ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت کا تعارف > روزمرہ زندگی میں معاون بدھ متی اطوار

روزمرہ زندگی میں معاون بدھ متی اطوار

الیگزینڈر برزن
ماسکو، روس۔ ستمبر ۲۰۱۰
مدیران مسودہ: لیوک رابرٹس و الیگزینڈر برزن

آج شام ہمارا موضوعِ گفتگو یہ ہے کہ ہم کس طرح بدھ متی اطوارکو روز مرہ کی زندگی میں مدد کےلئے استعمال کرسکتے ہیں۔ جب ہم بدھ متی اطوار یا بدھ متی تعلیمات کی بات کرتے ہیں تو سنسکرت میں اس کے لئے " دھرم " کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر ہم دیکھیں کہ اس لفظ " دھرم " کے اصل معنی کیا ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب " وہ چیز جو ہمیں باز رکھتی ہے " ۔ گویا دھرم وہ چیز ہے جو ہمیں پریشانیوں اور مسائل سے باز رکھتی یا پرے رکھتی ہے۔

چار بلند و بالا آریہ سچائیاں

پہلی چیز جو مہاتمابدھ نے سکھائی اسے ہم " چار بلند وبالا آریہ سچائیوں " کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ چار ایسی حقیقتیں ہیں جنہیں کوئی بھی پہنچا ہوا انسان جو سچائی کو سمجھتا ہو، صحیح مانتا ہو۔ چار حقیقتیں یہ ہیں :

  • اصل مسائل جو ہمیں درپیش ہیں۔
  • ان مسائل کی اصل وجوہات۔
  • کیسا ہو، اگر یہ وجوہات ختم ہوجائیں اور ہمیں یہ مسائل ہی نہ ہوں۔
  • ادراک اور عمل کا طریقہ کار جو سارے مسائل کا خاتمہ ہی کردے۔

ہمارے اصل مسائل

بدھ مت میں مسائل اور ان کے حل پر بہت کچھ کہا گیا ہے۔ دراصل مہاتمابدھ کی ساری تعلیمات زندگی کی مشکلات پر قابوپانے میں مدد دینے کے لئے ہی ہیں۔ یہ طریقہ حقیقت میں بہت معقول اور سادہ سا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ہمارے جو بھی مسائل ہیں، ان کی کوئی نہ کوئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ہمیں ایماندارانہ طور پر دلی گہرائیوں کے ساتھ سوچنا چاہئے کہ ہماری وہ مشکلات کیا ہیں جو ہمیں درپیش ہیں۔ ہم میں سے بہتوں کے لئے یہ کوئی آسان بات نہیں ہے۔ دراصل یہ دیکھنا بڑی تکلیف دہ بات ہے کہ ہماری زندگی میں مشکل مقامات کیا ہیں۔ بہت سے لوگ تو اسے قبول ہی نہیں کرتے۔ وہ یہ تسلیم کرنا ہی نہیں چاہتے کہ انہیں کوئی مسئلہ ہے، مثلاً ایک غیر صحتمندانہ رشتہ کی صورت میں، انہیں کوئی خوشی نہیں ملتی۔ مگر ہم محض یہ کہ کر چھوڑ نہیں سکتے کہ " میں ناخوش ہوں " ۔ ضرورت ہے کہ اس صورت میں ہم غور کریں کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

ہمارے مسائل کی اصل وجوہات

تو ہمیں پتہ کرنا چاہئے کہ ہمارے مسائل کی وجوہات کیا ہیں۔ مسائل یونہی بلاوجہ نہیں اٹھ کھڑے ہوتے۔ ان کی کوئی وجہ ہونی چاہئے۔ اور ایک غیر مطمئن صورتحال کے پیدا ہونے میں کئی سطح کے عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ مثلاً جب کسی رشتہ میں ذاتی مخاصمت شامل ہو، تو کچھ اور پیچیدگی پیدا کرنے والے مالی عوامل بھی شامل ہوسکتے ہیں – جیسے ناکافی آمدن، بچوں کے مسائل، دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ مسائل وغیرہ۔ یعنی کسی مسئلہ کو پیدا کرنے میں کئی طرح کی صورتحال کارفرما ہوسکتی ہیں۔ لیکن مہاتمابدھ نے کہا کہ ہمیں گہرائی، اور مزید گہرائی میں جاکر غور کرنا ہوگا کہ ہمارے مسائل کی عمیق ترین وجہ کیا ہوسکتی ہے۔ اصل میں ہمارے مسائل کی عمیق ترین وجہ حقیقت کے سمجھنے میں الجھاوہے۔

ہم ناخوش ہیں، ہم ذہنی کوفت میں مبتلا ہیں، تو اس کا کوئی سبب ضرور ہے۔ مثلاً ہم کبھی برہم رویہ اختیار کرتے ہیں، خوب غصہ میں ہوتے ہیں۔ غصہ کی حالت میں کوئی خوش نہیں ہوتا۔ کیا ہوتا ہے؟ تو ہمیں سمجھنا چاہئے کہ غصہ ہماری ناخوشی کا سبب ہے اور ہمیں اپنے غصہ پر قابو پانا چاہئے۔

ہمارا مسئلہ، جو ہمیں ناخوش رکھتا ہے، شائد اس کی وجہ ہمیشہ پریشان رہنا ہے۔ پریشان رہنا من کی ایک ناپسندیدہ کیفیت ہے۔ پریشانی کے عالم میں کوئی خوش نہیں رہ سکتا۔ کیا ایسا ہے؟ ایک بڑے بدھ متی ہندوستانی عالم شانتی دیو نے کہا تھا، کہ اگر تم کسی بڑی مشکل صورتحال سے دوچار ہو لیکن اس سے نکلنے کے لئے کچھ کرسکتے ہو، تو پھر پریشان کیوں ہوتے ہو؟ اس سے نکل آنے کے لئے کچھ کرو۔ پریشان ہونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ اور اگر نکلنے کی کوئی سبیل نہیں تو پھر پریشان ہونے کا فائدہ؟ اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ تو ہم فکر مندی کے لا حاصل ہونے کے متعلق عدم یقینی کا شکار ہیں۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ محض پریشانی سے کچھ حاصل نہیں۔

مسئلہ کا ایک اور پہلو بھی ہے، وہ یہ کہ کبھی مطمئن نہ ہونا۔ ہمیں مسرت کے لمحات نصیب تو ہوتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے وہ دیرپا نہیں ہوتے۔ اور ہم مزید کی تمنا کرتے ہی رہتے ہیں۔ اور ہمیں کبھی بھی اطمینان نصیب نہیں ہوتا۔ ہم اپنی پسندیدہ غذا بس ایک دفعہ کھا کر مطمئن نہیں ہوتے۔ کیا ہم ہوتے ہیں؟ ہم بار بار کھانا چاہتے ہیں۔ اور اگر ہم ایک دفعہ ہی خوب کھالیں، تو شروع میں جو خوشی ملی تھی وہ بعد میں پیٹ کے درد میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ تو ہم اس طرح کی خوشی سے کچھ ذہنی الجھاؤ میں مبتلا رہتےہیں۔ بجاۓ اس کے کہ ہم اس سے لطف اندوز ہوں اور اس خوشی کی ناپائیداری اور غیر تسلی بخش کیفیت کو سمجھیں، ہم اسے تھامے رکھتے ہیں۔ اور جب وہ خوشی چھن جاتی ہے تو ہم رنجیدہ ہوجاتے ہیں۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم کسی دوست یا عزیز کے ساتھ ہوں، اور وہ ہمیں چھوڑ جائے۔ یقینا وہ کبھی نہ کبھی توہمیں چھوڑجائے گا، تو ہم اس کی صحبت کے جو لمحات ملیں ان سے لطف اندوز کیوں نہ ہوں۔ کبھی کبھار ہم ایک خوبصورت تمثیل استعمال کرتے ہیں۔ کبھی کوئی شخص، جسے ہم خوب چاہتے ہیں، ہماری زندگی میں آتا ہے، تو وہ ایک جنگلی پرندے کی طرح ہے جو ہماری کھڑکی پر آگیا ہے۔ جب وہ جنگلی پرندہ کھڑکی پر آتا ہے، ہم اس کی خوبصورت موجودگی سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ لیکن کچھ دیر کے بعد وہ وہاں سے اڑ جائے گا، کیونکہ وہ آزاد ہے۔ اور اگر ہم اس کے ساتھ دوستانہ رویہ رکھیں تو شائد وہ واپس بھی آجائے۔ لیکن اگر ہم اسے پکڑ کر پنجرے میں مقید کردیں تو وہ ناخوش ہوگا اور شائد مربھی جائے۔ اسی طرح وہ لوگ جو اس خوبصورت جنگلی پرندے کی طرح ہماری زندگی میں آتے ہیں، ہمیں چاہئے کہ جب تک وہ ہمارے ساتھ ہیں ہم ان کی صحبت سے محظوظ ہوں۔ جب وہ کسی وجہ سے، اور کچھ ہی دیر کے لئے سہی، ہمیں چھوڑ جائیں، تو خیر، یہ تو ہوتا ہی ہے۔ اگر ہم جمع خاطر رکھیں اور پرسکون ہوں اور یہ مطالبہ نہ کریں " مجھے کبھی نہ چھوڑ کرجانا، میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا " ، اس طرح کی کوئی بات، تو شائد وہ واپس آ بھی جائیں۔ ورنہ، شائد ہمارا حد سے متجاوز اشتیاق اور ہمارے مطالبات انہِیں دور ہی بھگا دیں۔

