ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت کا تعارف > دھرم کی ہماری زندگیوں میں شمولیت

دھرم کی ہماری زندگیوں میں شمولیت

الیگزینڈر برزن
بوک، پولینڈ ۱۳ دسمبر ۲۰۰۲

دھرم کا مقصد زندگی کے مسائل حل کرنا ہے

آج شام میں روز مرہ زندگی میں دھرم کے کردار پر بات کرنا چاہوں گا۔ لفظ دھرم کا مطلب ہے ایک حفاظتی تدبیر۔ یہ وہ کام ہے جو ہم مسائل سے بچنے کے لئے کرتے ہیں۔ دھرم کی مشق اختیار کرنے کی خاطر پہلا کام ہمیں اپنی زندگی کے مختلف نوع کے مسائل اور مشکلات کو پہچاننا ہے۔ دوسری بات یہ سمجھنا ہے کہ دھرم کی مشق کا مقصد ہمیں ان مسائل سے نجات دلانا ہے۔

دھرم کی مشق کا مطلب اچھا محسوس کرنا، یا کوئی مشغلہ اختیار کرنا، یا مقبول روش اختیار کرنا، یا ایسی کوئی اور بات نہیں۔ دھرم کی راہ پر چلنے کا مطلب اپنے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقتاً دھرم کی راہ پر چلنے کے لئے ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ یہ کوئی خوشگوار سفر نہیں ہو گا۔ ہمیں اپنی زندگی کی ناخوشگوار چیزوں کو نہ صرف دیکھنا ہو گا بلکہ ان کا سامنا بھی کرنا ہو گا، مشکلات جو ہمیں درپیش ہیں – ان سے دور نہیں بھاگنا بلکہ اس انداز فکر سے ان کا سامنا کرنا ہے کہ اب ہم ان سے نمٹنے کی کوشش کریں گے۔

ہمارے مسائل مختلف نوع کے ہیں۔ ہم سب ان میں سے بیشتر سے واقف ہیں – ہم عدم تحفظ کا شکار ہیں؛ ہمیں دوسروں کے ساتھ تعلقات میں مشکلات کا سامنا ہے؛ ہم اجنبیت کا شکار ہیں؛ ہمیں اپنے جذبات اور محسوسات کے بارے میں مشکلات ہیں – یہ ایسے مسائل ہیں جو ہم سب کو درپیش ہیں۔ ہمیں اپنے خاندان اور اپنے والدین کے ساتھ تعلقات میں مشکلات ہیں؛ وہ بیمار پڑ جاتے ہیں اور بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی بیماریوں اور ضعیفی عمر سے نمٹنے کی مشکلات درپیش ہیں۔ اور اگر ہم جوان ہیں تو ہمیں ایسے مسائل کہ زندگی میں کیا کرنا ہے، روزی کیسے کمانی ہے، کونسی راہ اختیار کرنی ہے، وغیرہ کا سامنا ہے۔

عدم تیقن

بدھ مت میں اس بات کو سمجھنا نہائت اہم ہے کہ یہ مسائل جن سے ہم سب کا واسطہ پڑتا ہے ان کی کچھ وجوہات ہوتی ہیں۔ ایسا نہیں کہ ان کے پس پشت کوئی علت نہیں۔ ان مسائل کا منبع ہمارے اندر موجود ہے۔ یہ بڑی گہری بات ہے اور اکثر لوگوں کے لئے اسے قبول کرنا آسان نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر لوگ دوسروں کو یا بعض خارجی عناصر کو اپنے مسائل کا ذمہ دار ٹھراتے ہیں۔ ہم یوں محسوس کرتے ہیں، " میں تمہارے فعل کی وجہ سے ناخوش ہوں – تم نے مجھے کال نہیں کیا؛ تم نے مجھے اکیلا چھوڑ دیا؛ تم مجھ سے پیار نہیں کرتے۔ یہ سب تمہارا قصور ہے۔ " یا ہم اپنے والدین کو قصوروار ٹھراتے ہیں – اس پر جو انہوں نے ہمارے لئے کیا یا نہیں کیا جب ہم چھوٹےبچے تھے۔ یا ہم معاشی، سیاسی یا سماجی حالات، وغیرہ کو الزام دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ تمام عناصر ہماری زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ بدھ مت اس سے انکار نہیں کرتا۔ لیکن اصلی وجہ، ہمارے مسائل کی بنیادی وجہ، ہمارے اندر ہے – یہ ہمارے رویے خصوصاً ہمارا عدم تیقن ہے۔

اگر ہم کسی ایسے ایک عنصر کی تلاش میں ہیں جو بدھ مت کے مطابق زندگی گزارنے کے بدھ متی موقف کو واضح طور پر بیان کرتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ وہ یہی ہے۔ جب ہم مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں تو ہم اپنے اندر جھانک کر اس کی وجہ تلاش کرتے ہیں اور جب ہم اسے پا لیتے ہیں تو ہم صورت حال کو اندر سے تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ہم اپنے اندر جھانکنے اور مسائل کی وجہ تلاش کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس کی بنیاد کوئی اخلاقی معیار نہیں جس سے ہم نے اپنے برے ہونے کا تعین کر لیا ہے اور اب مجھے اپنے آپ کو تبدیل کر کے ایک اچھا انسان بننا ہے۔ بدھ مت اخلاقی فیصلے صادر نہیں کرتا۔ ہم اپنے مسائل کے منبع کو اپنے اندر محض اس لئے تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ہم تکلیف میںہیں اور اپنے مسائل اور عدم مسرت سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں اور ان کی اصلی وجہ ہمارے اپنے رویے ہیں۔

