ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت کا تعارف > اخلاقی زندگی کیسے گزاریں

اخلاقی زندگی کیسے گزاریں

تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ
نوٹنگھم، برطانیہ، ۲۴ مئی ۲۰۰۸ء

تحریر، جزوی ترجمہ اور قدرے
تدوین کے ساتھ: الیگزینڈر برزن
اودے رنگ میں تشریحات جملہ معترضہ میں

خود غرضی کی جگہ خدمت خلق پر اخلاقی زندگی کی بنیاد

بدھ مت کا جوہر یہ ہے کہ اگر ہم دوسروں کی مدد کر سکتے ہیں تو ہمیں ضرور کرنی چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو کم از کم انہیں نقصان پہنچانے سے بچنا چاہیے۔ اخلاقی زندگی کا اصلی جوہر یہی ہے۔

ہر عمل کا ایک داعیہ، ایک محرکِ عمل ہوتا ہے۔ اگر ہم کسی کو نقصان پہنچاتے ہیں تو کسی محرکِ عمل سے کرتے ہیں اور اگر دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو اس کا بھی کوئی محرکِ عمل ہوتا ہے۔ اس کے لیےکچھ تصورات درکار ہیں۔ آخر ہم اگر کسی کی مدد کیوں کرتے ہیں اور اگر کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے ہیں تو ایسا کیوں کرتے ہیں؟

مثال کے طور پر جب ہم کسی کو نقصان پہنچاتے ہیں تو ہمیں ایک طرح کی آگہی ہو جاتی ہے اور اس کے ذریعے ہم اس کام کرنے سے رک جاتے ہی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہمیں ایک طرح کا عزم درکار ہے [کہ ہم کسی کو نقصان نہ پہنچائیں]۔ ہمارے ذہن کا ایک گوشہ کسی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے لیکن ذہن کی ایک اور کیفیت کے سبب اس کا ایک دوسرا حصہ یہ کہتا ہے کہ یہ غلط ہے، یہ درست نہیں۔ چونکہ ہم یہ دیکھ لیتے ہیں کہ یہ ٹھیک نہیں ہے لہٰذا ہم اس سے بچنے کی قو تِ ارادی حاصل کر کے اس پر عمل کرنے سے رک جاتے ہیں۔ [بات نقصان پہنچانے کی ہو یا اس تکلیف سے بچ جانے کی،] دونوں صورتوں میں ہمارے اندر ایک آگہی ہونا چاہیے کہ بعض عمل ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے نتائج بہت دور تک پہنچتے ہیں۔ ہم انسان ہیں اور انسان ہونے کے ناتے ہم میں اتنی سمجھ بوجھ ہے کہ ان دور رس اثرات کا اندازہ کر سکیں۔ اور پھر جب ہم انہیں جان لیتے ہیں تو فوری طور پر ہم ان سے گریز کر سکتے ہیں۔

اب یہاں آگے بڑھنے کے دو الگ الگ راستے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ ہم صرف اپنی غرض کو سامنے رکھیں اور پھر اگر مدد کر سکیں تو کردیں اور اگر نہ کر سکیں تو نقصان پہنچانے سے گریز کریں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ دوسروں کا فائدہ سوچیں اور اسی طرح اگر مدد کر سکیں تو کریں، اور اگر نہ کر سکیں [تو نقصان پہنچانے سے] گریز کریں۔ جہاں تک دوسروں کو دکھ نہ دینے کی بات ہے تو اگر ہم یہ سوچ کر اس سے گریز کرتے ہیں کہ "اگر میں نے ایسا کیا تو مجھے اس کے منفی نتائج کا سامنا کرنا ہو گا اور اس کے قانونی نتائج بھی ہو سکتے ہیں" تو ایسا گریز صرف اپنے مفاد کی پاسداری کے لیے ہوگا۔ دوسری طرف اگر کسی کو نقصان پہنچانے سے گریز اس لیے ہو کہ اس میں دوسرے انسانوں کا بھلا ہے تو ہم یوں سوچیں گے کہ "دوسرے لوگ بھی تو میری طرح ہیں، وہ بھی دکھ، تکلیف سے بچنا چاہتے ہیں، پس میں ان کو نقصان پہنچانے سے گریز کروں گا"۔