اگر ہم کو زندگی کی معمولی خوشیوں کی نوعیت کے بارے میں خلجان ہو، تو یقینا ہمیں مسائل ہونگے۔ ہم اچھے وقتوں کا مزہ نہیں اٹھاسکیں گے، کیونکہ ہم پریشان اور خوفزدہ ہونگے کہ ہم انہیں کھودیں گے۔ ہم اس کتے کی طرح ہیں جس کے سامنے کھانے کا پیالہ ہے۔ کتا کھانا کھاتا بھی جارہا ہے اور آس پاس نظریں دوڑا رہا اور غرا رہا ہے کہ کوئی اور آنہ جائے اور کھانا ہتھیا نہ لے۔ کبھی ہم اس کی طرح ہی ہوتے ہیں، ہے نا؟ بجائے اس کےکہ جو ہمارے پاس ہے اس سے لطف اندوز ہوں، اور جب وہ ختم ہوجائے تو سمجھ لیں ختم ہوگیا۔ بات اتنی سادہ نہیں ہے جیسی کہی گئی ہے، شائد اتنی سادگی سے کہی بھی نہیں گئی ہے۔ لیکن اس کے لئے مشق کی ضرورت ہے، زندگی کو ایک مختلف نکتہء نظر سے دیکھنے کے عادی ہونے کی ضرورت ہے۔

اپنے مسائل کا مکمل خاتمہ

مہاتما بدھ نے کہا کہ ہم اپنے مسائل کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کرسکتے ہیں، اور اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان کی علل سے چھٹکارا پائیں۔ یہ بڑا معقول اور منطقی طریقہ ہے۔ اگر ایندھن نہ ہو تو آگ بھی نہیں ہوگی۔ اور یہ ممکن ہے، مہاتمابدھ نے کہا، کہ ہم مسائل سے اس طرح چھٹکارا پائیں کہ وہ کبھی واپس نہ آئیں۔

ہم یہ نہیں چاہتے کہ ہمیں مسائل سے صرف عارضی طور پر نجات ملے۔ ہے نا؟ یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم نیند میں ہوں - جب ہم سورہے ہوتے ہیں تو تعلقات کی ناہمواری کی طرف ہمارا دھیان نہیں جاتا۔ تو یہ کوئی حل نہ ہوا۔ کیونکہ جب ہم جاگ جاتے ہیں تو مسائل اسی طرح موجود ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہم جب چھٹیوں پر کہیں جاتے ہیں، ہمیں گھر واپس آنا ہی پڑتا ہے، اور پرانے مسائل ویسے ہی موجود ہوتے ہیں۔ تو چھٹیاں بھی کوئی بہترین یا مستقل حل نہیں۔

مہاتمابدھ نے یہ نہیں کہا کہ ہم چپ چاپ مسائل کو قبول کرلیں، اور ان کے ساتھ زندگی گذاریں۔ کیونکہ وہ بھی کوئی اچھا حل نہیں۔ ہے ناٗ؟ تب ہم پر ایک بے بسی طاری ہوگی، کہ ہم کچھ نہیں کرسکتے، اور ہم ہمت ہارجاتے ہیں اور کوشش بھی نہیں کرتے۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم ( اپنی بساط بھر ) مسئلہ کے حل کے لئے کچھ تو کوشش کریں۔ ہمیں کامیابی نصیب نہ بھی ہو تو کم از کم یہ اطمینان تو ہوگا کہ ہم نے کوشش تو بہر حال کی۔

مسائل کے خاتمہ کے طریقے

اگر ہم حقیقتاً ان مسائل کا خاتمہ چاہتے ہیں، مکمل خاتمہ، تو مہاتمابدھ نے ایک چوتھی بات بتائی۔ اور وہ یہ کہ ہم کوئی طریقہ کار اپنائیں، اور مسائل سے نجات کی خاطر ان کی عمیق ترین علت یعنی ذہنی خلجان کا صحیح ادراک حاصل کریں۔ محض یہ ادراک ہی کافی نہیں، اگر ہم اسے ہمیشہ یاد نہ رکھ سکیں۔ اس کے لئے ارتکاز پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس ادراک کو یاد رکھنے اور اپنے ذہن کو مرکوز کرنے کے لئے ضبطِ نفس کی ضرورت ہے۔ عام بدھ متی طریقے، جو ہم اپنے مسائل کو روکنے کے لئے اپناتے ہیں، وہ ہیں ضبطِ نفس، ارتکاز، اور صحیح ادراک ( جسے کبھی " حکمت " بھی کہا جاتا ہے ) ۔

مزید برآں، ہمارے مسائل کی ایک بڑی وجہ ہماری خودغرضی بھی ہے۔ اکثر ہماری خودغرضی کی بنیاد حقیقت کے متعلق ہمارا مغالطہ ہوتا ہے، کیونکہ کسی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ ہم ہی ہیں جو اس دنیا میں موجود ہیں۔ اگر ہم یہ مان بھی لیتے ہیں کہ دوسرے بھی موجود ہیں، تب بھی ہم یہی سمجھتے ہیں کہ ہم ہی اس جہان میں سب سے اہم ہیں، اور ہم ہی اس کا مرکز ہیں۔ اس غلط فہمی کی وجہ سے ہم سوچتے ہیں " میری ہی مرضی چلنی چاہئے، اور جو میں چاہتا ہوں وہ مجھے ہمیشہ ملنا ہی چاہئے " اور اگر ہماری مرضی نہ چلے تو ہم بہت رنجیدہ ہوجاتے ہیں۔

مگر یہ حقیقت کا بڑا الجھا ہوا نظریہ ہے، کیونکہ اس سوچ کے مطابق مجھ میں کوئی خصوصیت نہیں۔ ہم سب یکساں ہیں، ہر کوئی خوشی حاصل کرنا چاہتا ہے، کوئی رنجیدہ ہونا نہیں چاہتا، ہر کوئی اپنی مرضی پانا چاہتا ہے، اور ہر کسی کو اپنی مرضی نہیں ملتی۔ ہمیں کسی طرح مل جل کر رہنا چاہئے، کیونکہ ہم ایک ساتھ تو رہتے ہی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم محبت اور درد مندی، دوسروں کے لئے مروت، مسائل پر قابو پانے اور ان کے تدارک میں بے غرضی پیدا کریں۔ جس طرح ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے ہماری مدد کریں، اسی طرح دوسرے بھی چاہتے ہیں کہ ہم ان کی مدد کریں۔

پریشان کن جذبات سے نبردآزمائی

یقیناً یہ سچ ہے کہ ہر کوئی ولی یا بودھی ستوا نہیں ہوتا۔ ہر کوئی کسی نہ کسی سطح پرالجھن میں مبتلا ہے۔ اسی الجھن کی وجہ سے ہم پریشان کن جذبات کے زیرِ اثر کام کرتے ہیں۔ مثلاً اگر میں سمجھوں کہ میں ہی دنیا کا مرکز ہوں، اور میں ہی سب سے اہم ہوں، تو اس کے ساتھ ایک عدم تحفظ کا احساس شریک ہوتا ہے۔ ہے نا؟ جب آپ الجھن میں ہوتے ہیں تو آپ غیرمحفوظ ہوتے ہیں اور یہ سوچتے ہیں کہ " خوب، میں تو سب سے اہم ہوں، لیکن لوگ مجھے وہ درجہ نہیں دے رہے " تو عدم تحفظ کا احساس تو ہوگا ہی۔

جب ہم عدم محفوظ محسوس کریں، تو محفوظ تر احساس کے لئے کیا چال اپنائیں – ایسی کونسی حکمت عملی اختیار کریں جو ہمیں تحفظ بخشے؟ ایک تو یہ ہے کہ " اگر میں اپنے لئے کافی چیزیں حاصل کرلوں، تو کسی طرح میں محفوظ تصور کروں گا۔ اگر مجھے کافی رقم یا کافی توجہ یا کافی محبت مل جائے، تو مجھے خوشی حاصل ہوجائے گی۔ " لیکن، جیسا ہم نے دیکھا، اس طرح کی خوشی کی نوعیت یہ ہے کہ ہمیں کبھی جی بھرکچھ نہیں ملتا اور ہم مطمئن نہیں ہوتے اور ہم مزید کی طلب کرتے ہیں۔

