لیں۔ یقیناً ایسی بے شمار من کی کیفیتیں اور انداز فکر ہیں جو فائدہ مند ہیں۔ ایک من کی کیفیت یہ ہو سکتی ہے کہ ہم بہت پر سکون ہیں، کم تناؤ یا پریشانی کا شکار ہیں۔ ایک دوسری کیفیت یہ ہو سکتی ہے جس میں ہماری توجہ زیادہ مرکوز ہو، یا من کی ایسی کیفیت جو زیادہ پر سکون ہے اور مستقل ذہنی خلش اور فکر سے آزاد ہے۔ اس سے بڑھ کر ایک اور من کی کیفیت ہو سکتی ہے جس میں ہم اپنے آپ کو، زندگی کو، اور ایسی ہی باتوں کو بخوبی سمجھتے ہیں؛ اس کے علاوہ ایک اور کیفیت بھی ہو سکتی ہے جس میں دوسروں کے لئے بہت سی محبت اور درد مندی پائی جاتی ہے۔ پس من کی ایسی کئی مختلف نوع کی سود مند کیفیات ہیں جنہیں ہم مراقبہ کے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں۔

مراقبہ کا مقصد کیا ہے؟

دوسرا سوال ہے : میں من کی ایسی کیفیات کیوں پیدا کرنا چاہوں گا؟ اس سوال کا جواب دینے کے لئے ہمیں دو عناصر کو مدنظر رکھنا ہو گا : اول، میرا مدعا کیا ہے؟ دوم، جذباتی لحاظ سے، میں یہ ہدف کیوں پانا چاہتا ہوں؟

مثال کے طور پر، میں ایک پرسکون اور شفاف من کیوں چاہوں گا؟ اس کی ایک واضح وجہ یہ ہے کہ ہمارا من شانت نہیں، اور یہ ہمیں بہت پریشان کرتا ہے؛ یہ ہمارے لئے بہت زیادہ عدم مسرت کا باعث بنتا ہے اور ہمیں زندگی میں بہترین کارکردگی سے روکتا ہے۔ ہمارے پریشان من کا ہماری جسمانی صحت پر بھی برا اثر پڑ سکتا ہے؛ یہ ہمارے گھروں میں مسائل پیدا کر سکتا ہے یا حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہے اور ہمارے دوسرے رشتوں کو خطرے میں ڈال سکتا ہے؛ یہ ہمارے کام پر مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ تو اس مثال کے مطابق ہمارا مقصد کسی کمزوری پر قابو پانا ہے، کسی قسم کے ذہنی اور جذباتی مسئلے کو حل کرنا ہے۔ اور ہم اس بات کی ذمہ داری لینے کا فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم مراقبہ کے ذریعہ اس مسئلے پرایک با ضابطہ عمل سے قابو پائیں گے۔

وہ کونسی جذباتی کیفیت ہے جو ہمیں مراقبہ کرنے پر مائل کرے گی؟ اچھا، تو یہ ممکن ہے کہ ہم اپنی موجودہ من کی پریشان کن حالت سے تنگ آ چکے ہیں۔ تو ہم اپنے آپ سے یہ کہتے ہیں، " بہت ہو چکا۔ مجھے اس صورت حال سے نکلنا ہے۔ مجھے اس کا کچھ کرنا ہے۔ " اور مثلاً اگر ہمارا مقصد اپنے عزیزوں کی مزید مدد کرنا ہے تو ہماری جذباتی کیفیت، اس بیزاری کے بجاے، محبت اور درد مندی والی ہو گی۔ ان تینوں جذبات کا مجموعہ ہمیں اس بات کی رغبت دلاۓ گا کہ ہم کوئی ایسی راہ تلاش کریں جو ہمیں بہتر طور سے ان کی مدد کرنے کے قابل بنا دے۔

تاہم یہ بہت اہم ہے کہ مراقبے کا حقیقت پسندانہ شعور پیدا کیا جاۓ۔ یہ سوچنا کہ محض مراقبہ میرے تمام مسائل حل کر دے گا غیر طبعی بات ہے۔ مراقبہ ایک آلہ کار ہے، ایک طریق کار ہے۔ جب ہم کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، اور کوئی مثبت جذبہ ہمیں اس کی جانب لیجا رہا ہوتا ہے تو ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ کسی انجام کی محض ایک ہی وجہ نہیں ہوتی۔ بے شمار اسباب ایک جگہ مرکوز ہو کر ایک اثر پیدا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر مجھے حد سے متجاوز خون کے دباؤ اور اعصابی تناؤ کی شکائت ہے تو مراقبہ یقیناً سود مند ہو گا۔ روزانہ مراقبہ کرنے سے میری فکر کچھ کم ہو گی۔ مگر خالی مراقبہ کرنے سے میرا فشار خون کم نہیں ہو گا۔ اس سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ مجھے اپنی غذا کو تبدیل کرنا ہو گا، زیادہ ورزش کرنا ہو گی، اور ہو سکتا ہے کہ مجھے دوا بھی لینی پڑے۔ بہت سے عناصر کے باہمی اطلاق سے مطلوبہ مقصد یعنی میرا خون کا دباؤ کم ہو گا۔

وہ طریقے جو مراقبے میں استعمال ہوتے ہیں انہیں ایک منفی سوچ استوار کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً میں اس بارے میں مراقبہ کر سکتا ہوں کہ میرا دشمن کس قدر خوفناک ہے۔ میں مراقبہ کے ذریعہ اپنے دل میں نفرت کو پروان چڑھا سکتا ہوں، جو مجھے دشمن کو ڈھونڈھنے اور اسے قتل کرنے پر آمادہ کرے گی۔ مگر عام طور پر مراقبے کا استعمال ایسے نہیں ہوتا۔ عموماً مراقبے کو ایک مثبت سوچ پیدا کرنے والے طریق کار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو ہمارے لئے اور دوسروں کے لئے فائدہ مند ہو۔

ہم مراقبہ کیسے کریں؟

تیسرا سوال یہ ہے : ہم مراقبہ کیسے کریں؟ اس کے کئی طریقے ہیں اور اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہم من کی کونسی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ مگر ان سب طریقوں میں ایک جنس مشترک ' مشق کی ضرورت ' ہے۔ مشق سے مراد کسی ایک عمل کو بار بار دہرانا ہے۔ اگر ہم جسمانی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو ہم باقاعدگی سے کوئی ورزش کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں اپنے منوں کی مشق کرنے کی ضرورت ہے۔