خصوصی طور پر، مہاتما بدھ نے کہا کہ ہمارے مسائل اور دکھ درد کی بنیادی وجہ ہماری بے یقینی ہے۔ تو ہمیں اس امر کی تلاش ہے کہ جو کچھ پیش آ رہا ہے اس کی بابت ہم کیسے بے یقین ہیں، اور ہم صحیح سوجھ بوجھ حاصل کر کے کیسے اس کی اصلاح کر سکتے ہیں۔

ہماری بے یقینی کس بارے میں ہے؟ یہ کئی چیزوں کے بارے میں ہے۔ ان میں سے ایک رویہ کے بارے میں اسباب اور اس کے اثرات ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر ہم کسی ایک خاص انداز سے کچھ کریں تو اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔ مثلاً ہم یوں سوچتے ہیں، " میں دیر سے جا سکتا ہوں، میں تمہیں نظر انداز کر سکتا ہوں، وغیرہ وغیرہ، اور اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ " یہ غلط ہے؛ یہ ذہنی الجھن کی بات ہے۔ یا ہم یہ سوچتے ہیں کہ اگر ہم کچھ کرتے ہیں یا جو رویہ اختیار کرتے ہیں اس کا کوئی خاص ( حسب منشا ) اثر ہو گا، اگرچہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ مثال کے طور پر، " میں تم سے اچھی طرح پیش آؤں تو جواباً تم مجھ سے محبت سے پیش آؤگے۔ میں نے تمہیں ایک اچھا سا تحفہ دیا تو تم مجھ سے پیار کیوں نہیں کرتے؟ " اس قسم کے خیالات سے ہم یہ تصور قائم کرتے ہیں کہ ہمارے اعمال اور سلوک کا ایک ناممکن اثر ہو گا، یا ہم ان کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں یہ سوچتے ہوۓ کہ ان کا ایسا بڑا اثر ہو گا جو وہ کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ اور ہم یوں بھی سوچ سکتے ہیں کہ بعض باتوں کا ایک خاص اثر ہوگا جبکہ ان کا بالکل الٹ اثر ہوتا ہے۔ مثلاً ہم مسرت کے خواہاں ہیں اور اس لئے ہم ہر وقت شراب کے نشہ میں دھت رہتے ہیں۔ مگر یہ مسرت سے زیادہ مسائل پیدا کرتا ہے۔

ایک اور بات جس کے بارے میں ہم عدم تیقن کا شکار ہیں وہ ہمارے، دوسروں کے اور دنیا کے طرز وجود کے بارے میں ہے۔ مثال کے طور پر ہم دکھ اٹھاتے ہیں اور بڑھاپے اور بیماری کی وجہ سے غمگین ہو جاتے ہیں۔ لیکن بطور انسان کے ہم اور کیا توقع کر سکتے ہیں؟ انسان بیمار بھی ہوتے ہیں اور بوڑھے بھی، ماسواۓ اس کے کہ ہمیں جوانی میں موت آ جاۓ - یہ واقعات حیران کن نہیں۔ جب ہمیں شیشے میں سفید بال نظر آتے ہیں تو ہم غمگین ہو جاتے ہیں اور ہمیں صدمہ پہنچتا ہے۔ ایسا ردعمل دنیا کے اور ہمارے وجود کے بارے میں غیر حقیقت پسندی اور بے یقینی پر قائم ہے۔

فرض کیجئے کہ ہمیں بوڑھا ہونا سخت ناگوار ہے۔ ہماری اس بارے میں الجھن کی وجہ سے – ہمارے اس حقیقت کو ٹھکرانے کی وجہ سے – ہم پریشان کن جذبات اور رویے کے زیر اثر تخریبی افعال کے مرتکب ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جبراً جوان اور پر کشش لگنے کی کوشش میں ہم شدت کی خواہش کے ساتھ ایسی چیزیں حاصل کرنے کی سعی کرتے ہیں جو ہمیں شائد تحفظ فراہم کریں گی – جیسے دوسروں کی توجہ اور محبت، خصوصاً جوان لوگوں کی جنہیں ہم دلکش پاتے ہیں۔ ان علامات کے پیچھے عموماً یہ مغالطہ پایا جاتا ہے کہ میں دنیا میں سب سے اہم انسان ہوں، میں محور عالم ہوں۔ ہر شخص کو مجھ پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ قطع نظر اس کے کہ میں کیسا دکھتا ہوں ہر شخص کو مجھے پرکشش پانا چاہئے اور مجھے پسند کرنا چاہئے۔ اگر کوئی شخص ہمیں پرکشش نہیں پاتا یا ہمیں پسند نہیں کرتا تو ہم دیوانے ہو جاتے ہیں۔ اور اگر وہ ہمیں نظرانداز کر دیں تو ہم اور بھی غصہ میں آ جاتے ہیں – اگر وہ ہمیں توجہ نہ دیں جب ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں پرکشش پائیں، اگر جسمانی طور پر نہیں تو کسی اور طرح ہی سہی۔ مگر سب لوگ شکیامونی مہاتما بدھ کو پسند نہیں کرتے تھے، تو یہ کیسے امید کی جا سکتی ہے کہ سب لوگ ہمیں پسند کریں !