ذرا سوچئے تو یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے۔ کیا ہم اپنے عزیزوں سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ ایک بار " مجھے تم سے محبت ہے " کہہ دیں اور وہ کافی ہوجائے، پھر انہیں دوبارہ کبھی یہ کہنے کی ضرورت نہ ہو؟ ہم کبھی اس سے مطمئن نہیں ہوتے۔ ہم بار بار، اور مکرر یہی سننے کے خوہشمند ہوتے ہیں۔ اور ہم کبھی اس مقام پر نہیں پہنچ پاتے جہاں ہم یہ کہیں " اچھا، تم کو پھر یہ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں " ۔ جب ہم حریص ہونے کی بات کرتے ہیں، تو یہ حرص صرف مادی اشیا اور دولت تک ہی محدود نہیں، بلکہ ہم محبت کے خواہشمند اور ہم میں سے بیشتر خاص طور پر توجہ کے بھوکے ہوتے ہیں۔ ہم چھوٹے بچوں میں یہ بات پاتے ہیں۔ تو، ایک طریقہ کار تو یہ ہے : اگر ہمیں کافی چیزیں مل جائیں تو ہم محفوظ محسوس کریں گے۔ لیکن یہ کبھی ہو نہیں پاتا۔

دوسرا طریقہ کار غصہ اور سرد مہری ہے : " اگر میں ان چند چیزوں سے، جو مجھے خوفزدہ کررہی ہیں، چھٹکارا پا لوں تو میں محفوظ محسوس کروں گا " لیکن ہم کبھی محفوظ تصور نہیں کرتے، بلکہ خوف محسوس کرتے ہیں۔ ہم چوکنے رہتے ہیں کہ مبادا کوئی ہم سے ایسا سلوک نہ کرے جو ہمیں نا پسند ہو - تو ہمیں غصہ آتا ہے اور ہم انہیں بھگادیتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بہت خود سوزی کا باعث ہوتا ہے۔ یہاں ایک ایسے رشتہ کی مثال ذہن میں آ رہی ہے جس میں، ہم سمجھتے ہیں، کہ دوسرا شخص ہمیں کافی توجہ نہیں دے رہا ہے، کافی وقت نہیں دے رہا ہے، اور ہم اس پر بھڑک اٹھتے ہیں۔ ہم اس پر برہم ہوتے ہیں اور چلاتے ہیں " تمہیں مجھ پر زیادہ توجہ دینی چاہئے، مجھے زیادہ وقت دینا چاہئے " وغیرہ۔ اس کا کیا نتیجہ نکلتا ہے؟ اکثر وہ اور بھی دور چلے جاتے ہیں۔ یا وہ بڑی مہربانی کرکے کچھ دیر ساتھ تو رہتے ہیں لیکن ہمیں معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ اچھا محسوس نہیں کرتے۔ ہم کیسے یہ سوچ سکتے ہیں کہ کسی پر غصہ کریں اور وہ ہمیں زیادہ چاہیں؟ یہ بات بڑی مضحکہ خیز ہے۔ ہے نا؟ یہ سارے طرائقِ کار، جو ہم خود کو زیادہ محفوظ سمجھنے کی امید میں اپناتے ہیں، دراصل معاملہ کو اور بگاڑ دیتے ہیں۔

ایک اور طریقہ کار جو ہم اپناتے ہیں، وہ اپنے اطراف ایک دیوار کھڑی کرلینا ہے۔ یہ بالکل سادہ لوحی پر مبنی ہے کہ اگر ہم مسائل کا مقابلہ نہیں کریں گے تو یا تو وہ ناپید ہیں یا کسی طرح وہ غائیب ہوجائیں گے۔ " میں کچھ سننا نہیں چاہتا " ، یہ رویہ اپنے اطراف ایک دیوار کھڑی کرلینا ہے۔ یہ سادہ لوحی بھی مطلق کام نہیں کرتی۔ کوئی مسئلہ یونہی اسےنظرانداز کرنے یا تسلیم نہ کرنےسے کہیں چلا نہیں جاتا۔

تواس طرح کے پریشان کن جذبات کی بنیاد پر یوں ہوتا ہے کہ ہم مختلف تخریب کن کام کرنے لگ جاتے ہیں۔ ہم چیخنے لگ جاتے ہیں، یا کسی کو مار بھی بیٹھتے ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں " میں بیچارہ، میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے " اور آپ یہ سمجھ کر چوری کر بیٹھتے ہیں کہ اس سے کچھ مدد مل جائے گی۔ یا مجھے خیال آرہا ہے ایک مثال کا جب میں ہندوستان میں کئی سال رہا تھا۔ ہندوستان کیڑے مکوڑوں کی سرزمین ہے، کثیر تعداد میں کیڑے، اور ہر قسم کے جو آپ تصور کرسکتے ہیں۔ آپ سب کو مار نہیں سکتے، یہ ناممکن ہے کہ آپ اس میں کامیاب ہوں۔ ایک واحد حل ہے کہ آپ ان کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ اگر آپ نہیں چاہتے کہ مختلف انواع کے کیڑے آپ کے کمرے میں ہوں، تو آپ ایک مچھردان میں سوتے ہیں – آپ کے اطراف ایک جالی ہوتی ہے اور آپ اپنی محفوظ جگہ میں ہوتے ہیں۔ یہ ایک پُرامن حل ہے بہ نسبت اس کے کہ آپ اپنے کمرے کے سارے مچھروں کے شکار پر نکلیں، اور ساری رات جاگتے رہیں کیونکہ ( جتنے آپ ماریں گے ) اتنے اور مارنے پڑیں گے۔ دروازے کے نیچے کچھ کھلی جگہ رہ جاتی ہے، یا کھڑکیاں برابر بند نہیں ہوتیں – اور مزید آتے ہی جائیں گے۔ تخریبی رویہ کی اضطراری کیفیت لازماً پیدا ہوجاتی ہے : " مجھے ان سے نجات ملنی چاہئے " ۔

تخریبی رویہ کی بے شمار شکلیں ہیں۔ دروغ گوئی، ترش کلامی، بدکاری، عصمت دری – یہ سبھی موجود ہیں۔ جب ہم تخریبی کام کرتے ہیں تو لامحالہ رنجش پیدا ہوتی ہے – رنجش نہ صرف دوسروں کے لئے بلکہ خاص طور پر اپنے آپ کے لئے بھی۔ اگر آپ اس کے بارے میں سوچیں، بدھ مت بہت شدت کے ساتھ کسی کو ہلاک کرنے سے منع کرتا ہے۔ یہ بات درست ہے نا؟ اب یہاں نکتہ یہ ہے کہ جس کو آپ ناپسند کریں، اگر اسے آپ مارنے کے عادی ہوجائیں مثلاً جیسے مچھروں کے ساتھ ہوتا ہے، تو وہ آپ کا پہلا غیرشعوری جوابی اقدام ہوتا ہے۔ ہے نا؟ اور یہ صرف مارنے ہی کی بات نہیں ہے۔ کچھ ایسی بات ہو جسے ہم ناپسند کریں، تو ہم شدت کے ساتھ اس پر بھڑک اٹھتے ہیں – یہ زبانی بھی ہوسکتا ہے، یا جسمانی، یا پھر جذباتی – بجائے اس کے کہ من کے شانت انداز میں اسے حل کرنے کی سوچیں۔

یقیناً کبھی آپ کو مارنا پڑہی جاتا ہے۔ جیسے، ایسے کیڑے ہوں جو فصل کھاجاتے ہیں، ایسے کیڑے ہوں جو بیماری لاتے ہوں، وغیرہ۔ بدھ مت کٹرپن نہیں ہے۔ لیکن آپ کو بالکل سادہ لوح بھی نہیں ہونا چاہئے۔ جوبھی کریں، غصہ اور نفرت کے بغیر کرنے کی کوشش کریں - " مجھے ملیریا کے مچھروں سے بڑی نفرت ہے !" منفی نتائج کے بارے میں بھولے نہ بنیں۔ ایک سادہ سی مثال : اگر ہم اپنی ترکاریوں اور پھلوں پر جراثیم کُش ادویہ استعمال کریں تو خیال رکھیں کہ ہم بھی انہیں کھاتے ہیں اور خود بیمار بھی ہوسکتے ہیں۔ اس طرح منفی اثرات بھی ہوسکتے ہیں۔ غور کرنے کی بات یہ ہے، ابتدائے گفتگو کی طرف واپس آتے ہوئے، کہ ہمارا طریقہ کار ضبطِ نفس، ارتکاز، اور صحیح ادراک ہے جن کے ساتھ محبت اور درد مندی بھی شامل ہو۔

اخلاقی ضبطِ نفس

زندگی کے مسائل سے بچنے کے لئے، ہم ان احتیاطی تدابیر کو کس طرح اختیار کرسکتے ہیں؟ ابتدائی سطح پر، پہلا کام ہم یہ کرسکتے ہیں کہ اخلاقی ضبطِ نفس اپنائیں، یعنی کوئی تخریبی کام نہ کریں۔ تخریبی کام کرنا، پریشان کن جذبات کے زیرِ اثر ہوتا ہے – غصہ، حرص، لگاؤ، حسد، بھولاپن، تکبر وغیرہ وغیرہ۔ اس کا مطلب ہے کہ جب ہم کو تخریبی کام کرنے کا خیال آئے تو ہم صریحاً یہ فیصلہ کرلیں کہ " نہیں، میں ایسا کوئی کام نہیں کروں گا " ۔