مراقبے کے ذریعہ من کی نئی کیفیات پیداکرنا

مراقبے سے مراد ہماری من کی کیفیت سے نبرد آزمائی ہے۔ لہٰذا یہ بات قرین قیاس ہے کہ کوئی مثبت تبدیلی لانے کے لئے کوئی من کا طریقہ استعمال کیا جاۓ۔ تو ہم اپنے من کی حالت بدلنے کے لئے کوئی جسمانی طریقہ استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں؛ مثلاً ہم مختلف یوگا انداز میں بیٹھ کر یا مختلف مارشل آرٹس مثلاً ٹائی چی کر کے۔ یہ بذات خود مراقبہ نہیں۔ ایسی جسمانی ورزشیں ایک خاص قسم کی من کی کیفیت پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں، مگر مراقبہ ایک ایسی چیز ہے جسے صرف من سے کیا جاتا ہے۔ لیکن یقیناً آپ یوگا بھاؤ یا ٹائی چی کرنے کے دوران مراقبہ کر سکتے ہیں۔ مگر جسمانی ورزش اور من کی مصروفیت دو مختلف چیزیں ہیں : ایک ہم جسم سے کرتے ہیں اور دوسری من سے۔

مطلوبہ مقصد حاصل کرنے کے لئے ہمیں کئی مختلف اسباب، جسمانی اور من کے، کو حرکت میں لانے کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ ہم اپنے طبعی جسم کو کام میں لا سکتے ہیں، مثلاً اپنی خوراک میں تبدیلی لا کر، جو ہمارے من کی حالت پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ لیکن مراقبے کا مطلب اپنے من پر کام کرنا ہے۔ پس اگر ہمارا کوئی خاص ہدف ہے تو ہمیں اس بات کا جائزہ لینا ہو گا کہ اس مقصد کو پانے کے لئے ہمیں اپنی زندگی میں کونسی طبعی اور من کی تبدیلی لانا ہو گی۔ ہمیں شائد کوئی مراقبے کی مشق شروع کرنا ہو گی، اپنی غذا کو تبدیل کرنا ہو گا، جسمانی ورزش میں اضافہ کرنا ہو گا، یا یہ سب کام کرنا ہوں گے۔

اگر یہ مشق صحیح طرح سے کی جاۓ تو ہمارے مراقبہ کے دورانیوں کے درمیانی وقفہ میں ہماری روزمرہ زندگی پراس کے اثرات مرتب ہونے لگتے ہیں۔ اگر ہم اپنے مراقبہ کے دورانیوں میں من کی ایک خاص کیفیت پیدا کر رہے ہیں، خواہ وہ ایک شانت، مزید مرتکز حالت ہو یا بیش محبت کیفیت، تو مراقبے میں خاموش بیٹھ کر وہ کیفیت پیدا کر لینا مدعا و منتہا نہیں۔ اس کا اصل مقصد یہ ہے کہ ( من کی ) ایسی مثبت کیفیت اس درجہ استوار کی جاۓ کہ یہ عادت بن جاۓ، ایک ایسی عادت جو دن کے دوران ہر وقت، جب بھی ہمیں ضرورت پڑے، ہمارے کام آۓ۔ آخر کار یہ ایک فطرت سی بن جاتی ہے؛ جو ہر وقت موجود ہوتی ہے : ہم بیش محبت کن، ہمدرد، متوجہ اور شانت ہو جاتے ہیں۔

اگر ہم محسوس کریں کہ ہمارے من کی حالت ویسی نہیں تو ہمیں صرف اپنے آپ کو یہ یاد دہانی کرانے کی ضرورت ہے :" اپنے دل میں مزید محبت پیدا کرو۔ " اور چونکہ مشق کے ذریعہ ہم من کی اس کیفیت سے اتنے مانوس ہو چکے ہیں تو ہم فوراً اس کیفیت کو پیدا کر سکتے ہیں۔ مثلاً اگر ہمیں کسی پر غصہ آنے لگے تو ہم فوراً اس سے باخبر ہو جاتے ہیں اور اپنے آپ کو یاد دہانی کرواتے ہیں، دانستہ یا غیر دانستہ طور پر :" میں ایسا نہیں بننا چاہتا !" پھر پلک جھپکتے ہی، ہم غصے کا یہ دریچہ بند کر دیتے ہیں یوں جیسے کوئی غلطی کی تنبیہ آنے پر ہم اپنے کمپیوٹر کو دوبارہ چالو کرتے ہیں، اور اس شخص کے لئے نئے سرے سے اپنے دل میں محبت کا احساس پیدا کرتے ہیں۔

اس قسم کی من کی کیفیت پیدا کرنا جیسے کہ محبتی شفقت محض نظم و ضبط پر ہی منحصر نہیں۔ مثال کے طور پر دل میں مزید محبت کو فروغ دینے کے لئے ہمیں اس بات کی کچھ سمجھ ہونی چاہئے کہ ہمیں کیوں ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں یہ سوچ کر اس بات کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم سب آپس میں متصل ہیں :" تم بھی میری طرح ایک انسان ہو؛ تمہارے بھی میری طرح جذبات ہیں؛ تم بھی بالکل میری طرح یہ چاہتے ہو کہ لوگ تمہیں پسند کریں، اور نا پسند یا نظرانداز نہ کریں۔ ہم سب یہاں اس کرہ ارض پر اکٹھے ہیں اور ہمیں آپس میں مل جل کر رہنا چاہئے۔ "

اس مثال سے ( بات سمجھنے میں ) کچھ مدد ملے گی۔ فرض کیجئے کہ آپ کسی ایلیویٹر میں دس لوگوں کے ہمراہ ہیں اور اچانک ایلیویٹر رک جاتا ہے اور آپ اس میں چند روز کے لئے پھنس جاتے ہیں۔ آپ کا ان لوگوں سے کیا رشتہ ہے؟ آپ اور باقی سب ایک جگہ پھنسے ہوۓ ہیں۔ آپ سب کی ایک جیسی حالت ہے؛ آپ سب کو بہر حال ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر گزارہ کرنا ہے۔ اگر اتنی چھوٹی سی جگہ میں آپ ایک دوسرے سے لڑنے لگیں تو یہ بہت تباہ کن ہو گا، ہو گا کہ نہیں؟ اس کی بجاۓ آپ کو ایک دوسرے سے تعاون کرنے اور صبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ آپ سب کو مل کر اس مشکل صورت حال سے نکلنے کی کوشش کرنا ہو گی۔ پس اس کرہ ارض کو ایک بہت بڑا ایلیویٹر تصور کرنا مدد گار ثابت ہو گا !