ہماری یہ خواہش کہ سب لوگ ہمیں پسند کریں ایک غیرحقیقت پسند توقع ہے۔ یہ حقیقت نہیں۔ یہ مغالطہ ہے، شدید آرزو ہے، اور ( بیجا ) لگاؤ ہے کہ ہر شخص ہمیں پرکشش پاۓ اور ہمیں توجہ دے۔ اس کی تہ میں سادہ لوحی کا پریشان کن رویہ پایا جاتا ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہم اسقدر اہم اور محبوب ہیں کہ ہر شخص کو ہمیں پسند کرنا چاہئے، لہٰذا اگر فلاں شخص مجھے پسند نہیں کرتا تو یقیناً اس میں کوئی خرابی ہے۔ اس سے بھی بری بات یہ ہے کہ ہم اپنے بارے میں شک میں مبتلا ہو جائیں :" مجھ میں ضرور کوئی خرابی ہے جس کی وجہ سے یہ شخص مجھے پسند نہیں کرتا، " تو ہم برا محسوس کرتے ہیں اور احساس جرم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ سراسر بےوقوفی ہے۔

پس اصل بات یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کریں۔ دھرم پر چلنے کا یہی مطلب ہے۔ صورت حال کچھ بھی ہو – اگر ہمیں مشکلات کا سامنا ہے، ہم عدم تحفظ کا شکار ہیں، یا اور کچھ ، تو ہمیں اپنے اندر جھانک کر دیکھنا چاہئے کہ کیا ہو رہا ہے۔ یہ پریشان کن جذبات جن کا میں شکار ہوں ان کے پیچھے کیا مغالطہ ہے؟ لہٰذا اگر ہم اپنے کسی ایسے تعلق کا جائزہ لے رہے ہیں جس نے مسائل پیدا کئے ہیں، تو ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہئے کہ محض ہم ہی انتشار کا شکار نہیں۔ یہ بات عیاں ہے کہ دوسرا شخص بھی مغالطے میں ہے۔ بات یہ ہے کہ ہم محض یوں نہیں کہتے، " تمہیں اپنے آپ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے؛ میرا ہر کام درست اور بے عیب ہے؛ یہ تم ہو جسے اصلاح کی ضرورت ہے۔ " دوسری طرف ہم یہ کبھی نہیں کہتے کہ مجھے اصلاح کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے ہمارے قربانی کا بکرا بننے کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ ہم دوسرے شخص کے ساتھ کھل کر بات چیت کرنے کو تیار ہوتے ہیں – بشرطیکہ وہ ہماری بات ماننے کو تیار ہو۔ ہمیں یہ بات تسلیم کرلینی چاہئے کہ ہم دونوں الجھاؤ کا شکار ہیں۔ جہاں تک ہمارے بیچ مسائل کو سمجھنے کی بات ہے تو ہم دونوں مشکل میں گرفتار ہیں، لہٰذا پہلے ہم اپنے درمیان غلط فہمی کو دور کریں۔ یہ آگے بڑھنے کی سب سے حقیقت پسند اور دھرمی راہ ہے۔

دھرم پر عمل پیرا ہونے سے قبل اسے سمجھنا

بدھ مت پر چلنے کے کئی راستے ہیں۔ یہ کافی نہیں کہ ہم ان کے بارے میں ہدایات لے کر ان پر عمل کریں جیسے کوئی کرتب سیکھا جاتا ہے۔ کسی بھی مشق کی بابت یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ ہمارے مشکلات پر قابو پانے میں کیسے معاون ثابت ہو گی۔ ہمیں نہ صرف یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ اس پر کب اور کیسے عمل کیا جاۓ بلکہ اس کے پیچھے جو مفروضے ہیں ان کو بھی سمجھنا چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ مدارج سے شروع نہیں کرتے۔ ہم شروع سے ابتدا کرتے ہیں اور ایک بنیاد قائم کرتے ہیں تا کہ ہمیں اس سلسہ وار درجہ بندی سے پتہ چلے کہ دھرم کی تعلیمات کیسے پروان چڑھتی ہیں، اور یہ کہ ہر مشق کا کیا نتیجہ نکل رہا ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم ایسی تعلیمات کے بارے میں پڑھتے ہیں جو کہتی ہیں، " اگر تمہیں کوئی دوا دی جاۓ تو یہ مت پوچھو کہ یہ کیسے کام کرتی ہے، بس اسے لے لو !" اگرچہ یہ ایک اچھی نصیحت ہے پر ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ ہمیں انتہا پسندی کے خلاف متنبہ کر رہی ہے۔ وہ انتہا یہ ہے کہ ہم محض مطالعہ کریں اور سمجھنے کی کوشش کریں مگر کبھی اپنے اس علم کو عملی جامہ نہ پہنائیں۔ ہم اس حد سے تجاوز نہیں کرنا چاہتے۔ اس کی ایک دوسری حد بھی ہے اور اس سے بھی ہمیں بچنا ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی دھرم کی مشق کے بارے میں کوئی ہدایات سن کر اس پر آنکھیں بند کر کے بغیر سوچے سمجھے عمل کرنا کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کیوں کر رہے ہیں۔ اس حد درازی سے جو بڑا مسئلہ پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم اس بارے میں کبھی بھی ادراک حاصل نہیں کر پاتے کہ اپنی روز مرہ زندگی میں کیسے اس کا اطلاق ہو۔ اگر ہم کسی بھی مشق کا مقصد سمجھتے ہوں - اگر ہم اس کے طریق کار اور اس کے مقصد سے واقف ہوں – تو پھر ہمیں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں کہ اسے کس طرح روز مرہ زندگی میں استعمال میں لایا جاۓ۔ پھر ہم سمجھتے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہم خود کیسے اس کا اطلاق کر سکتے ہیں۔