اگر مجھے آپ کی کسی غلطی پر آپ پر چیخنے چلانے کا خیال آئے، تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ اِس سے صورتحال بگڑسکتی ہے۔ یا تو میں آپ کو درست کروں، یا جو غلطی ہوئی ہے اس سے نِمٹوں، لیکن چیخنا صورتحال کو مزید بگاڑ دیتا ہے۔ ہے نا؟ خصوصاً آپ کے ساتھ دشنام طرازی یا گالی گلوچ سے تو خصوصاً کوئی مدد نہیں ملتی۔ پس اخلاقی ضبطِ نفس یہ ہے کہ کسی تخریبی کام کے کرنے سے پہلے ہی ہمیں یہ پتہ چل جائے کہ ہم سے اضطراری طور پر کوئی تخریبی کام سرزد ہونے والا ہے۔ ایسے کام کی ترنگ اٹھے بھی تو دل میں یہ بات آجائے کہ " یہ ہرگز کارآمد نہیں ہوگا " اور ہم ارادتاً ایسا کرنے سے باز آجائیں۔

ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ غصہ دل ہی میں رکھ لیں، اور یہ آپ کو اندرونی طور پر کھانے لگے، اور آپ ضبط کرتے رہیں کرتے رہیں تا آنکہ آپ بالآخر پھٹ پڑیں۔ یہ صحیح طریقہ نہیں۔ اگر ہم اس سے ٹھیک نمٹ نہیں سکتے، اور یہ اندر ہی اندر پکتا رہے، تو اس لاوے کو دوسرے پر نہ نکالئے۔ دیوار پر مُکا مارنے سے آپ کا ہاتھ ہی دُکھے گا، اور یہ بےوقوفی ہے۔ کوئی اور طریقہ اس کی نکاسی کے لئے اختیار کیجئے۔ ٹھیک؟

شریکٗ مجلس : تکیہ کو مُکا ماریں

الیکس : تکیہ کو مُکا ماریں، یا گھر کے سارے فرش دھوئیں – " ماں کی حکمت " کی قسم کا طریقہ جو غصہ اور مایوسی سے نمٹنے کے لئے ہو، گھر کا کوئی محنت طلب کام ہو، یا کوئی لمبی دوڑ ہو، یا ورزش گاہ میں سخت ورزش ہو، ان میں سے کسی کو اپنے مایوس کن غصہ کو مٹانے کے لئے استعمال کریں۔

ذہن نشینی اور ارتکاز

اگر ہم اس طریقہ کار کے عادی ہوتے جائیں، اور جب من میں آئے کہ تخریبی کام کریں، تب اپنے آپ کو باز رکھیں، تو اسے " امتیازی آگہی " ( شیث - رب ) کہتے ہیں۔ ہم تمیز کرتے ہیں کہ کیا معاون ہے اور کیا نقصان دہ، اور اس بنیاد پر پُرسکون رہتے ہیں بجائے اس کے کہ غصہ کو دبائے رکھیں۔ یہاں جو خاص بات ہم پیدا کررہے ہیں اسے " ذہن نشینی ( دران - پا ) کہا جاتا ہے " ، یعنی " یاد رکھنا " ۔ گویا یہ کوئی ذہنی گوند ہے جو ضبطِ نفس سے چپکائے رکھتا ہے – میں کیا کرنا چاہتا ہوں، میں زندگی میں کیا بننا چاہتا ہوں، میں کسطرح زندگی کے کام کرنا چاہتا ہوں – اسطرح سارے خیالات کو مجتمع رکھنا اور کچھ فراموش نہ کرنا۔ یہ ذہن نشینی ہے، اور یہ وہی ہے جسے ہم " یاد کا تازہ رکھنا " کہتے ہیں۔

تو ہماری کوشش ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ جاگرت رہیں۔ لفظ " بدھ " کے اصلی معنی ہیں " ایک ایسا فرد جو مکمل جاگرِت ہو " ۔ ہم اپنے جذبات و احساسات سے پوری طرح واقف رہنے کی کوشش کرتے ہیں، اور یہ بھی کہ ہمارے من میں کچھ یوں کرنے اور کچھ ووں کرنے کی اضطراری کیفیات جو سر ابھارتی رہتی ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ ہم ان کے سرنگوں نہ ہوجائیں، بلکہ صحیح فہم و ادراک کے ساتھ اپنا لائحہ عمل تشکیل دیں۔ اگر میرا موڈ بگڑا ہوا ہے، تو یہ بدل سکتا ہے، میں اسے بدلنے کے لئے کچھ کرسکتا ہوں۔

کبھی کبھار بگڑے موڈ کا حل بہت سادہ ہوتا ہے۔ ایک سادہ ترین طریقہ یہ ہے " روتے ہوئے شیرخوار کو بستر میں سلادیا جائے " ۔ ہم ایک ننھے بچے کی طرح ہوتے ہیں جو بہت دیر سے جاگا ہوا ہے اور رونا شروع کردیتے ہیں۔ اکثر جب ہم خراب موڈ میں ہوتے ہیں، ہم انہی کی طرح ہوتے ہیں۔ تو لیٹ جائیں، کچھ آرام لے لیں، سوجائیں۔ اور جب جاگ جائیں تو اکثر ہم بہتر حالت میں ہوتے ہیں۔

یا جب آپ کا کسی سے اختلاف ہوجائے، اور اس میں شدت پیدا ہونے لگے – تو آپ جانتے ہیں کہ اس صورت میں نہ دوسرا آپ کی بات سُن رہا ہوتا ہے اور نہ آپ اُس کی۔ اس حال میں بہتر ہے کہ گفتگو ہی ختم کردیں، " چلو بات کو اُس وقت کریں گے جب ہم دونوں پُرسکون ہوں " اور ٹہلنے نکل جائیں یا اسی طرح کی کوئی اور مصروفیت نکال لیں تا آنکہ حالت سُدھر جائے۔

یہ بہت سادہ طرائقِ کار ہیں۔ بدھ مت ان سے کہیں زیادہ گہرے پُر عمل طریقے سکھاتا ہے، لیکن یہ بس ابتدا ہے۔ ہم کو ان طریقوں سے ابتدا کرنی چاہئے جن پر ہم درحقیقت عمل کرسکتے ہیں۔ مگر یہ اصول اہم ہے کہ کسی مسئلہ کی جڑ کیا ہے اور کس طرح اس جڑ کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ بس مسئلہ کا شکار بن کر نہ رہ جائیے، بلکہ زندگی میں جو بھی ہورہا ہے اس پر قابو پائیے۔

اگر ہم اپنی اس فہم کوذہن نشین کرلیں کہ ہمارے رویہ میں کیا فائدہ مند ہے اور کیا نقصان دہ، اگر ہمارے اطراف جو کچھ بھی ہورہا ہے اُس پرتوجہ دیں اور یاد رکھیں کہ ہمارا ردِعمل اگر ٹھیک نہیں تو اُسے درست کرلیں – اگر یہی بات اپنی جسمانی حرکات، اور اپنی گفتگو میں بھی پیدا کرسکیں تو ہمیں اپنے من اور سوچ کے ذریعہ ایسا کرنے کی طاقت حاصل ہوجائے گی۔

تو جب ہم پر پریشانی کا یہ عالم طاری ہوتا ہے کہ " بیچارہ میں، مجھے کوئی نہیں چاہتا " وغیرہ، اور ہم کہیں " نہیں، میں اس خودرحمی اور پریشانی کی راہ پر نہیں جاؤںگا، اِ س سے مجھے کوئی خوشی نہیں ملے گی " تو ہمارا خیال مثبت ہوگا۔ صرف بیٹھے رہنے اور پریشان ہونے کے بجائے ہم اپنے جسم اور من سے ایسے کئی مثبت کام کرسکتے ہیں۔ جب ہم پریشان ہوں تو یہ خوف کھانے کے بجائے کہ حالات کسقدر تباہ کن ہوسکتے ہیں، ہم کچھ مثبت بات سوچ سکتے ہیں۔ کیونکہ، دیکھئے، ہم یہاں وہ ذہنی ارتکاز پیدا کرنا چاہتے ہیں کہ جب ہمارا ذہن بھٹکنے لگے تو ہم اسے واپس صحیح راستہ پر لاسکیں۔

مثلاً جب ہم کسی سے محوِگفتگو ہوں اور ہماری توجہ ہٹ جائے – تو کوئی پریشانی کی بات ہونی ضروری نہیں، بلکہ یہ خیال بھی ہوسکتا ہے کہ " وہ اپنی بات کب ختم کریں گے؟ " یا " آج شام میں کیا کھاؤں گا؟ " یا اسی طرح کی کوئی اور بات – یا گفتگو سے ہٹ کر یہ رائے ذہن میں آرہی ہو " کیا بکواس کررہا ہے یہ شخص " ، تو ہم پلٹ کر اپنی توجہ اس کی بات سننے کی طرف لاتے ہیں۔