اس قسم کے مفصل مراقبہ سے ہم من کی ایک ایسی حالت پیدا کر سکتے ہیں جس میں دوسروں کے لئے پیار اور برداشت ہو۔ محض مراقبے میں بیٹھ کر اور اپنے آپ سے یہ کہ کر " میں اب زیادہ محبت کا اظہار کروں گا " ، کوئی حقیقی احساس پیدا کرنا نہائت مشکل کام ہے۔ پس جب ہم یہ سوال کریں کہ مراقبہ کیسے کیا جاۓ تو اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس مثال جیسی من کی ایک ایسی کیفیت استوار کی جاۓ جو کہ اور زیادہ محبت اور برداشت رکھتی ہو۔ ہم اپنے ایلیویٹر والے تجربہ جیسا ایک منظر استعمال کرنا سیکھتے ہیں۔ ہم اس پر غور کرتے ہیں حتیٰ کہ یہ ہماری سمجھ میں آ جاۓ۔ اور پھر مراقبے میں خاموش بیٹھے یہ تصور لئے کہ ہم دونوں طرح کے لوگوں کے درمیان ہیں – شناسا بھی اور اجنبی بھی – ہم من کی محبت اور درد مندی والی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

من کو شانت کرنا

مراقبے کا ایک اور طریقہ من کو شانت کرنا ہے تا کہ ہم من کی ایک مزید قدرتی حالت پا سکیں۔ یہاں یہ سمجھنے کی نہائت اہم بات ہے : جب ہم من کو شانتی پہنچانے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم کوئی کورا من چاہتے ہیں، جیسے کوئی بند ریڈیو۔ یہ قطعی ہمارا مقصد نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو اس سے بہتر ہے کہ جا کر سو جاؤ۔ یہاں مقصد من کی تمام پریشان کن کیفیتوں کو شانت کرنا ہے۔ بعض احساسات مثلاً جذباتی ہیجان، فکر مندی یا خوف نہائت پریشان کن ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ایسے تمام جذبات کو کچل دینا چاہئے۔

جب ہم اپنے من کو شانت کرتے ہیں تو ہمارا مقصد من کی ایک ایسی کیفیت پیدا کرنا ہے جو کہ شفاف اور ہوشیار ہو، من کی ایک ایسی حالت جس میں ہم یا تو محبت اور برداشت پیدا کرنے کے قابل ہوں، یا ہم اس قابل ہوں کہ وہ انسانی، قدرتی خیر خواہی کا اظہار کر سکیں جو ہم سب میں موجود ہے۔ اس کے لئے نہائت گہرا سکون درکار ہے – محض جسم کے پٹھوں کو ہی ڈھیلا چھوڑنا کافی نہیں، اگرچہ یقیناً ضروری تو ہے، بلکہ ذہنی اور جذباتی تناؤ کو بھی دور کرنا ہے جو ہمیں کچھ محسوس کرنے سے روکتا ہے – خصوصاً جو ہمیں قدرتی گرمائی اور من کی صفائی سے روکتا ہے۔ یہ کوئی ایسی مشق نہیں جس میں ذہن کو بند کر کے کسی روباٹ کی مانند ہو جانا جو خیالات سے عاری ہو۔

بعض لوگ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مراقبے سے مراد سوچ کو بند کر دینا ہے۔ یہ ایک غلط فہمی ہے۔ ہر قسم کی سوچ بند کرنے کی بجاۓ مراقبہ کے ذریعہ ایسے تمام ذیلی اور غیر ضروری خیالات، مثلاً مستقبل کے بارے میں بھٹکانے والے خیالات جیسے ( میں آج شام کو کیا کھاؤں گا؟ ) ، اور منفی خیالات یا ذہنی ہنر کاری جیسے ( تم کل مجھ سے بری طرح پیش آۓ۔ تم ایک بہت برے انسان ہو۔ ) ۔ ایسے تمام خیالات من کی گمراہی اور پریشان کن سوچ کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔

ایک شانت من کا ہونا تاہم محض ایک آلہ کار ہے؛ یہ ہمارا منتہا نہیں۔ پر اگر ہمرا من ایک ایسا من ہو جو زیادہ شانت، پر سکون، شفاف اور کشادہ ہے تو پھر ہم اسے تعمیری انداز میں استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم یقیناً اسے اپنی روز مرہ زندگی میں اپنے فائدے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں؛ مگر ہم اسے مراقبے کی حالت میں بھی اپنی زندگی کی صورت حال کو بہتر طور پر سمجھنے کے لئے استعمال میں لا سکتے ہیں۔ ایک ایسے من سے جو پریشان کن جذبات اور ذیلی خیالات سے پاک ہو ہم اہم موضوعات مثلاً : میں نے اپنی زندگی میں کیا کیا ہے؟ یا : اس اہم رشتہ میں کیا ہو رہا ہے؟ کیا یہ صحت مند ہے یا غیر صحت مند؟ کے متعلق بہت زیادہ صفائی سے سوچ سکتے ہیں۔ ہم تجزیہ نگاری سے کام لے سکتے ہیں۔ اس سے مراد ہے دروں بینی – یعنی مزید خود شناسی کہ ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے، ہماری زندگیوں میں کیا ہو رہا ہے۔ ایسے مسائل کو سمجھنے کے لئے اور مثبت انداز میں دروں بینی کے لئے ہمیں صاف من کی ضرورت ہے۔ ہمیں ایک شانت من درکار ہے اور مراقبہ ہی وہ آلہ کار ہے جو ہمیں یہاں تک لا سکتا ہے۔

من کی تصوراتی اور غیر تصوراتی کیفیات

مراقبے کے متعلق بہت سے مسودات ہمیں تصوراتی خیالات سے نکلنے اور غیر تصوراتی حالت اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ ہدائت سب مراقبوں پر لاگو نہیں ہوتی۔ اس کا اطلاق مراقبے کی ایک خصوصاً ترقی یافتہ صورت پر ہوتا ہے جس میں حقیقت پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ تاہم تصور کی ایک قسم ایسی ہے جس سے ہر قسم کے مراقبہ کو دور رہنا چاہئے۔ مگر تصور کی مختلف اقسام کو سمجھنے کے لئے جن کا ذکر مراقبے کے اسباق میں کیا گیا ہے ہمیں لفظ ' تصوراتی ' کے معانی جاننےکی ضرورت ہے۔