جب ہم مسائل سے چھٹکارے کی بات کرتے ہیں تو ہم نہ صرف اپنے مسائل حل کرناچاہتے ہیں بلکہ ہم ان مشکلات سے بھی نجات حاصل کرنے کی بات کرتے ہیں جو ہمیں دوسروں کی مدد کرنے میں پیش آتی ہیں۔ " مجھے اپنی سستی، خودغرضی یا مصروفیت کی وجہ سے دوسروں کی مدد کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔ " یا " میں تمہارے مسئلہ کو نہیں سمجھتا اور مجھے اس بات کا کوئی اندازہ نہیں کہ میں کیسے تمہاری مدد کروں۔ " یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، ہے نا؟ دوسروں کی مدد کرنے کی راہ میں یہ تمام رکاوٹیں ہمارے عدم تیقن کی وجہ سے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ خوش خیالی کہ میں قادر مطلق خدا کی مانند ہوں اور مجھے صرف ایک جنبش دینی ہے اور تمہارے تمام مسائل حل ہو جائیں گے؛ اور اگر ایسا نہ ہوا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ضرور تمہارے اندر کوئی نقص ہے۔ تم نے یہ کام ٹھیک طرح سے نہیں کیا لہٰذا تم قصوروار ہو۔ یا میں مجرم ہوں، کیونکہ مجھے تمہارے مسائل حل کر دینے چاہئیں تھے مگر میں ایسا نہیں کر سکا، پس میں ایک بیکار انسان ہوں۔ در اصل یہ علت و معلول کے بارے میں غلط فہمی ہے۔

دھرم میں ایقان کی اہمیت

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ دھرم کا اپنی روزمرہ زندگی میں موثر اور غیر نیوراتی انداز سے اطلاق کرنے کے لئے ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ مسائل سے چھٹکارا درحقیقت ممکن ہے۔ ہمیں اس بات کا پورا اعتماد ہونا چاہئے کہ بدھ مت کے بنیادی لائحہ عمل پر چل کر ہم اپنے انتشار سے نجات حاصل کر سکتے ہیں : کسی چیز سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہمیں اس کی وجوہات جو اس کا باعث ہوتی ہیں انہیں تلف کرنا ہو گا۔ لیکن اس بارے میں عمیق، مستحکم ایمان قائم کرنا کہ ہم اپنے تمام انتشار سے اس طرح نجات پا سکتے ہیں کہ یہ پھر کبھی ظہور پذیر نہ ہو، اور اس بات کا پکا یقین کہ مکش اور روشن ضمیری حاصل کرنا ممکن ہے یقیناً ایک بہت مشکل کام ہے۔ یہ اس وقت اور بھی مشکل ہو جاتا ہے اگر ہم مکش اور روشن ضمیری کے حقیقی معانی سے ناواقف ہوں۔ تو ہم یہ کیسے سچ مچ جان سکتے ہیں کہ ان کا حصول ممکن ہے یا نہیں؟ اگر ہم ان کے حصول کو ناممکن سمجھتے ہیں تو کیا یہ قدرے منافقت نہ ہو گی کہ ہم کسی ایسی شے کی تلاش کا ارادہ کریں جس کا ہمارے تصور میں وجود ہی نہیں؟ اس طرح یہ ایک دیوانوں کا کھیل بن جاتا ہے جو ہم کھیل رہے ہیں؛ یوں ہماری دھرم کی مشق کوئی حقیقی شے نہیں۔