ارتکاز کا یہ بڑا عملی طریقہ ہے، لیکن اس کے لئے بڑا نظم وضبط چاہئیے؛ اور یہ ضبط ہم ابتداءً جسمانی اور زبانی عمل میں پیدا کرتے ہیں۔ جب ہمیں یہ مہارت، کہ ہم بھٹکنے لگیں تو اپنے آپ کو واپس راہ پر لے آئیں، حاصل ہوجائے تو مختلف حالات میں اس کو منطبق کرسکتے ہیں۔ اس سے بڑی مدد مل سکتی ہے۔ مثلاً جب آپ کو احساس ہو کہ آپ نے جسم کو اِس طرح سنبھالا ہوا ہے کہ آپ کے کندھے کھنچے ہوئے اور گردن تنی ہوئی ہے، تو فوری اِس احساس کے بعد آپ اپنے جسم، کندھوں اور گردن کو ڈھیلا چھوڑدیتے ہیں۔ یہ صرف احساس کے پیدا ہونے، اوریہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ اس کے بارے میں کچھ کرنا ہے۔ یا، جب کبھی آپ پُرجوش ہوجائیں جبکہ یہ نامناسب ہو، اور آپ زور زور سے کسی کے ساتھ جارحانہ گفتگو شروع کردیں، اور آپ کو علم ہوتے ہی آپ اپنا رویہ تبدیل کرلیتے ہیں۔ آپ خاموش ہوجاتے ہیں، جیسے کندھے ڈھیلے چھوڑدئیے ہوں مگر، توانائی اور جذبات کی سطح پر۔

یہی راز کی بات ہے کہ آپ کیسے اِن دھرم کے طریقوں کا اپنی زندگی میں اطلاق کرتے ہیں۔ بس انہیں یاد رکھیں، عمل کرنے میں کافی نظم و ضبط رکھیں، اور انہیں استعمال میں لائیں۔ یہ اس لئے نہیں کہ آپ اچھے بننا چاہتے ہیں، یا استاد کو خوش رکھنا چاہتے ہیں وغیرہ۔ بلکہ محض اس لئے کہ آپ مسائل و مشکلات سے بچنا چاہتے ہیں، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ اگر ان کے بارے میں آپ نے کچھ نہیں کیا تو زندگی قابلِ رحم ہوجائے گی اور اس میں مزہ نہیں۔ صحیح؟ تو ہم کو ضرورت ہے کہ ذہنی سطح پر ارتکاز کے لئے اپنے ضبطِ نفس کو کام میں لائیں، حتیٰ کہ جذباتی سطح پر بھی یہی کریں۔ جذبات سے سلجھنا یقیناً کئی گنا زیادہ نازک اور مشکل ہوتا ہے۔ لیکن ،جیسے میں نے کہا، اگر آپ پُرجوش ہوسکتے ہیں تو آپ شانت بھی ہوسکتے ہیں۔

صحیح ادراک

جب آپ ارتکاز کا آلہ کار استوار کرلیں، کسی بھی سطح پر، اور آپ اسے قائم رکھنا چاہتے ہوں تو اس بات کا صحیح ادراک ہونا ضروری ہے کہ کیا ہورہا ہے۔ ہمیں حقیقت کے بارے میں کئی طرح کی الجھن ہے – کہ ہمارا وجود کیسے قائم ہے، دیگر افراد کیسے زندگی گذارتے ہیں، دنیا کیسے قائم ہے – اور اس الجھن کی وجہ سے ہم ایسی چیزوں کے بارے میں تصورات قائم کرنے لگ جاتے ہیں جو دراصل غیر حقیقی ہیں، ہے نا؟۔ ہم سوچتے ہیں " میں بھلا آدمی نہیں ہوں، میں شکست خوردہ انسان ہوں " ، یا ہم سوچتے ہیں " میں دنیا کی حیرت انگیز ترین چیز ہوں " یا ہم سوچتے ہیں " بیچارہ میں، مجھے کوئی نہیں چاہتا " ۔ لیکن اگر ہم واقعی اپنی زندگی میں ہر شخص کے بارے میں تجزیہ کرنے لگیں، تو اس کا مطلب ہوگا کہ میری ماں نے مجھے کبھی پیار نہیں کیا، میرے کتے نے مجھے پیار نہیں کیا – کسی نے مجھے کبھی پیار نہیں کیا۔ لیکن ایسا کبھی ہوتا نہیں ہے۔

ہم اس وہم میں گرفتار رہتے ہیں کہ یہ سب سچ ہے، اور یہ بڑی بُری بات ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہم اگر دیر سے آئیں، یا وقتِ مقررہ پر حاضر ہی نہ ہوں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ " آپ کے کوئی احساسات نہیں " ٹھیک؟ اور یوں ہم دوسروں سے بے مروتی سے پیش آتے ہیں۔ لیکن ہر ایک کے اپنے جذبات ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے میرے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ اس کو نظرانداز کیاجائے۔ کوئی نہیں چاہتا کہ ملاقات کا اگر وقت مقرر ہو تو کال بھی نہ کرے یا دیر سے پہنچے۔ کوئی اسے پسند نہیں کرتا۔ تو ہمیں چاہئیے کہ اپنے ارتکاز کا استعمال کریں اور اپنے واہمات کو قطع کریں اور یہ ساری بکواس سوچنی بند کریں، مثلاً، کہ ہمارا بے مروت رویہ اوروں کو تکلیف نہیں پہنچاتا، کیونکہ یہی تو ہے جو ہمارے مسائل کی سب سے گہری وجہ ہے۔ " میں مرکزِ کائنات ہوں، میری ہی مرضی چلنی چاہئے، میں ہی سب سے اہم ہوں " ۔ یہ ہمارا واہمہ ہے۔ کوئی اہم ترین نہیں ہوتا۔ لیکن اپنے واہمہ کو سچ سمجھنے کی بنا پر ہم خودغرضی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اگر ہم اپنی خودغرضی پر قابو پانا چاہتے ہیں، تو ہمیں چاہئے کہ اپنے واہمہ کو توڑیں اور اس پر سوچنا بند کردیں۔ اگر یہ محسوس بھی ہوتا ہو کہ میں مرکز کائنات ہوں، اور میں ہی اکیلا موجود ہوں ( کیونکہ جب میں اپنی آنکھیں بند کرتا ہوں، میرے کانوں میں یہ آواز گونجتی ہے، اور میں کسی اور کو نہیں دیکھتا، تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ میں ہی اکیلا موجود ہوں ) ہمیں یاد رکھنا چاہئیے کہ یہ ایک فریبِ نظر ہے اور ہم اس پر یقین نہ کریں : " حقیقت یوں نہیں ہے، صرف ایسی دکھائی دیتی ہے " ۔

مہاتما بدھ نے کہا تھا، کہ اپنے مسائل کے مکمل خاتمہ کے حصول کے لئے، اِس ادراک کے ساتھ ہمیشہ چمٹے رہنا ہی سچا راستہ ہے۔ اگر یہ صحیح ادراک ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے، تو ہمیں کبھی کوئی مغالطہ نہیں ہوگا۔ اور اگر ہمیں یہ الجھن نہ ہو، تو ہمیں غصہ نہ آئے، نہ لگاؤ ہو، نہ حرص ہو، وغیرہ۔ اور اگر یہ پریشان کن جذبات نہ ہوں تو ہم کوئی تخریبی کام نہ کریں۔ اور اگر ہم تخریبی کام نہ کریں تو ہم نہ دوسروں کے لئے اور نہ اپنے لئے کوئی مسائل کھڑے کریں۔ یہ ہے بنیادی بدھ متی طریقہ جو ہمیں زندگی کی مشکلات سے نبردآزما ہونے میں مدد کرتا ہے۔

اگر ہم پُرمسرت تعلقات رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں یہ عرفان ہونا چاہئے کہ :

  • میں ایک انسان ہوں۔ آپ ایک انسان ہیں۔ اور ہم سب کے جذبات یکساں ہیں۔
  • ہر ایک کی کچھ خوبیاں ہیں، اور کچھ کمزوریاں ہیں۔ مجھ میں بھی ہیں، اور آپ میں بھی۔
  • ( ہم دونوں میں سے ) کوئی بھی سفید گھوڑے پر سوار دل رُبا شہزادہ یا شہزادی نہیں

کیا آپ کی کہانیوں میں ایسا کوئی ہیولا ہے؟ ہم ہمیشہ ایک کامل ساتھی کی تلاش میں ہوتے ہیں، جو سفید گھوڑے پر سوار ہو، لیکن وہ صرف پریوں کی کہانی ہے، جس کا وجود حقیقت میں نہیں لیکن ہمارے تصور میں ہے۔ پریوں کی اس کہانی پر یقین کرنے کی وجہ سے ہم سمجھتے ہیں کہ یہی ہمارا شہزادہ یا شہزادی ہے، اور جب اصلیت واضح ہوتی ہے تو ہم ان پر برہم ہوتے ہیں یا کبھی انہیں دھتکار بھی دیتے ہیں۔ پھر ہم کسی اور ممکنہ ساتھی کی طرف بڑھتے ہیں کہ شائد وہ ہمارا شہزادہ یا شہزادی نکلے۔ لیکن انہیں بھی ایسا نہیں پاتے، کیونکہ ایسا کوئی ہے ہی نہیں۔

پس اگر ہم صحتمند تعلقات قائم رکھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئیے۔ جیسا میں نے کہا، حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص میں کچھ خوبیاں ہیں اور کچھ خامیاں۔ اور ہمیں کسی طرح باہم دگر مل کر رہنا چاہئے، اور یہ کہ کوئی بھی محور کائنات نہیں ہے۔ اور تب، کسی بھی مذہب یا انسانی فلسفہ میں ہم یہ عام تعلیمات پاتے ہیں کہ نرم خو ہوں، با مُروت ہوں، صابر ہوں، فیاض ہوں، اور عفو پسند ہوں۔ ہر مذہب اور ہر انسانی فلسفہ یہی سکھاتا ہے اور بدھ مت بھی یہی۔