بعض لوگوں کے نزدیک تصوراتی ہونے سے مراد روز مرہ کے عام خیالات ہیں جن کا ہمارے من میں گزر ہوتا ہے – جسے عموماً " سروں میں آوازیں " کہتے ہیں – اور غیر تصوراتی ہونے کا مطلب محض اس آواز کو چپ کرانا ہے۔ مگر اپنے سر کے اندر کی آواز کو چپ کرانا تو محض شروعات ہے۔ ہم نے ایک شفاف اور شانت من تشکیل دینے کی خاطر اپنے منوں کو ذیلی پریشان کن خیالات سے نجات دلانے کے ضمن میں اس پر پہلے ہی بحث کی ہے۔ کچھ اور لوگ یوں سوچتے ہیں کہ کسی بات کو صحیح طور پر سمجھنے کے لئے ہمیں اسے غیر تصوراتی انداز میں سمجھنا چاہئے، اور یہ کہ تصوراتی خیال اور درست فہم ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ مگر معاملہ یوں نہیں ہے۔

تصور کے متعلق الجھنوں کو سلجھانے کی خاطر پہلے ہمیں اپنے خیالات کو الفاظ کا جامہ پہنانے اور انہیں سمجھنے کے درمیان امتیاز کو جاننا درکار ہے۔ ہم کسی بات کو سمجھے یا نہ سمجھے بغیر اپنے خیالات میں الفاظ کی شکل دے سکتے ہیں۔ مثلاً ہم کسی غیر ملکی زبان میں کسی دعا کو، خواہ اس کے معانی ہماری سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں، پڑھ سکتے ہیں۔ اسی طرح ہم کسی بات کو الفاظ میں بغیر اس کی وضاحت کرنے کے سمجھ سکتے ہیں، مثلاً یہ کہ محبت میں کیسا محسوس ہوتا ہے۔

مراقبے میں تصوراتی بالمقابل غیر تصوراتی کے ادراک کا مسئلہ کسی بات کو سمجھنے یا نہ سمجھنے سے تعلق نہیں رکھتا۔ مراقبے میں اور روزمرہ زندگی میں ہم ہمیشہ سوجھ بوجھ کو برقرار رکھتے ہیں خواہ وہ تصوراتی ہو یا غیر تصوراتی، اور خواہ ہم اسے اپنے من میں الفاظ کے روپ میں ڈھالیں یا نہ ڈھالیں۔ بعض اوقات الفاظ میں بیان کرنا فائدہ مند ہوتا ہے؛ مگر بعض اوقات قطعی سودمند نہیں ہوتا بلکہ اس کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر اپنے جوتوں کے تسمے کسنا : ہم جانتے ہیں کہ جوتوں کے تسمے کیسے باندھے جاتے ہیں۔ جب آپ اپنے جوتوں کے تسمے باندھ رہے ہوتے ہیں تو کیا آپ کو سچ مچ یہ بتانے کی ضرورت پڑتی ہے کہ آپ انہیں باندھتے وقت اس تسمے کو کیا کریں گے اور اُس تسمے کو کیا کریں گے؟ نہیں۔ بلکہ میرا خیال ہے کہ درحقیقت ہم میں سے بیشتر کو یہ بیان کرنے میں بہت دقت پیش آۓ گی کہ وہ تسمے کیسے باندھتے ہیں۔ تاہم ہم سمجھتے ہیں۔ بغیر سمجھنے کے ہم زندگی میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ کیا آپ ایسا کر سکتے ہیں؟ آپ ایک دروازہ بھی نہیں کھول سکتے۔

بہت سے پہلوؤں سے لفاظی در اصل فائدہ مند ہے؛ ہم دوسروں سے بات چیت کرنے کے لئے الفاظ کا استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ہماری سوچ میں الفاظ کا استعمال لازم نہیں؛ لفاظی بذات خود غیرجانبدار ہے۔ ہمارے ہاں چند کارآمد مراقبے ہیں جن میں الفاظ کا استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اپنے من میں منتروں کو جپنا ایک قسم کی لفاظی ہے جو من میں ایک خاص قسم کا ترنم یا ارتعاش پیدا کرتی ہے۔ منتر کا باقاعدہ ترنم بہت مدد گار ہوتا ہے؛ یہ ہمیں من کی کسی خاص کیفیت پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جب ہم محبت اور دردمندی کے جذبات کو پروان چڑھا رہے ہوں تو اس وقت ' اوم منی پیمے ہنگ ' کا منتر جپنے سے اس محبت والی کیفیت سے دھیان جوڑے رکھنا ذرا آسان ہو جاتا ہے، اگرچہ ہم اپنے من میں کچھ کہے بغیر بھی محبت والی کیفیت پر توجہ مرکوز کئے رہ سکتے ہیں۔ پس لفاظی بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ دوسری طرف ہمیں یقیناً اپنے منوں کو شانت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب ان کے اندر بیکار شور مچ رہا ہو۔

لہٰذا اگر تصور کے مسئلہ کا تعلق لفاظی اور سمجھ بوجھ سے نہیں تو پھر مسئلہ کیا ہے؟ تصوراتی من کیا چیز ہے اور جب مراقبی ہدائت ہمیں اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی تلقین کرتی ہے تو اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا اس ہدائت کا اطلاق مراقبے کے تمام درجات اور تمام منازل اور روزمرہ زندگی پر ہوتا ہے؟ ان نکات کی وضاحت ضروری ہے۔

تصوراتی من سے مراد طبقات کے لحاظ سے سوچنا ہے جس کا سادہ زبان میں مطلب ہے کہ چیزوں کے بارے میں انہیں " ڈبوں " میں بند کرنا مثلاً " اچھا " یا " برا " ، " کالا " یا " سفید " ، " کتا " یا " بلی " ۔ جب ہم خریداری کرتے ہیں تو ہمیں سیب اور سنگترے، یا کچے اور پکے پھل کے درمیان تمیز ہونی چاہئے۔ ایسے روزمرہ کے معاملات میں طبقات کے لحاظ سے سوچنا کوئی مسئلہ نہیں۔ لیکن بعض طبقات ایسے ہیں جو مشکل ہیں۔ ان میں سے ایک کو ہم " پہلے سے قائم شدہ راۓ " کہتے ہیں۔