ہمیں اس امر کا پورا وثوق ہونا چاہئے، اور اس کے لئے بہت سا مطالعہ، سوجھ بوجھ ، گہری سوچ اور مراقبہ درکار ہے۔ ہمیں اس بات کا یقین ہونا چاہئے کہ نہ صرف مکش اور روشن ضمیری ممکن ہیں بلکہ میرے لئے بھی انہیں حاصل کرنا ممکن ہے۔ ایسا نہیں کہ یہ صرف شکیامونی کے لئے ممکن تھا، اور میں ایسا کرنے سے قاصر ہوں۔ بلکہ ان کا حصول میرے بس میں ہے اور یہ ہر انسان کے بس میں بھی ہے۔ ہمیں یہ بات بخوبی سمجھنی چاہئے کہ ہمیں انتشار سے نجات پانے کے لئے کیا کرنا ہے۔ وہ کونسی چیز ہے جو ہمیں اس سے سچ مچ نجات دلاۓ گی؟ جو چیز ہمیں بے یقینی سے نجات دلاۓ گی وہ ہے صحیح فہم و فراست؛ تو ہمیں یہ سمجھنا لازم ہے کہ صحیح فہم و فراست کس طرح بے یقینی پر قابو پا کر اسے یوں ختم کر سکتی ہے کہ یہ پھر کبھی واپس نہ لوٹے۔ اس سب کے نتیجہ کے طور پر ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دھرم کی مشق کا اصل میدان عمل روز مرہ زندگی ہے؛ یہ زندگی میں ہر لحظہ ہمارے مسائل، انتشار، اور ہماری مشکلات سے نمٹنے کا دوسرا نام ہے۔

دھرم پر چلنے کے لئے دروں بینی لازم ہے

دھرم کی مشق سے مراد زندگی سے تعطیل نہیں، یعنی کسی اچھے، پر سکون غار میں مراقبہ، یا بس اپنے کمرے میں گدی پر بیٹھ کر زندگی کے مسائل سے فرار۔ دھرم کی مشق کا مقصد ( زندگی سے ) فرار نہیں۔ جب ہم کسی پر سکون جگہ پر جا کر مراقبے میں بیٹھتے ہیں تو اس کا مقصد ایسی صلاحیتوں کو استوار کرنا ہوتا ہے جن کی ہمیں زندگی کے مسائل سے نمٹنے کے لئے ضرورت ہو تی ہے۔ اصل مرکز توجہ زندگی ہے۔ یہاں مراقبے میں بیٹھنے کا مقصد اولمپک تمغہ جیتنا نہیں ! دھرم کی مشق کا مطلب دھرم کا زندگی پر اطلاق ہے۔

علاوہ ازایں، دھرم کی مشق دروں بینی ہے۔ اس کے ذریعہ ہم اپنی جذباتی کیفیات، ہمارے محرکات، ہمارے رویے، اور ہمارے اضطراری طریق کار کے متعلق باخبر ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم خصوصاً پریشان کن جذبات کو تلاش کرتے ہیں۔ پریشان کن جذبہ اور رویہ کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ جب یہ پیدا ہوتا ہے تو یہ ہمیں / یا دوسروں کو بے چین کرتا ہے۔ ہم اپنے من کا چین کھو بیٹھتے ہیں اور بے قابو ہو جاتے ہیں۔ یہ بڑی سودمند توضیح ہے، کیونکہ اس کے بارے میں جانکاری ہمیں اس بات کی شناخت میں مدد دیتی ہے، جب ہم کسی ایسے جذبہ یا رویہ سے مغلوب ہوں۔ اگر ہم بے چینی کا شکار ہوں تو ہمیں پتہ چل جاتا ہے کہ ہمارے من میں کوئی پریشانی ہے۔ ایسے موقعوں پر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ ہمارے اندر کیا ہو رہا ہے اور پھر اس کا تریاق استعمال کر کے اس کی اصلاح کریں۔

اس کے لئے ہمیں اپنے اندرونی حالات کے بارے میں بے حد حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ اور اگر ہم اپنی جذباتی صورت حال کو پریشان کن پائیں اور اس کو تبدیل کرنے کے لئے کچھ کرنا چاہیں تو اس کے لئے اس احساس کی ضرورت ہے کہ اگر ہم مضطرب اور پریشان کن رویہ اختیار کریں تو اس سے ہمارے لئے اور دوسروں کے لئے عدم مسرت کی حالت پیدا ہو گی۔ ہمیں یہ نہیں چاہئے؛ یہ بہت ہو چکا۔ اور اگر ہم خود پریشان ہوں تو ہم کیسے کسی کی مدد کر سکتے ہیں؟

نرم خوئی

دھرم کی مشق میں ایک نہ دو بلکہ کئی متناقض قوتوں سے جان پہچان کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ہماری زندگیاں بہت پیچیدہ ہیں اور کوئی ایک دوا ہمیشہ کارگر نہیں ہوتی۔ کوئی ایک مشق ہر صورت حال میں موثر ثابت نہیں ہو گی۔ چیزوں کا اپنی روزمرہ زندگی میں صحیح معنوں میں اطلاق کرنے کے لئے نرم خوئی اور کئی مختلف طریقوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس سے کام نہ چلے تو ہم اُس کو آزماتے ہیں؛ اگر اُس سے کام نہ چلے تو ہم اس کو آزماتے ہیں۔