یہی اصول ملازمت کی جگہ پربھی ہمارے تعلقات پر صادق آتے ہیں۔ جن لوگوں کے ساتھ آپ دفتر میں کام کرتے ہیں، اگر آپ ان کے ساتھ نرم خو ہوں ( یا اگر آپ ملازم رکھتے ہوں اور اپنے ملازمین کے ساتھ نرم خو ہوں ) تو سارے معاملات ٹھیک چلتے ہیں۔ اگر آپ کسی دوکان میں کام کرتے ہیں اور اپنے گاہکوں کے ساتھ خوش مزاجی سے پیش آتے ہیں، تو سارا ماحول خوشگوار ہوتا ہے۔ ہے نا؟ اور اگر کوئی اپنے معاملات میں ایماندار ہو – کسی کو دھوکا نہ دے وغیرہ – تو معاملات بہت بہتر ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم منافع نہ بنائیں یا روزگار نہ کمائیں، بلکہ نکتہ یہ ہے کہ ہم اس کے حریص نہ ہوں۔

اور جب دوسرے ہمیں دھوکا دیتے ہیں – کیونکہ ہر کوئی ایسا نہیں ہوتا – تو آپ کیا توقع کرتے ہیں؟ بدھ متی نظریہ کے مطابق، ہم یہ نہیں کہیں گے کہ وہ خراب انسان ہیں، بلکہ یہ کہ وہ ذہنی خلفشار میں مبتلا ہیں۔ وہ یوں ہیں، وہ یہ نہیں جانتے کہ اس طرح کے عمل سے وہ اپنے لئے مزید مسائل کھڑے کررہے ہوتے ہیں : کوئی انہیں پسند نہیں کرے گا۔ اس لئے وہ قابلِ نفرت نہیں بلکہ درد مندی کے مستحق ہیں۔ اگر ہم انہیں قابلِ رحم سمجھیں، اور ان کے ساتھ صبر سے کام لیں، تو ان سے دھوکا ہو بھی تو ہمیں جذباتی دکھ نہیں ہوتا۔ ہم اگلوں کے ساتھ کچھ اور چوکنے ہوجاتے ہیں کہ ان سے ہمیں دھوکا نہ ہو۔ لیکن ہم لوگوں سے کیا توقع رکھتے ہیں؟ کئی لوگ ایسے ہیں۔ اور یہی حقیقت ہے۔ امید تو یہ ہوتی ہے کہ ہر شخص ایماندار ہوگا، لیکن ہر ایک ایسا نہیں ہوتا ! کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہر شخص ایماندار ہوتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔ تاہم کم ازکم ہم تو ایماندار رہنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

کیا غیر بدھ متی ان طریقوں پر چل سکتا ہے؟

( تو اب سوال یہ ہے کہ ) کیاان طریقوں پر عمل کرنے سے پہلے ہمیں بدھ متی روحانی مراقبہ اور رسومات پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے؟ نہیں، ہمیں ایسا کرنے کی مطلق ضرورت نہیں۔ تقدس مآب دلائی لاما ہمیشہ غیر مذہبی آداب اور انسانی اقدار کی بات کرتے ہیں – نرم خو ہونا، ہوشمند ہونا، سادہ لوح نہ ہونا، سہانے سپنے نہ دیکھنا، وغیرہ۔ یہ عام رہنما خطوط ہیں جن پر کوئی بھی چل سکتا ہے۔

اور جب ہم مراقبہ کی بات کرتے ہیں، تو ہم صرف اپنے آپ کو اِس طریقہ فکر سے واقف کرانے کی بات کررہے ہوتے ہیں جسمیں ہم بیٹھ جائیں اور اِس طرح سوچنے کی کوشش کریں کہ ہماری توجہ ہٹنے لگے تو ہم اُسے واپس راہ پر لاسکیں۔ ہم مہاتما بدھ پر یا تنفس پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے مراقبہ کے لئے بیٹھ سکتے ہیں، لیکن آپ یہ کتاب پڑھتے ہوئے، یا کھانا پکاتے ہوئے، یا کوئی اور کام کرتے ہوئے بھی مراقبہ کرسکتے ہیں۔ جب آپ پکا رہے ہوں تو صرف پکوان پر توجہ مرکوز رکھیں، کوئی جنونی خیالات کی طرف ذہن بھٹک جائے تو اسے پکوان کی طرف واپس لائیں۔ اس مراقبہ کے لئے کسی خاص بدھ متی رسم کی ضرورت نہیں۔ کئی طریقے ہیں جن میں ان فائدہ مند طرائقِ فکر یا طرائق عمل سے ہم اپنے آپ کو، کسی بدھ متی رسم یا ماحول کے بغیر، واقف کرواسکتے ہیں۔

لہٰذا، یہ طریقہ ہے دھرم پر عمل کرنے کا – مسائل سے بچنے میں مدد کے لئے حفظِ ماتقدم۔

اب آپ کے کیا سوالات ہیں؟

سوالات و جوابات

اندرونی و خارجی واقعات سے آگاہی

سوال : مسائل سے بچنےکے لئے کیا ہم ہمیشہ توجہ مرکوز رکھیں؟

الیکس : مسائل سے بچنے کے لئے، کیا ہمیں ہر وقت توجہ مرکوز رکھنی چاہئے؟ ایک طرح سے، ہاں۔ لیکن یہ مکمل تصویر نہیں۔ مثال کے طور پر، چِلّانے یا کسی پر ہاتھ اٹھانے میں آپ اپنی توجہ مرکوز کرسکتے ہیں، لیکن یہ پوری بات نہیں۔ ہمیں اس سے بھی آگاہ ہونے کی ضرورت ہے کہ اندرونی طور پر ہم پر کیا گذررہی ہے – ہمارے خیالات، ہمارے احساسات وغیرہ – اور اسی وقت ہمیں شعور ہو کہ اپنے اطراف اوروں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ جب کوئی گھر آتا ہے – کوئی رکنِ خاندان، کوئی پیارا، یا کوئی اور – آپ دیکھیں کہ وہ بہت تھکا ہوا ہے۔ آپ با خبر رہیں۔ یہ موقع نہیں ہے کسی اہم موضوع پر ان سے بحث کرنے کا – وہ تھکے ہوئے ہیں۔ تو آپ ہمیشہ چوکنے رہیں، ارتکاز رکھیں، اور غور کریں کہ آپ کے اطراف کیا ہورہا ہے۔ دوسروں پر کیا گذررہی ہے، صرف یہ نہیں کہ مجھی پر کیا گذررہی ہے۔

ہم اس انتہا کو نہ جائیں کہ ہم اپنے آپ سے تو آگاہ ہوں مگر دوسروں سے غیرآگاہ، یا دوسری انتہا کہ دوسروں ہی سے آگاہ ہوں اور اپنے سے غیرآگاہ۔ اس حد درازی سے بھی بچنا چاہئے۔ ایسے بہت سے لوگ ہیں جو دوسروں کو " نہ " نہیں کہہ سکتے اور ہر وقت دوسروں کے لئے، اپنے خاندان یا کسی اور کے لئے، کچھ نہ کچھ کرتے رہتے ہیں اور پھر وہ اس قدر تھک جاتے ہیں کہ بالکل ٹوٹ جاتے ہیں یا متنفر ہوجاتے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ اپنے احساسات سے بھی ہم واقف ہوں اور اپنی ضروریات کی بھی تکمیل کریں۔ ہمیں آرام کی ضرورت ہو تو ہم آرام کریں۔ جب ہمیں کہنا پڑے " معاف کیجئے، میں یہ نہیں کرسکتا۔ یہ بہت زیادہ ہے، مجھ سے نہیں ہوگا " تو ضرور کہیئے " نہیں " ۔ مناسب تو یہ ہے کہ اگر " نہ " کہنا پڑے اور ممکن ہو تو ہم انہیں کوئی متبادل حل دیں۔ جیسے یہ مشورہ دیں کہ " فلاں شخص آپ کی مدد کرسکتا ہے " ۔

مختصراً، اپنے اندرونی و بیرونی ماحول سے واقف رہیں، اور پھر صحیح سمجھداری، محبت و درد مندی کو کام میں لائیں۔

غصہ سے نبردآزمائی

سوال : آپ نے غصہ سے نبردآزمائی، اور دوسرے پریشان کن جذبات سے نبردآزمائی کے لئے ایک طریقہ فرش جھاڑنا بتایا تھا، لیکن یہ بھی کہا تھا کہ بدھ مت میں اور بھی کچھ گہرے طریقے ہیں۔ کیا آپ کوئی اشارہ دے سکتے ہیں کہ انہیں کہاں تلاش کیا جائے؟