اس کی ایک مثال یہ ہے :" میں تم سے ہمیشہ بدسلوکی کی توقع کرتا ہوں۔ تم ایک بہت برے انسان ہو کیونکہ ماضی میں تم نے فلاں فلاں حرکت کی، اور اب میں پیشین گوئی کرتا ہوں کہ خواہ کچھ بھی ہو تم ہمیشہ ایک برے انسان ہی رہو گے۔ " ہم نے پہلے سے ہی فیصلہ صادر کر دیا ہے کہ یہ ایک بہت برا انسان ہے اور وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ ایسے ہی پیش آۓ گا – یہ ایک پہلے سے قائم شدہ راۓ ہے۔ ہم اپنے تصور میں اس شخص کو " برے لوگوں " کی فہرست یا ڈبے میں ڈال دیتے ہیں۔ اور یقیناً جب ہم اس طرح سوچتے ہیں اور اس شخص کی نسبت ایسا خیال رکھتے ہیں : " وہ ایک گھٹیا انسان ہے؛ وہ مجھ سے ہمیشہ بری طرح پیش آتا ہے، " تو اس طرح اس شخص کے اور ہمارے درمیان ایک اونچی دیوار حائل ہو جاتی ہے۔ ہماری پہلے سے قائم شدہ راۓ ہمارے درمیان تعلق پر اثر انداز ہوتی ہے۔ پس پہلے سے راۓ قائم کرنا من کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں ہم چیزوں ( اور انسانوں ) کو طبقات میں تقسیم کر دیتے ہیں۔

غیر تصوریت کے بیشمار درجے ہیں، مگر ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب کوئی صورت حال سامنے آۓ تو اس کے بارے میں کشادہ دلی سے کام لینا۔ اب اس کا مطلب تمام تصوراتی فہم کو رد کر دینا نہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی کتے نے کئی لوگوں کو کاٹا ہے، تو اس کتے کو " کاٹنے والے کتے " کی فہرست میں شامل کر کے ہم اس کے گرد محتاط رہیں گے۔ ہم اس جانور کے گرد مناسب احتیاط برتیں گے۔ مگر ہم ایسی پہلے سے قائم شدہ سوچ سے کام نہیں لیں گے :" یہ کتا مجھے ضرور کاٹے گا لہٰذا میں اس کے قریب جانے کی کوشش بھی نہیں کروں گا۔ " ایک نئی صورت حال جو جنم لے رہی ہے اسے قبول کرنے اور اس کے بارے میں کوئی طے شدہ راۓ قائم کرنے، جو ہمیں اس کا پوری طرح مزہ چکھنے سے روک سکتی ہے، کے درمیان ایک لطیف توازن ہے۔

پس غیر تصوریت کا وہ درجہ جس کی سب طرح کے مراقبوں میں ضرورت پڑتی ہے ایک ایسا من ہے جو پہلے سے طے شدہ راۓ سے بیگانہ ہے۔ مراقبے کے بارے میں عام ہدایات میں سے ایک عمومی ہدائت یہ ہے کہ بغیر کسی توقعات اور پریشانیوں کے مراقبہ کیا جاۓ۔ مراقبے کے سلسلہ میں پہلے سے طے شدہ راۓ ایسی توقع ہو سکتی ہے جیسے ہمارا مراقبہ بہت شاندار ہو گا، یا یہ فکر کہ ہماری ٹانگیں درد کریں گی، یا یہ خیال :" میں کامیاب نہیں ہوں گا۔ " ایسی توقعات اور افکار، خواہ ہم ان کو الفاظ کا لبادہ پہنائیں یا نہ پہنائیں، پہلے سے طے شدہ تصورات ہیں۔ ایسے خیالات ہمارے آنے والے مراقبہ کو من کے ایک " لاجواب تجربہ " یا " تکلیف دہ تجربہ " کے ڈبے یا طبقے میں بند کر دیتے ہیں۔ مراقبے کی ایک غیر تصوراتی صورت یہ ہو گی کہ جو ہو اسے بس قبول کر لیا جاۓ اور اس کے بارے میں بغیر کوئی فیصلہ صادر کئے اس سے مراقبے کی ہدایات کے مطابق نمٹا جاۓ۔

مراقبے کے لئے سازگار حالات

ہمیں مراقبے کے لئے یقیناً ساز گار حالات درکار ہوتے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک ساز گار ماحول وہ ہوتا ہے جسے میں " ہالی وڈ کا منظر " کہتا ہوں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ انہیں ایک خاص کمرہ چاہئے جس میں موم بتیاں، خاص قسم کی موسیقی، اور خوشبو کا بندوبست ہو؛ وہ سوچتے ہیں کہ انہیں ہالی وڈ کی فلم کا پورا سیٹ چاہئے۔ اگر آپ ایسا ماحول چاہتے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ البتہ اس کی ضرورت کوئی نہیں۔ ہمیں اپنے آپ سے اور ہم جو مراقبے سے کر رہے ہیں اس میں احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے، تو جس بات کا مشورہ دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ مراقبے کی جگہ صاف ستھری ہو۔ عموماً اس کمرے کو جہاں آپ مراقبہ کریں گے صاف کر لیا جاتا ہے۔ کمرے میں چیزوں کو ٹھکانے لگائیں؛ فرش پر ہر طرف کپڑے بکھرے نہیں ہونے چاہئیں۔ اگر ہمارے ارد گرد کا ماحول ڈھنگ کا ہو تو اس سے من کو حصول قرینہ میں مدد ملتی ہے۔ اگر ماحول انتشار پذیر ہے تو اس سے من پر منفی اثر ہوتا ہے۔

اگر ماحول میں خاموشی ہو تو اس سے بھی بیحد مدد ملتی ہے، خصوصاً شروع شروع میں۔ بدھ متی مراقبے میں ہم یقیناً سنگیت کے ساتھ مراقبہ نہیں کرتے۔ سنگیت ایک ایسا خارجی عنصر ہے جسے ہم شانتی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مگر شانتی حاصل کرنے کی خاطر کسی خارجی عنصر پر تکیہ کرنے کی بجاۓ ہمیں اس شانت کو اندر سے پیدا کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ ایسے ہی سنگیت بھی بہت سحرانگیز ہو سکتا ہے، ہمیں گم سم ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں کسی مسکّن دوا کی ضرورت نہیں جیسے کسی دندان ساز کے کمرہ انتظار میں بیٹھے شانتی کی خاطر ہلکی پھلکی موسیقی سن رہے ہوں۔ یہ کوئی مراقبے کا اچھا ماحول نہیں۔