جب ہم اپی [ذہنی] تربیت کرتے ہیں تو پہلے ہم اپنے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں اور پھر پورے زور سے دوسروں کے بارے میں سوچتے ہیں۔ اگر ہم زور دار انداز میں دوسروں کے بارے میں سوچیں تو یہ زیادہ طاقتور اثر رکھتا ہے۔ پراتیمکش یعنی خانقہی تربیت کی ونایا روایت کے حساب سے دیکھیے تو انفرادی نجات کے لیے ہونے والے عہد و پیمان میں بنیادی طور پر اپنے ذاتی فائدے کے بارے میں سوچا جاتا ہے اور چونکہ کسی کو نقصان پہنچانا ہمارے مفاد کے خلاف ہوتا ہے تو ہم اس سے بچتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارا مقصود مُکش اور نجات ہے۔ اگر بودھی ستوا طریق کار کو نظر میں رکھیے تو دوسروں کو نقصان پہنچانے سے گریز کا اصلی سبب یہ ہے کہ دوسروں کا فائدہ ہمارے پیش نظر ہے۔ یہ جو دوسری بات میں نے عرض کی یعنی دکھ دینےسے بچنا اور ایثار و خدمت خلق کے جذبے کی بنیاد پر دوسرے انسانوں کی مدد کرنا، یہ شاید اسی عالمی ذمہ داری سے تعلق رکھتی ہے جس کا میری گفتگو میں اکثر ذکر رہتا ہے۔

بطور انسان ہماری بنیادی فطرت

عام طور پر انسان سماجی جانور ہوتا ہے۔ ہم کوئی بھی ہوں ہر مردوزن کی بقا اور حفاظت کا دارومدار باقی انسانی معاشرے پر ہی ہوتا ہے۔ چونکہ فرد کی بقا اور بہبود کا دارومدار پورے معاشرے پر ہے لہٰذا دوسروں کےلیے بھلا سوچنا اور ان کی بہتری کی فکر کرنا ہماری بنیادی فطرت سے پھوٹتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم بندروں کو لیں تو نظر آئے گا کہ بڑا بندر سارے غول کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔ جب باقی سب بندر خوراک تلاش کر رہے ہوتے ہیں تو بڑے بندروں میں سے ایک ہمیشہ ایک طرف ہو کر نگرانی کرتا رہتا ہے۔ طاقتور شخص گروہ کے باقی لوگوں کی دیکھ بھال میں مدد کرنے سے سارے سماج کے لیے مدد گار بن جاتا ہے۔

ماقبل تاریخ زمانے میں ہم انسانوں کے پاس نہ تعلیم تھی نہ ٹیکنالوجی۔ بنیادی انسانی معاشرہ سادہ ہوا کرتا تھا۔ سب مل کر کام کرتے تھے اور مل بانٹ کر کھاتے تھے۔ کمیونسٹ کہتے ہیں کہ یہی اصلی اشتراکیت تھی۔ سب کام کریں اور مل کر مزے اٹھائیں۔ پھر رفتہ رفتہ تعلیم عام ہوئی اور تہذیب رونما ہوئی۔ [انسانی] ذہن زیادہ پیچیدہ ہو گیا اور لالچ بڑھتا گیا۔ اس سے حسد اور نفرت نے جنم لیا اور پھر وقت کے ساتھ زور پکڑتی گئی۔

آج اکیسویں صدی میں [انسانی معاشرے دنیا میں کتنی ہی تبدیلیوں کی زد میں ہیں۔ ہمارے درمیان اختلافات بڑھ گئے ہیں] تعلیمی اختلافات، معاشی اور سماجیپس منظر میں ۔ لیکن یہی نہیں عمر اور نسل کا فرق بھی، یہ سب ثانوی ہیں۔ ایک بنیادی سطح پر ہم اب بھی انسان ہی تو ہیں اور ہم سب یکساں ہیں اور اس سطح پر ہم ہزاروں سال سے ایک ہی جیسے چلے آ رہے ہیں۔