الیکس : یہ سوال پوچھا گیا ہے کہ میں نے غصہ پر قابو پانے کے لئے چند عارضی، نہائت سطحی حل پیش کئے تھے - مثلاً جب آپ کے اندر بہت سارا غصہ بھرا ہوا ہو تو بھاری جسمانی مشقت مثلاً فرش دھونا کار گر ہو سکتا ہے – اور میں نے کچھ گہرے طریقوں کی طرف اشارہ بھی کیا تھا، تو کیا میں ان میں سے چند ایک کے بارے میں کچھ بتا سکتا ہوں؟

اگر تھوڑی سی گہرائی میں جائیں، جب ہم کسی پر برہم ہوں تو اس سے نبردآزمائی کا ایک طریقہ تو یہ ہے کہ ہم صبر پیدا کریں۔ ہم صبر کیسے پیدا کریں؟ اس کے کئی طریقے ہیں۔ لیکن ایک طریقہ، مثلاً، " ہدف جیسا صبر " ہے۔ " اگر میں ہدف ہی نہ رکھوں، تو کوئی اسے نشانہ بناۓ گا ہی نہیں " ۔ مثال کے طور پر، میں آپ سے کچھ کام کرنے کو کہتا ہوں، اور آپ اسے غلط کرتے ہیں۔ میرا میلان یہ ہے کہ میں آپ پرخفا ہوں۔ یا آپ نے کیا ہی نہیں، تو یہ کس کا قصور ہے؟ درحقیقت یہ میرا ہی قصور ہے کیونکہ اپنی کاہلی کی وجہ سے یہ کام میں نے خود نہیں کیا اور آپ کو سونپ دیا۔ تو میں کیا توقع رکھوں؟ جب آپ کسی کو کچھ کرنے کو کہیں تو کیا توقع رکھتے ہیں؟ چلئے آپ ایک ننھے دو سال کے بچے کو گرم چائے لانے کے لئے کہیں اور وہ اسے لاتے ہوئے چھلکادے۔ یقیناً وہ چھلکادے گا۔ پھر وہی بات کہ جب ہم کسی کو کچھ کرنے کے لئے کہیں تو ہم کیا توقع رکھیں؟

تو میں خوب سمجھتا ہوں کہ یہ میری کاہلی تھی جس نے مسئلہ کھڑا کیا۔ آپ دوسرے پر خفا نہ ہوں۔ اور میں واقف ہوں کہ جب میں آپ سے کچھ کرنے کو کہوں، کیونکہ میں خود کاہل ہوں – یا بہت زیادہ کاہل، یا مجھے وقت نہیں، جو بھی ہو۔ مگر نکتہ یہ ہے کہ اگر میں کسی اور سے کچھ کرنے کو کہہ رہا ہوں، مجھے یہ توقع نہیں رکھنی چاہئے کہ دوسرا ٹھیک ٹھیک ہی کرے گا – یا اس طور کرے گا جیسے میں کرتا ہوں، جو بھلے خود کچھ درست نہ ہو۔ غلطی مجھ سے بھی تو ہوسکتی ہے۔ اگر میں خود کروں اور مجھ سے غلطی ہوجائے، تو کوئی وجہ نہیں کہ میں خود سے خفا ہوجاؤں۔ " میں کامل نہیں ہوں – کوئی بھی کامل نہیں ہے – یقیناً میں غلطیاں کرتا ہوں " ۔ تو حقیقت کو تسلیم کرلوں۔ " میں ایک انسان ہوں، انسان غلطیاں کرتے ہیں : میں نے غلطی کی ہے " ۔ اور اگر میں اس کی تصحیح کرسکوں، تو کرلوں۔ میں خود پر خفا نہیں ہوتا۔ خود پر خفا ہونے کا کوئی مطلب نہیں۔ بس اگر ٹھیک کرسکوں، تو کرلوں – بات وہیں چھوڑدوں اور مستقبل میں اس کا اعادہ نہ کرنے کی کوشش کروں۔

غصہ سے نبرد آزمائی کی ایک عمیق تر سطح اپنی ذات کی حقیقت کا سمجھنا ہے۔ میں ایک عام سطح پر گفتگو کررہا ہوں، اور اس سطح پر بھی یہ کارگر ہے۔ " میں کائنات کا مرکز نہیں ہوں۔ میری مرضی ہمیشہ کیوں چلنی چاہئے؟ آخرکیوں؟ مجھ میں کیا خصوصیت ہے کہ میری مرضی ہی چلے، اور کسی دوسرے کی نہیں؟ " اس طرزِ فکر سےآپ " میں کائنات میں سب سے اہم چیز ہوں " کے ٹھوس تصور پر ضرب لگاتے ہیں۔ خالص " میں " ۔ پھر یقیناً کاری سے کاری تر ضرب لگاتے جاتے ہیں۔ جب آپ کی سوچ یہ ہے کہ " میں " ہی یہاں تخصیص رکھتا ہوں اور میری ہی مرضی چلنی چاہئے، تو پھر آپ غصہ میں آنے لگتے ہیں اگر آپ کی مرضی نہ چلے۔ ہے نا؟

بدھ مت کے ہاں اس موضوع پر کہنے کو بہت کچھ ہے کہ ہماری زندگی اور دوسروں کی زندگی کیسے گذرتی ہے۔ ہم زندگی گذارتے ہیں، لیکن ہم ان ناممکن طریقوں پر نہیں جیتے جیسے ہم سمجھتے ہیں، مثلاً ایک چھوٹے " میں " کی طرح جو میرے دماغ میں بیٹھا ہے اور بولتا جاتا ہے، اور ذہن کی اس آواز کا خالق ہے۔ ایسا لگتا ہے گویا یہ چھوٹا " میں " جو بول رہا ہے، شکایت کررہا ہے " اب میں کیا کروں؟ اچھا اب میں وہ کرلوں " ۔ اور پھر آپ پہلو بدلتے ہیں گویا یہ جسم کوئی مشین ہے، مگر یہ صرف ایک دھوکا ہے۔ آپ اس چھوٹے " میں " کو اپنے اندر نہیں پاتے۔ ہے نا؟ لیکن پھر بھی میں موجود ہوں – میں بولتا ہوں، کام کرتا ہوں۔ ہمیں ان تصورات پر ایقان سے ماورا ہونا چاہئے کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ وہ حقیقت سے مطابقت رکھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے۔ یہ آواز آرہی ہے، کوئی تو ہے جو یہاں اندر سے بول رہا ہے۔

تو بدھ مت اس پورے موضوع پر، جسے ہم " نفسیات " کہتے ہیں، بہت کچھ کہنے کو رکھتا ہے۔

اپنے جسم سے کام لینا

سوال : میرے دو سوالات ہیں۔ پہلا : اپنے جسم سے کام لینے کے بارے میں آپ شائد کچھ اور بتاسکیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہمیں اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑدینے کی ضرورت ہے، لیکن ہم کچھ اور بھی کرسکتے ہیں۔ اور دوسرا سوال یہ ہے : ان تصورات کا ماخذ کیا ہے؟ مثلاً یہ شخص جو ہمارے سروں کے اندر سے بولتا ہے ۔۔ کیوں ایسا لگتا ہے؟

الیکس : ایسے کئی شعبہ جات ہیں جو جسمانی صحت سے متعلق ہیں۔ مثلاً، تبت کی روایات میں ملتا ہے کہ بدھ متی طب جسم کی توانائیوں میں توازن قائم رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ عموماً ہماری توانائیوں اور ہماری صحت پر ہماری غذا اور ہماری عادات بڑی حد تک اثر انداز ہوتی ہیں۔ جیسے یہ عادت کہ آپ سرد موسم میں باہر نکلیں اور گرم کپڑے نہ پہنے ہوں تو بیمار ہوجاتے ہیں۔ ہم اس قسم کی عادات کی بات کر رہے ہیں۔ یا بہت زیادہ کام کرنے کی عادت - اس طرح بھی آپ بیمار ہوجاتے ہیں۔

ہم یہ بھی کوشش کرتے ہیں کہ اپنے جسم کی حالت کے بارے میں باخبر رہیں۔ اندرونی طور پر آپ جتنے خاموش ہوں گے، اتنے ہی زیادہ نہ صرف آپ اپنے من کی حالت کے بارے میں چوکس ہوں گے بلکہ اپنی جسمانی توانائی کے بارے میں بھی۔ مثال کے طور پر، جب آپ کو پتہ چلے کہ آپ کی توانائی میں بڑی گھبراہٹ ہے تو آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کی نبض تیز رفتار ہے۔ ان سے نمٹنے کے لئے آپ کچھ بنیادی اقدامات کرسکتے ہیں، حتیٰ کہ محض غذا میں توازن کے ذریعہ۔ مثلاً، ہم کافی اور تیزچائے پینا بند کرسکتے ہیں، یا ہم ایسی غذاوں کا استعمال شروع کرسکتے ہیں، جیسے چکنائی سے بھری ہوئی یا پنیر وغیرہ، جو ہماری توانائی کو بڑھا دیں۔ اور گرم پوش رہیں، کھلی ہوا میں نہ رہیں یا ایسی جگہ نہ رہیں جہاں ہوا درآتی ہو۔ اور بڑی طاقتور مشینوں کے قریب نہ ٹھہریں جو " زن زن " کرتی ہوں۔ یہ سب توانائی کو اور بھی زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ پُرسکون ماحول میں رہیں۔ اور ایسے ہی مشق جاری رکھیں۔