مرقبے میں بیٹھنے کے مناسب انداز کے متعلق اگر مختلف ایشیائی روایات کو دیکھا جاۓ تو ہمیں مراقبے میں بیٹھنے کے کئی مختلف اطوار نظر آئیں گے۔ تبتی اور ہندوستانی لوگ آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہیں؛ جاپانی لوگ ٹانگوں کو اکٹھا کر کے یوں بیٹھتے ہیں کہ پاؤں کے تلووں کا رخ پیچھے کی جانب ہو؛ تھائی لوگ دونوں ٹانگیں ایک سمت موڑ کر بیٹھتے ہیں۔ سب سے اہم بات آرام دہ انداز میں بیٹھنا ہے۔ اگر آپ کرسی پر بیٹھنا چاہیں تو وہ بھی درست ہے۔ مراقبے کی بہت ترقی یافتہ مشقیں جن میں ہم جسم کے سلسلہ ہاۓ توانائی کے ساتھ کام کر رہے ہوتے ہیں، انداز نشست اہم ہے۔ لیکن عام حالات میں ہمیں کسی بھی ماحول میں مراقبہ کرنے کے قابل ہونا چاہئے۔ اگر آپ آلتی پالتی مار کر کسی گدی پر بیٹھنے کے عادی ہیں، اور اگر آپ ہوائی جہاز یا ریل گاڑی میں سفر کر رہے ہیں جہاں آپ ایسے نہیں بیٹھ سکتے تو آپ اپنی نشست پر بیٹھے مراقبہ کر سکتے ہیں۔

خصوصاً کم تجربہ کار مراقبہ گردوں کے لئے ضروری ہے کہ ماحول شانت ہو۔ ہم جیسے بیشتر لوگوں کے لئے کوئی شانت جگہ تلاش کرنا، خصوصاً شہر میں، اتنا آسان نہیں۔ تو کئی لوگ صبح سویرے یا رات دیر گئے جب شور قدرے کم ہوتا ہے مراقبہ کرتے ہیں۔ آخر کار جب ہم کافی ترقی کر لیتے ہیں تو شور مخل نہیں ہوتا، مگر شروع شروع میں شور کی وجہ سے توجہ کا ہٹ جانا بہت آسان ہوتا ہے۔

عموماً اس بات کا تعین کرنا کہ ہمارے لئے دن کا کونسا وقت مراقبے کے لئے بہترین ہو گا ضروری ہے۔ مثلاً بعض لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ کھانا کھانے کے بعد ان کی توانائی کم ہو جاتی ہے، وہ تھکن محسوس کرتے ہیں، تو ان کے لئے یہ وقت مراقبے کے لئے مناسب نہیں۔ بعض لوگ جب صبح اٹھتے ہیں تو بہت ہشاش بشاش ہوتے ہیں جبکہ کچھ دوسرے لوگ صبح کا بیشتر حصہ کھوئے کھوئے پھرتے ہیں۔ بعض لوگ رات دیر گئے زیادہ چست محسوس کرتے ہیں جبکہ کچھ دوسرے لوگ، اگر وہ مراقبہ کرنا چاہیں، تو جاگتے رہنے کے لئے جدوجہد کرتے ہیں، جو کہ کار آمد نہیں۔ پس اس بات کا تعین خود کرنا کہ دن کا کونسا وقت آپ کے لئے مناسب ہے ضروری امر ہے۔

ہمیں اپنے لئے بہترین انداز نشست کا تعین بھی کرنا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر ہم آلتی پالتی مار کر بیٹھتے ہیں تو ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ ہم اپنی پشت کے نیچے گدی رکھیں۔ لیکن کئی ایسے لوگ ہیں جو گدی استعمال نہیں کرتے۔ اور اگر آپ گدی استعمال کرتے ہیں تو اس بات کا فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ آپ کس قسم کی گدی استعمال کریں گے : موٹی یا پتلی، سخت یا نرم۔ آپ کو ایسی گدی اور ایسا انداز نشست اپنانے کی ضرورت ہے جس سے آپ کی ٹانگیں کم سے کم سوئیں ( دوران خون پر اثر نہ ہو ) اور آپ کی پوری نشست درد اور بے آرامی سے محفوظ رہے۔ ہماری مراقبے کی نشست ایسا تکلیف دہ تجربہ نہیں ہونا چاہئے جس میں ہم درد میں مبتلا ہیں کیونکہ ہمارے گھٹنوں میں تکلیف ہے اور ہم اس نشست کے جلد از جلد ختم ہونے کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ لہٰذا آپ کس قسم کی گدی استعمال کرتے ہیں یہ اہم ہے، اس سے بہت فرق پڑتا ہے۔ لیکن جب ہم بوڑھے ہو جائیں اور آلتی پالتی مار کر نہ بیٹھ سکیں تو پھر کرسی پر بیٹھنے میں کوئی حرج نہیں اگرچہ ہماری کمر سیدھی رہنی چاہئے۔

اسی طرح ہمارا مراقبے کا دورانیہ بھی ہماری ترقی کے ساتھ ساتھ کم و بیش ہو گا۔ اس بات کی ہمیشہ ہدائت دی جاتی ہے کہ شروع میں ہم بہت کم عرصہ کے لئے مراقبہ کریں - تین سے پانچ منٹ تک – کیونکہ اس سے زیادہ وقت کے لئے ہمارے لئے اپنی توجہ مرتکز کرنا بہت مشکل ہو گا۔ ایک مختصر وقت کے لئے ( مراقبہ ) جس میں ہم زیادہ مرتکز ہوں اس لمبے عرصہ سے بہتر ہے جس میں ہمارا من آوارہ ہو، ہم خیالی پلاؤ پکا رہے ہوں، یا ہمیں نیند آ رہی ہو۔

اگر ہم کسی خاص قسم کا زین مراقبہ کر رہے ہیں تو انداز نشست بر قرار رکھنا اور ساکت رہنا لازم ہے۔ اور دوسری قسم کے مراقبوں میں اگر آپ کو اپنی ٹانگیں ہلانے کی ضرورت پیش آۓ تو آپ ایسا کر سکتے ہیں – یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ ان تمام روحانی مشقوں میں آرام دہ حالت میں رہنا بہت ضروری ہے؛ اپنے آپ پر جبر نہ کریں۔ یقیناً ہم اس کام کو جو ہم کر رہے ہیں تعظیم دیتے ہیں، مگر اس کو ڈرامائی شکل مت دیں، جیسے :" میں یہاں بیٹھا ایک پارسا ہستی ہوں اور مجھے بے عیب ہونا چاہئے۔ "