چھوٹے بچوں کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ وہ دوسرے بچوں کے سماجی پس منظر، مذہب، نسل، رنگ یا دولت کی پروا نہیں کرتے۔ وہ اکٹھے کھیلتے ہیں۔ اگر ایک دوسرے سے دوستی ہو جائے تو اچھے ہم جولی ہوتے ہیں۔ فرض کیا جاتا ہے کہ ہم بڑے لوگ زیادہ ذہین ہیں اور زیادہ نشوونما حاصل کر چکے ہیں لیکن ہم دوسروں کے سماجی پس منظر کو جانچتے ہیں۔ ہم یہ حساب کرتے ہیں کہ "اگر میں مسکرا کر بات کروں گا تو کیا مجھے وہ مل جائے گا جو میں چاہتا ہوں؟ اگر میں تیوری چڑھا کر بات کروں تو کیا میرا کوئی نقصان ہو جائے گا؟"

عالمی ذمہ داری

عالمی ذمہ داری کا احساس ایک انسانی سطح پر کام کرتا ہے۔ہم دوسرے انسانوں کی فکر کرتے ہیں کیونکہ "ہم ان میں سے ایک ہیں، میری بھلائی کا دارومدار ان پر ہے خواہ ہم میں کتنا ہی باہمی فرق کیوں نہ ہو"۔ اختلافات تو ہمیشہ ہی رہتے ہیں لیکن ان سے مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔

کئی صدیوں تک اس کرۂ ارض کی آبادی ایک ارب تھی۔ اب یہ بڑھ کر چھ ارب سے زیادہ ہو گئی ہے۔ کثر تِ آبادی کی وجہ سے کوئی ملک بھی اپنے لوگوں کو خوراک اور وسائل پوری طرح فراہم نہیں کر سکتا۔ سو ہمارے سامنے اب عالمگیر اقتصادی نظام ہے۔ آج کے حالات میں دنیا چھوٹی بھی ہو گئی ہے اور ایک دوسرے پر انحصار بھی بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ اس پر ماحولیاتی بحران ہمیں پریشان کر رہا ہے۔ ساری دنیا میں درجۂ حرارت بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو کسی ایک یا دو ممالک یا قوم کا مسئلہ نہیں ہے یہ اس دنیا کے چھ ارب باسیوں، سب کا مسئلہ ہے۔ اس نئی حقیقت کا تقاضا ہے کہ اس عالمگیر ذمہ داری کا سبھی کو احساس ہونا چاہیے۔

ایک مثال لیجیے۔ پرانے زمانے میں برطانیہ کے لوگ صرف اپنے بارے میں سوچتے تھے اور پھر دنیا کے دوسرے علاقوں کا استحصال بھی کر گذرتے تھے۔ اس دوسری قوم کے مسائل کیا ہیں اور وہ لوٹ کھسوٹ پر کیا محسوس کرتی ہے، اس کی انہیں پروا نہیں ہوتی تھی۔ چلیے یہ تو قصۂ ماضی ہوا۔ آج حالات بدل گئے ہیں، چیزیں تبدیل ہو گئی ہیں۔ اب ہمیں دوسرے ممالک کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے۔

برطانوی سامراجیت نے اصل میں کچھ اچھے کام بھی کیے تھے۔ انہوں نے ہی انگریزی زبان میں اچھی تعلیم ہندوستان کو فراہم کی۔ ہندوستان کو اس کا بخوبی اعتراف کرنا چاہیے۔ برطانیہ والے ٹیکنالوجی لے کر آئے، ریل گاڑی کا نظام قائم کیا۔ یہ خوبی بھی غنیمت تھی۔ جب میں ہندوستان آیا تو ابھی کچھ گاندھی وادی زندہ تھے اور ان سے میں نے مہاتما گاندھی کے عدم تشدد [اہمسا] کے طریقے معلوم کیے۔ اس وقت مجھے لگتا تھا کہ برطانوی سامراجی ان کے ساتھ بہت برا کرتے رہے ہیں۔ لیکن پھر میری نظر اس جانب ہوئی کہ ہندوستان میں عدلیہ آزاد ہے، صحافت پر پابندی نہیں، آزادئ رائے میسر ہے اور اس طرح کی دیگر چیزیں۔ سو جب میں نے ذرا گہرائی میں جا کر غور کیا تو پتا چلا کہ یہ سب بہت اچھی چیزیں ہیں۔