تبت کا رواج جسمانی کسرت یا اسی طرح کے کاموں پر زور نہیں دیتا، جیسے چین اور جاپان کا رواج فنِ حرب پر دیتا ہے۔ لیکن یقیناً مختلف طرح کے فنونِ حرب – ٹائیچی، کی گانگ، اور اس طرح کے فن – بہت مددگار ہوسکتے ہیں۔ حرکات و سکنات میں چوکنے پن کے ذریعہ ارتکاز پیدا کرنے کے بھی یہ چند طریقے ہوسکتے ہیں۔ تبتی لوگ جو جسمانی کسرت کرتے ہیں وہ بڑی لطیف ہوتی ہے، توانائی نظام کے ساتھ مختلف طرح سے کام کرتے ہیں، فنِ حرب کی طرح نہیں۔ یہ انداز مختلف ہے، زیادہ تر یوگا کا انداز ہے۔ اس طرح آپ اپنے جسم سے کام لیتے ہیں۔

ہمارے دماغوں میں آواز کا ماخذ

جہاں تک دماغ میں آواز کا تعلق ہے، یہ من کی نوعیت پر مبنی ہے اور کچھ پیچیدہ معاملہ ہے۔ بدھ مت میں، جب ہم من کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہم کسی عنصر کے بارے میں بات نہیں کررہے ہوتے ۔ بلکہ من کی کاروائی کی بات کرتے ہیں جس میں سوچ بچار، بصارت، جذباتی احساسات وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ یہ بہت وسیع میدان ہے۔ اس عمل میں ہوتا یہ ہے کہ ایک دماغی ہیولا سا پیدا ہوتا نظر آتا ہے۔ مثلاً، جب ہم کچھ دیکھتے ہیں، روشنی آنکھ کے پردے پر پڑتی ہے، عصبات میں برقی تحریک اور کیمیائی اثرات پیدا ہوتے ہیں، اور نتیجتاً ایک تصویر سی بنتی ہے۔ مگر وہ صرف ایک دماغی ہیولا ہے جو ان سب کیمیائی اور برقی محرکات سے وجود میں آتا ہے۔

لیکن ہیولا صرف مرئی نہیں ہوتا۔ یہ دماغی ہیولا آواز، مثلاً الفاظ، بھی ہوسکتی ہے۔ ہم ایک بار میں سارا جملہ نہیں سنتے – ہم چھوٹے چھوٹے ٹکڑے لمحہ لمحہ کرکے سنتے ہیں – تب ایک مکمل جملہ کا دماغی ہیولا سا بنتا ہے اور ہمیں سمجھ میں آتا ہے کہ اس کا کیا مطلب ہے۔ اسی طرح جذبات کی صورت میں ایک دماغی ہیولا ہوتا ہے، خیالات کی صورت میں ایک دماغی ہیولا ہوتا ہے، اور اظہارِ بیان کی صورت میں ایک دماغی ہیولا ہوتا ہے – یہ آواز۔ یہ چیزیں یوں پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں کچھ قوتِ مدرکہ شامل ہوتی ہے۔ تو یہ ہے دیکھنا، سوچنا، اور محسوس کرنا ۔ تو یہ ہے اس کی اصلیت۔ اور یہ دماغی عمل جاری رہتا ہے بغیر ایک " میں " کے جو نگرانی کرنے، قابو کرنے، اور وقوع پذیر ہونے سے جدا نہ ہو۔ یہ بس ہوتا رہتا ہے۔ اس دماغی ہیولا کا ایک جز " میں " کے خیالات ہیں " وہ آواز میری ہے " ۔ کون سوچ رہا ہے؟ میں سوچ رہا ہوں۔ یہ آپ نہیں ہیں جو سوچ رہے ہیں – میں سوچ رہا ہوں۔ لیکن یہ جز ہے سارے ہیولا بننے کے طریقہ کار کا۔

دماغ میں جو آواز پیدا ہورہی ہے اس کا ماخذ کیا ہے؟ یہ دماغی عمل کی ایک نمایاں خصوصیت ہے۔ مگر ضروری نہیں کہ سارا دماغی عمل اسی طرح کام کرے۔ یہ آواز ہمیشہ چلتی نہیں رہتی، اور مجھے شک ہے کہ ایک کیچوا آواز کے ساتھ سوچتا ہے۔ کیچوا یقیناً ایک بھیجہ رکھتا ہے، ایک دماغ رکھتا ہے، چیزوں کو دیکھتا ہے، اور کام کرتا ہے۔

دراصل جب ہم غور کرنا شروع کریں تو یہ سب بہت دلچسپ لگنے لگتا ہے۔ گویائی کی آواز کا ہیولا ایک ذریعہ ابلاغ ہے۔ یہ ایک طرح کا تخیّل ہے جو الفاظ کا دماغی آواز کی صورت میں اظہار کرتا اور ترسیلِ خیال کرتا ہے۔ دلچسپ سوال یہ ہے : ایک شخص جو پیدائشی گونگا اور بہرا ہے، اور آواز کا کوئی تصور نہیں رکھتا – کیا ان کے دماغ میں کوئی آواز ہوتی ہے یا وہ علاماتی زبان میں ہی سوچتے ہیں؟ یہ بہت دلچسپ سوال ہے۔ مجھے کبھی اس کا جواب نہیں مل سکا۔

چاہے وہ آواز ہو، یا چاہے علاماتی زبان ہو، یا کچھ اور – یا جیسے ایک کیچوا سوچتا ہے – فریبِ نظر یہ ہے کہ اس کے پیچھے ایک جدا " میں " ہے جو بات کرتا ہے، کنٹرول بورڈ پر بیٹھا ہے، اور آنکھون کے ذریعہ پردے پر معلومات پہنچ رہی ہیں، ان کے پاس ایک مائکروفون ہے اور وہ مخاطِب ہیں، اور ان کے ایک بٹن دباتے ہی ہاتھ اور پاؤں حرکت کرنے لگتے ہیں۔ یہ سارا فریبِ نظر ہے۔ لیکن یہ اس طرح کا " میں " ہے جو کنٹرول بورڈ پر بیٹھا ہے جس کا موضوع ہے " اوہ، لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟ " اور " اب میں کیا کروں؟ " اس کے بارے میں ہم پریشان ہیں، یہ جو " میں " ہے جو کنٹرول بورڈ پر بیٹھا ہے۔

جب ہمیں خبر ہوتی ہے کہ یہ " میں " ایک دھوکا ہے، تو پریشانی کی کوئی بات نہیں ہونی چاہئے۔ ہم بات کرتے ہیں، ہم کام کرتے ہیں۔ یقیناً یہ میں ہی ہوں : میں بات کررہا ہوں، میں کام کررہا ہوں۔ اور اگر لوگ اسے پسند نہیں کرتے، تو ان کی مرضی۔ تو کیا ہوا؟ مہاتما بدھ نے سب کو خوش نہیں کیا۔ نہ ہی سب نے مہاتما بدھ کو پسند نہیں کیا، تو میں اپنے سے کیا توقع رکھوں؟ ہم محض سمجھداری، محبت، اور درد مندی کا استعمال کرتے ہیں اور ( اس کے مطابق ) عمل کرتے ہیں۔ بس اتنی سی بات ہے۔ اور پریشان نہ ہوں " وہ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟ " یہ اتنا سادہ نہیں جتنا کہ لگتا ہے۔

جب دوسرے غصہ میں ہوں تو اپنے پر قابو رکھنا

سوال : جب دوسرا شخص ہم پر برہم ہو تو ہم اپنے کو کیسے قابو میں رکھیں؟

الیکس : بنیادی طور پر ہم دیکھتے ہیں کہ وہ ایک چھوٹے بچہ کی طرح ہیں۔ جب ہم اسے کہتے ہیں " سونے کا وقت ہوگیا ہے " تو وہ دو سالہ بچہ غصہ میں بپھر کر ہم سے کہتا ہے " میں تم سے نفرت کرتا ہوں۔ تم بہت خراب ہو " اور خوب مچلتا ہے، تو کیا ہم اس پر غصہ ہوتے ہیں؟ ہاں، کچھ لوگ تو ضرور ہوتے ہیں، لیکن وہ تو بس ایک دو سالہ بچہ ہے، ہم اس سے کیا توقع رکھیں؟ آپ اسے چپ کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ نرمی برتتے ہیں، جو ایک دو سالہ کے ساتھ ہونی چاہئے۔ ذرا سوچئے : آپ اس طرح کے ایک دو سالہ بچہ سے کیا سلوک کریں گے؟ ایک دو سالہ بچہ جب اس طرح بگڑ جائے، آپ اسے گود میں اٹھالیں، گلے لگالیں، اور شفقت کا برتاو کریں تو عموماً وہ چُپ ہوجا تا ہے۔ ہو جاتا ہے نا؟ اس پر چلانے سے وہ اور رونے لگتا ہے۔ تو لوگ بھی اسی طرح ہوتے ہیں – بڑے بچے۔

میرا خیال ہے یہاں ہم اپنی گفتگو ختم کریں۔ آپ کا بیحد شکریہ۔