ایک نہائت اہم یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر چیز میں اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔ بعض دن ہمارا مراقبہ تسلی بخش ہو گا اور بعض دن نہیں ہو گا۔ بعض روز ہماری طبیعت مائل مراقبہ ہو گی، بعض روز نہیں ہو گی۔ ایسا کبھی نہیں ہو گا کہ ہمارا مراقبہ لگا تار روز بہ روز بہتر سے بہترین ہوتا چلا جاۓ۔ ترقی یوں یک سمت نہیں ہوتی؛ اس میں ہمیشہ اتار چڑھاؤ ہوتا ہے۔ یہ ممکن ہے کہ چند سال گزر جانے پر آپ محسوس کریں کہ آپ کی مراقبے کی مشق عموماً ترقی پذیر ہے مگر ایسی صورت حال ہمیشہ قائم رہے گی کہ بعض دن دوسروں سے بہتر ہوں گے۔ میرا ایک استاد کہا کرتا تھا :" کوئی بڑی بات نہیں۔ " ( یہ ) کام ٹھیک چل رہا ہے – کوئی خاص بات نہیں۔ ( یہ ) کام ٹھیک نہیں چل رہا – تو بھی کوئی خاص بات نہیں۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں۔ سب سے اہم بات استقلال ہے۔ ہر روز مراقبہ کرو۔ جیسے آپ پیانو کی مشق کرتے ہیں ایسے ہی روزانہ ( مراقبہ ) کرو۔ اور اگر آپ ایک وقت میں چند منٹ ( مراقبہ ) کرتے ہیں تو وہ بھی ٹھیک ہے۔ کچھ وقت کا وقفہ دے کر پھر چند منٹوں کے لئے مراقبہ کرو۔ پھر ایک چھوٹا وقفہ دے کر چند منٹ اور مراقبہ کرو۔ اس طرح مشق کرنا ایک گھنٹے کی لمبی تکلیف دہ نشست سے بہتر ہے۔

سانس پر مراقبہ کی مشق

بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ وہ مراقبہ کیسے شروع کریں؟ بہت سی روایات میں بیشتر لوگوں کے لئے ہم مراقبہ اپنے سانس پر توجہ مرکوز کرنے سے شروع کرتے ہیں۔ جب آپ سانس پر مراقبہ کرتے ہیں تو آپ معمول کے مطابق سانس لیتے ہیں : نہ زیادہ تیز، نہ بہت آہستہ، نہ زیادہ گہرا، نہ کم گہرا۔ بس حسب معمول ناک کے راستہ سانس لیں۔ آپ یقیناً تیز تیز سانس نہیں لینا چاہیں گے؛ اور اگر آپ بہت زیادہ گہرے سانس لیں تو آپ بری طرح چکرا جائیں گے جو کہ بالکل سود مند نہیں۔

آپ سانس پر دو جگہوں سے توجہ مرکوز کر سکتے ہیں : یا تو ناک میں جہاں سے سانس اندر باہر آتا جاتا ہے، یا پیٹ میں جہاں سے سانس اندر باہر آتا جاتا ہے۔ اگر آپ کا من بہت آوارگی کا شکار ہے اور آپ بادلوں میں اڑ رہے ہیں – جسے ہم انگریزی میں " ترنگ میں ہونا " کہتے ہیں تو ایسی صورت میں پیٹ کے ناف کے ارد گرد کے علاقے پر سانس کو اندر باہر آتے جاتے محسوس کرنے سے آپ کو ایک جگہ ٹھہرنے میں مدد ملے گی۔ اس کے برعکس اگر آپ پر نیند کا غلبہ ہے اور آپ سست محسوس کر رہے ہیں تو ایسی صورت میں ناک میں سانس کو آتے جاتے محسوس کرنے سے آپ کی توانائی بڑھ سکتی ہے۔ پس یہ فیصلہ آپ کو خود کرنا ہے کہ کسی ایک خاص موقع پر آپ کو کس چیز کی ضرورت ہے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ سانس پر توجہ مرکوز ہو، با خبری کے ساتھ ۔ آپ اپنے من کو بند نہیں کرتے؛ آپ سانس لینے کے احساس سے، بغیر من میں کسی چالو تبصرے کے، واقف ہیں۔

اصل کام اس بات کا احساس ہے کہ جونہی آپ کا دھیان بھٹکنے لگے آپ کو پتہ چل جاۓ اور آپ اسے واپس ٹھکانے لے آئیں۔ یا، اگر آپ سست محسوس کریں اور آپ کو نیند آنے لگے تو آپ اپنے آپ کو چوکنا کر لیں۔ یہاں یہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اور ہمیں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہئے : یہ کام آسان نہیں کیونکہ ہم اپنے خیالات اور ذہنی آوارگی سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی توجہ واپس لانی ہے۔ خصوصاً جب ہمارے خیال کے ہمراہ کوئی پریشان کن احساس بھی ہو، مثلاً کسی ایسے شخص کے بارے میں سوچنا جس سے ہمارا گہرا تعلق ہے، جس کی جدائی ہمیں تنگ کر رہی ہے، یا کوئی جس سے ہم سخت ناراض ہیں، تو ایسی صورت میں توجہ کو واپس لانا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ مگر سانس ہمیشہ موجود ہے؛ یہ ایک ایسی مستحکم چیز ہے جس کی جانب ہم کبھی بھی لوٹ سکتے ہیں۔

سانس پر توجہ دینے کے اور بھی کئی فائدے ہیں۔ سانس جسم سے بیحد متصل ہے۔ اور اگر ہم اس قسم کے انسان ہیں جو اپنے خیالات میں کھویا رہتا ہے یا سر پھرا ہے تو ایسی صورت میں سانس پر توجہ مرکوز کرنا، خواہ وہ نتھنوں پر ہو یا پیٹ پر، ہمیں زمین پر لانے میں، ہمارے جسم میں واپس، حقیقت پر لانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اگر ہمیں درد ہو رہا ہو تو بھی سانس پر توجہ مرکوز کرنا فائدہ مند ہوتا ہے۔ در حقیقت بعض ہسپتالوں نے، خصوصاً امریکہ کے ہسپتالوں نے، درد کے علاج کے طور پر سانس کے مراقبہ کو اپنایا ہے۔ اگر آپ اس پر ذرا غور کریں کہ جب کوئی بچہ روتا ہے اور ماں اس کو سینے سے لگاتی ہے تو بچہ ماں کی سانس کو انر باہر آتے جاتے محسوس کرتا ہے جو کہ بہت سکون بخش ہے۔ اسی طرح اگر ہم اپنے سانس پر توجہ دیں تو اس سے ہمیں شانتی ملتی ہے، خصوصاً اگر ہم بہت درد محسوس کر رہے ہوں۔ سانس کے عمل سے نہ صرف جسمانی درد کا علاج ہوتا ہے بلکہ اس سے جذباتی درد بھی ختم یا کم ہو سکتا ہے۔