میرے استاد سنزاب سرکانگ رنپوچے کہا کرتے تھے کہ زندگی میں تم جب بھی کوئی کام کرنا چاہو تو ہمیشہ دو تین متبادل منصوبے بناؤ۔ اسطرح اگر منصوبہ اے ناکام ہو جاۓ تو تم ہمت نہیں ہار بیٹھتے، کیونکہ تمہارے پاس محفوظ وسائل یعنی پلان بی اور سی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک نہ ایک تو بالآخر کام کرے گا۔ اس نصیحت کو میں نے بہت کارگر پایا۔ دھرم کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے : کسی خاص صورت حال میں اگر ضابطہ عمل اے کام نہ کرے تو ہمارے پاس ایک محفوظ شدہ پلان ہے۔ اور بھی کچھ چیزیں ہیں جن سے ہم مدد لے سکتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ ان باتوں کا دارومدار مطالعہ، مختلف ضوابط عمل سیکھنے اور مراقبہ پر ہے جن کی ہم تیاری کرتے ہیں جیسے کہ کوئی جسمانی تربیت۔ ہم ان طریقوں سے واقفیت حاصل کرنے کی اپنی تربیت کرتے ہیں تا کہ حسب ضرورت روزمرہ زندگی میں ہم ان کو بروۓ کار لا سکیں۔ اس کے لئے دھرم کو ایک مشغلہ سمجھنے کی بجاۓ کل وقتی قرار ماننے کی ضرورت ہوتی ہے۔

حد درازی سے اجتناب

ہم دھرم کو اپنے خاندانوں پر لاگو کرتے ہیں۔ ہم اسے اپنے والدین، بچوں اور ہمکار لوگوں کے ساتھ معاملات میں استعمال میں لاتے ہیں۔ ایسا کرنے میں ہمیں مختلف حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہئے۔ ہم نے اس کا پہلے بھی تھوڑا سا ذکر کیا ہے۔ ہمیں اپنے مسائل کے لئے نہ تو دوسروں کو مورد الزام ٹھرانا چاہئے اور نہ ہی خود کو سراسر قصور وار ماننا چاہئے – اس میں دونوں کا قصور ہوتا ہے۔ ہم دوسروں کو اصلاح کی ترغیب دینے کی کوشش کر سکتے ہیں، مگر اپنی اصلاح سب سے آسان ہوتی ہے۔

پس اپنی اصلاح ہمارا مدعا ہے؛ مگر ایسا کرتے ہوۓ ہمیں حد سے متجاوز خودپسندی سے گریز کرنا چاہئے۔ اپنے آپ میں مست رہنے سے ہماری توجہ ہمیشہ اپنے آپ پر مرکوز رہتی ہے اور ہم کسی اور کو خاطر میں نہیں لاتے۔ یہ اس احساس کو تقویت دیتا ہے کہ ہم محور عالم ہیں اور ہمارے مسائل دنیا میں سب سے اہم ہیں۔ کسی اور کے مسائل نہ تو اہم ہیں اور نہ ہی تکلیف دہ۔

ایک اور انتہاپسند سوچ یہ ہے کہ ہم بہت برے یا بہت اچھے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ہمیں اپنی کمزوریوں کی شناخت کرنا ضروری ہے، وہ کمزوریاں جن کی ہمیں اصلاح کرنی ہے۔ مگر ہمیں اپنے مثبت پہلوؤں کو بھی جاننا چاہئے، ہماری مثبت خصوصیات؛ تا کہ ہم انہیں مزید سے مزید تر استوار کر سکیں۔ ہم مغرب کے باسیوں میں سے بہت سارے احساس کمتری کا شکار ہیں ۔ اگر ہم اپنے مسائل اور عدم تیقن پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کریں تو اس سے اس احساس کمتری کو فوری تقویت مل سکتی ہے۔ یہ ہر گز ہمارا مقصد نہیں۔

عین اس وقت جب ہم اپنے منتشر جذبات پر توجہ مرکوز کئے ہوۓ ہوں تو یہ سوچ کر کہ ہمارے اندر اچھی صفات بھی موجود ہیں ہم ایک توازن پیدا کر سکتے ہیں۔ بد ترین لوگوں میں بھی اچھی صفات کی تھوڑی بہت رمق پائی جاتی ہے۔ بلا شبہ انہوں نے کبھی نہ کبھی کسی کتے یا بلی کے بچے کو گود میں اٹھا کر سہلایا ہو گا اور اس کے لئے اپنے دل میں کچھ جگہ پائی ہوگی۔ ایسا تجربہ تو تقریباً سب کو ہوا ہو گا۔ تو ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم اس قسم کا پیار دینے کے قابل ہیں، اور یوں ہم اپنے مثبت پہلو سے واقف ہوتے ہیں۔ دھرم پر چلنے کا مطلب محض اپنے منفی جذبات سے نمٹنا ہی نہیں؛ اس میں توازن ہونا چاہئے۔ ہمیں اپنے مثبت پہلوؤں کو مزید طاقتور بنانے پر بھی کام کرنا چاہئے۔