اگلی بات آپ کو یہ جاننا ہے کہ آپ کو اپنی آنکھوں کا استعمال کیسے کرنا ہے۔ بعض روایات کے مطابق آپ اپنی آنکھیں بند کر کے مراقبہ کرتے ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہے کہ آپ کا بھٹکنا کم ہو جاتا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ آنکھیں بند ہوں تو نیند آنے لگتی ہے۔ آنکھیں بند کر کے مراقبہ کرنے کا ایک اور نقصان یہ ہے کہ اس سے آپ کو شانت ہونے یا مراقبہ کرنے کے لئے آنکھیں بند کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے جو کہ عام روز مرہ زندگی میں کرنا عموماً بہت مشکل ہوتا ہے۔ تبتی لوگ مراقبے کے وقت آنکھیں کھلی رکھتے ہیں، ایسا نہیں کہ بہت زیادہ کھلی اور ارد گرد کا جائزہ لیتی، مگر بس ایک نیم واغیر مرتکزنظر سے نیچے فرش کی جانب دیکھتے ہوۓ۔ بہر حال اس بات کا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے کہ ہمیں کیا راس ہے۔

دوسروں کے لئے دل میں محبت پیدا کرنا

جب ہم ایک بار اپنے منوں کو سانس کے مراقبہ سے شانت کر لیں تو ہم من کی اس شانت اور چوکس حالت کو بروۓ کار لا سکتے ہیں۔ ہم اس کے استعمال سے اپنی جذباتی کیفیت کے بارے میں زیادہ با خبر ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم اسے مراقبے میں بھی دوسروں کے لئے اپنے دل میں مزید محبت پیدا کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ محبت استوار کرنے کے لئے آپ کو خود کو محبت کی کیفیت تک پروان چڑھانا ہے۔ شروع میں آپ ایسے نہیں سوچ سکتے :" اب میں سب سے پیار کرتا ہوں " اور پھر واقعی ایسا محسوس کریں۔ ایسے خیال کے پیچھے کوئی قوت نہیں۔ لہٰذا آپ دل میں محبت پیدا کرنے کے لئے خیال کا ایک سلسلہ جاری کرتے ہیں، مثلاً :" تمام مخلوق ایک باہمی بندھن میں بندھی ہوئی ہے؛ ہم یہاں سب ایک ہیں۔ ہر شخص دوسرے جیسا ہے۔ ہر شخص خوشی کا خواہاں ہے، کوئی بھی غم کا طلب گار نہیں۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ اسے پسند کیا جاۓ، کوئی بھی نا پسندیدگی یا نظر اندازی کا متمنی نہیں۔ تمام مخلوق مجھ جیسی ہے۔ "

اور چونکہ ہم یہاں اکٹھے ہیں اور ایک دوسرے سے متصل ہیں، تو محبت کا احساس یوں ہے :" کاش کہ ہر کوئی خوش ہو اور اس کے لئے خوشی کے اسباب پیدا ہوں۔ کیا ہی اچھا ہو اگر ہر کوئی خوش ہو، کسی کو کوئی مسائل درپیش نہ ہوں۔ " اور جب ہم اس قسم کی من کی کیفیت اور ایسا محبت کرنے والا دل پیدا کر لیتے ہیں، تو پھر ہم ایک گرم، زرد رنگ کے سورج جیسی روشنی کا تصور کرتے ہیں جو ہمارے اندر سے محبت سے لبریز ہو کرسب کی طرف جا رہی ہے۔ اگر ہمارا دھیان بٹ جاۓ تو ہم اسے واپس اس احساس کی جانب لاتے ہیں :" کاش ہر کوئی خوشی سے ہمکنار ہو۔ "

روز مرہ زندگی کے لئے سودمند عادات استوار کرنا

اگر ہم اس قسم کے مراقبہ کی اپنے آپ کو عادت ڈالیں تو ہم ایسے آلات تشکیل دیتے ہیں جو ہماری روزمرہ زندگی میں کام آئیں۔ محض اپنے سانس پر توجہ مرکوز کرنا ہی ہمارے روزمرہ کا معمول نہیں ہوگا۔ یہ ہمارا منتہا نہیں، کیا ( یہ ) ہے؟ لیکن اپنی توجہ کو واپس ٹھکانے پر لانے کا ہنر جو ہم نے سیکھا ہے – اسے ہم یقیناً روزمرہ زندگی میں کام میں لا سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم کسی سے گفتگو کر رہے ہیں اور اس دوران اگر ہمارا من بھٹکنے لگتا ہے، اور ہم سوچتے ہیں :" یہ کب چپ کرے گی؟ " اور وہ جو کہ رہی ہے ہم اس کے بارے میں اپنے من میں کئی طرح کی آرا قائم کر رہے ہیں اور تبصرے کر رہے ہیں، لیکن جونہی ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے تو ہم اس کو بند کرنے اور اپنی توجہ اس کی طرف اور جو وہ کہ رہی ہے اس کی طرف واپس لانے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ ہم وہ ہنر استعمال کر رہے ہیں جو ہم نے مراقبے کے دوران یہ سوجھ بوجھ پیدا کرنے کے لئے سیکھے :" یہ ایک انسان ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے پسند کیا جاۓ۔ جب وہ مجھ سے بات کرتی ہے تو وہ چاہتی ہے کہ اس کی بات کو سنا جاۓ۔ وہ چاہتی ہے کہ اسے اہمیت دی جاۓ جیسے کہ میں چاہتا ہوں۔ "

تو ہمارا مدعا یہ ہے کہ مراقبے میں ہم نے جو ہنر سیکھے انہیں روزمرہ زندگی کے تجربات میں استعمال میں لایا جاۓ۔ ہمارا مقصد مراقبے میں بالکل درست انداز میں بیٹھنے کا اولمپک کا سونے کا تمغہ جیتنا نہیں؛ یہ ہمارا مدعا نہیں ! اس کے بجاۓ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم مراقبہ کریں اور مراقبے کی مشق سے اپنی زندگیوں کو بہتر بنائیں، اپنی خاطر بھی اور دوسروں کے ساتھ معاملات کی خاطر بھی۔ اور ایسا کرنے کے لئے ہمیں مزید سودمند عادات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہی مراقبے کا مقصد ہے۔