ایسا کرتے وقت، اپنی خامیوں اور خوبیوں میں توازن قائم رکھنے کی کوشش میں، ہمیں ایک اور قسم کی حد درازی سے بچنا ہے۔ یہ حد ہے احساس جرم، " میں برا ہوں۔ مجھے مشق کرنی چاہئے اور چونکہ میں مشق نہیں کر رہا لہٰذا میں بہت ہی برا ہوں۔ " ہم جس انداز سے دھرم کی مشق کو سمجھتے ہیں تو یہ جو لفظ " چاہئے " ہے اسے حذف کر دینا چاہئے۔ یہ کبھی بھی " چاہئے " کا معاملہ نہیں ہوتا۔ اگر ہم اپنے موجودہ مسائل سے نجات چاہتے ہیں اور مستقبل میں مزید مسائل سے بچنا چاہتے ہیں تو ایک صحت مند انداز فکر یہ ہو گا، " اگرمیں اپنے مسئلہ کا حل چاہتا ہوں، تو یہ مشق اسے حل کر دے گی۔ " اب ہم یہ مشق کریں یا نہ کریں یہ ہمارے اوپر منحصر ہے۔ کوئی ہمیں یہ نہیں کہ رہا، " تمہیں ایسا کرنا چاہئے اور اگر تم نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم ایک برے انسان ہو۔ "

مگر ہمیں اس کی دوسری انتہا سے بھی بچنا ہے، جو اس قسم کی انتہا پسندی ہے، " ہم سب بے عیب ہیں؛ ذرا اپنی مہاتما بدھ والی فطرت پر تو نظر ڈالو اور دیکھو کہ سب کچھ درست ہے۔ " یہ ایک نہائت خطرناک حددرازی ہے کیونکہ اس سے یہ سوچ جنم لیتی ہے کہ ہمیں اصلاح کی ضرورت نہیں؛ ہمیں اپنے منفی طور طریقے چھوڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہم پہلے ہی کامل بالذات ہیں۔ ہمیں ان دونوں حدد درازیوں سے گریزچاہئے – یعنی یہ محسوس کرنا کہ ہم اچھے ہیں یا ہم بے عیب ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ یہ دھرم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی کلید ہے۔ ہم اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی خاطر اپنے اعمال کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔

الہام

اپنی اصلاح کے دوران ہم روحانی مرشدوں سے اور دوسرے لوگوں سے جو ہمارے ساتھ مشق میں مصروف ہیں بذریعہ الہام مستفید ہو سکتے ہیں۔ تاہم بیشتر لوگوں کے لئے کئی صدیوں قبل مرشدوں کے ہوا میں اڑنے کے قصے مرشدوں کی طرف سے کوئی الہام کا مستحکم ذریعہ نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی باتوں کو ( بذریعہ ذاتی تجربہ ) سمجھنا نہائت مشکل کام ہے اور یہ ہمیں طلسماتی دنیا میں لے جاتی ہیں۔ بہترین مثالیں وہ ہوتی ہیں جن کا ہمیں ذاتی تجربہ ہو، خواہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو۔

مہاتما بدھ یا صحیح معنوں میں قابل اساتذہ ہمیں متاثر کرنے کی کوشش نہیں کر رہے ہوتے، نہ ہی وہ ہمیں الہامی کیفیت بخشنے کی کوشش میں ہوتے ہیں۔ ان کی مثال سورج جیسی ہے۔ سورج لوگوں کو حدت پہنچانے کی کوشش نہیں کرتا؛ جیسی کہ سورج کی ہیئت ہے وہ قدرتی طور پر دوسروں کو گرمی پہنچاتا ہے۔ یہی معاملہ عظیم روحانی مرشدوں کا ہے۔ وہ اپنے زندگی کے انداز فکروعمل، اپنے کردار اور اپنے معاملات سے نمٹنے کے انداز سے ہمیں قدرتی اور فطری طور پر الہام بخشتے ہیں۔ یہ کوئی جادوگری نہیں۔ جو شے سب سے زیادہ الہام بخش ہے وہ ہے سچائی اور خلوص۔

مجھے اس وقت ڈڈجام رنپوچے یاد آرہا ہے۔ اس کا کئی سال قبل انتقال ہو گیا تھا۔ وہ نینگما خاندان کا سربراہ تھا اور میرے استادوں میں سے تھا۔ وہ شدید دمہ کا مریض تھا۔ مجھے بھی دمہ کی شکائت ہے اور میں جانتا ہوں کہ سانس لینے میں دقت کس قدر تکلیف دہ ہے۔ میں جانتا ہوں کہ جب آدمی ٹھیک طرح سے سانس نہ لے سکے تو درس دینا کتنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ آپ کی ساری طاقت اندر کی طرف سانس لینے پر مرکوز ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں آپ کی توانائی کا باہر کی سمت رخ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ پھر بھی میں دیکھتا کہ اس قدر شدید دمہ کے باوجود ڈڈجام رنپوچے اٹھتا اور سٹیج پر جا کر درس دیتا۔ وہ اپنے دمہ سے ذرہ برابر بھی پریشان نہ ہوتا اور حیران کن طریقہ سے اسے قابو میں رکھتے ہوۓ شاندار درس دیتا۔ یہ ناقابل یقین حد تک، نہائت حقیقت پسند انداز سے الہام بخش تھا، بغیر کسی جادوئی کرتب کے۔ یہ زندگی کے حقیقی مسائل سے نمٹنا ہے اور یہ واقعی الہام بخش ہے۔

ہم جوں جوں روحانی راہ پر گامزن ہیں اور ترقی کی منزلیں طے کرتے ہیں تو ہم خود سے بھی الہامی طور پر مستفید ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی الہام کا ایک اہم منبع ہے۔ ہم اپنی ترقی سے ترغیب حاصل کرتے ہیں۔ مگر ہمیں ایسا کرتے وقت نہائت محتاط رہنا چاہئے۔ بیشتر لوگ اس عنصر سے جذباتی طور پر نبردآزما نہیں ہو پاتے ، کیونکہ اگر ہم کچھ کامیابی حاصل کرلیں تو اس میں مغرور ہونے کا رحجان پایا جاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں ترقی ( کامیابی ) کی تعریف سوچ سمجھ کر متعین کرنی چاہئے۔

(دھرم کی) راہ پر ترقی

سب سے پہلے ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ترقی یک سمت نہیں ہوتی؛ یہ کبھی اوپر اور کبھی نیچے، پھر اوپر پھر نیچے ہوتی رہتی ہے۔ یہ سمسار کی ایک بہت بڑی خوبی ہے، اور اس کا تعلق محض اعلیٰ اور ادنیٰ پنر جنموں کے بارے میں بات کرنے سے ہی نہیں۔ اوپر نیچے ہونا روزمرہ زندگی کے حوالے سے بھی ہے۔ ابھی میں خوش ہوں، ابھی ناخوش۔ ہمارے مزاج اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں۔ ابھی میں مائل بہ مشق ہوں، ابھی نہیں ہوں – یہ اتار چڑھاؤ ہر وقت ہوتا رہتا ہے، اس میں حیرانگی کی کوئی بات نہیں۔ درحقیقت یہ سلسلہ اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک کہ ہم ایک ارہت نہ بن جائیں، ایک ایسی مخلوق جسے مکش حاصل ہے، جو سمسار سے آزاد ہے۔ لیکن اس وقت تک، جو کہ خود ایک ناقابل یقین حد تک ترقی یافتہ مقام ہے، سمسار اوپر نیچے ہوتا رہے گا۔ پس ہمیں ایک لمبا عرصہ مشق کرنے کے بعد بھی اگر ہمارے رومانوی تعلق میں اچانک کوئی مشکل پیش آۓ تو ہمیں دل برداشتہ نہیں ہونا چاہئے۔ اچانک ہم اپنے آپ کو جذباتی ہیجان میں مبتلا پاتے ہیں – ایسا ہوتا ہے ! اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم برے مشاق ہیں۔ یہ ہماری سمساری حالت کی حقیقت کے پس منظر میں ایک قدرتی امر ہے۔

دھرم کی مشق میں عموماً معجزے سرزد نہیں ہوتے۔ اگر ہم دھرم کا اطلاق اپنی روزمرہ زندگی پر کرنا چاہتے ہیں تو معجزوں کی توقع نہ کریں، خصوصاً اپنی ترقی میں۔ ہم صحیح معنوں میں ترقی کو کیسے ماپ سکتے ہیں؟ تقدس مآب دلائی لامہ فرماتے ہیں کہ دھرم کی مشق کو ایک دو سال کا معاملہ مت جانو۔ پانچ یا دس سال مشق کرنے کے بعد اس بات کا جائزہ لو، " کیا اب میں پانچ یا دس سال پہلے کی نسبت ایک دھیما انسان ہوں؟ کیا میں اب زیادہ مشکل حالات سے نمٹنے کے قابل ہوں، اور یہ کہ میں ان کی وجہ سے پریشان نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے غلبے تلے آ جاتا ہوں؟ " اگر ایسا ہے تو ہم نے کچھ ترقی کی ہے اور یہ الہام بخش ہے۔ ہمارے مسائل ابھی بھی موجود ہیں مگر اس سے ہمیں آگے بڑھنے کی تقویت ملتی ہے۔ جب حالات ناسازگار ہوں تو ہم ان مشکل حالات میں اسقدر پریشان نہیں ہوتے۔ ہم جلدی سنبھل جاتے ہیں۔

جب ہم اپنے آپ کو منبع الہام ماننے کی بات کرتے ہیں، تو اس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ اس الہام سے ہمیں ( دھرم کی ) راہ پر چلتے رہنے کی قوت ملتی ہے۔ اس کی وجہ ہمارا یہ یقین ہے کہ ہم صحیح سمت جا رہے ہیں۔ اور ہم تبھی اپنے صحیح راہ پر ہونے کا یقین کرتے ہیں جب ہمیں اس بات کا صحیح اندازہ ہو کہ اس سمت جانے کا مطلب کیا ہے – یعنی اس بات کا کہ اس سمت بڑھتے وقت ہم مستقلاً نشیب وفراز کا شکار رہیں گے۔

یہ دھرم کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کے متعلق چند ایک عمومی نظریات ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ فائدہ مند ثابت ہوں گے۔ شکریہ۔