آج ملک ملک اور ایک خطے سے دوسرے تک باہمی انحصار بہت بڑھ گیا ہے۔ اس حقیقت کے پیش نظر ہمیں عالمگیر ذمہ داری کی واقعی بہت ضرورت ہے۔ آپ کا مفاد دوسروں کی ترقی اور ان کے فائدے پر منحصر ہے۔ سو اگر آپ کو اپنا مفاد عزیز ہے تو دوسروں کا خیال رکھنا ہوگا۔ معاشی میدان میں تو یہ ہو بھی چکا ہے۔ اگر ہماری نظریاتی بنیاد الگ ہو اور چاہے ہم ایک دوسرے پر بھروسا نہ کرتے ہوں تب بھی ایک دوسرے پر دارومدار رکھنے والے اپنے عالمگیر اقتصادی نظام میں ہمیں ایک دوسرے سے لین دین کرنا پڑتا ہے۔ سو دوسروں کے مفاد کے احترام پر مبنی عالمگیر ذمہ داری بہت اہم ہو جاتی ہے۔

ہمیں دوسروں کو اپنے بھائی بہن سمجھنا چاہیے اور ان سے یگانگت کا احساس کرنا چاہیے۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ ہماری واقعی ضرورت ہے۔ یہ کہنا کہ "ہم الگ اور تم الگ "ایک خاص سطح تک تو درست ہے لیکن یہ تصور محدود ہے اور ساری دنیا کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ وہ "ہم" ہی کا ایک حصہ ہے۔ میرے پڑوسی کا فائدہ میرا فائدہ ہے۔

قناعت

ایک فرد کے طور پر اخلاقی زندگی بسر کرنے کا مطلب یہ ہوا کہ آپ دوسروں کو نقصان نہ پہنچائیں بلکہ اگر ممکن ہو [تو ایسا کرنے میں] ان کی مدد کریں۔ اگر دوسروں کا بھلا اور ان کی بہبود کو اپنی اخلاقیات کی بنیاد بنا لیں تو اس سے اخلاقیات کا دائرہ وسیع تر ہو جائے گا۔ ہمارا اپنا طرز حیات بھی ان عوامل کے مطابق ہونا چاہیے۔

امیر اور غریب میں بہت فاصلہ ہے خواہ ریاست متحدہ امریکہ ہی کی بات کیوں نہ ہو۔ امریکہ امیر ترین ملک ہے لیکن یہاں بھی جا بجا پس ماندہ غریب علاقے ہیں۔ ایک مرتبہ میں واشنگٹن ڈی سی گیا جو امیر ترین ملک کا دار الحکومت ہے۔ وہاں بھی غریبوں کے بہت سے علاقے تھے۔ ان لوگوں کو زندگی کی بنیادی ضرورتیں بھی پوری طرح میسر نہیں تھیں۔ [اسی طرح] شمالی صنعتی خطے کہیں زیادہ ترقی یافتہ ہیں اور [دنیا کے دوسرے علاقوں] سے زیادہ دولتمند ہیں جبکہ دوسری طرف دنیا کے نصف جنوبی کے کئی ملکوں میں بھوک اور قحط تک کی نوبت آ گئی ہے۔ یہ صرف اخلاقی طور پر بری چیز نہیں ہے، بلکہ اس سے بہت سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اس لیے کچھ دولت مند ملکوں کو اپنے زندگی گزارنے کے طریقے کا جائزہ لینا چاہیے، اسے بدلنا چاہیے۔ انہیں اپنے اندر قناعت پیدا کرنی چاہیے۔

پندرہ سال پہلے میں نے ایک مرتبہ جاپان میں لوگوں سے کہا کہ آپ نے یہ جو طے کر رکھا ہے کہ ہر سال اقتصادی صورتحال لازماً بہتر ہونا چاہیے اور ہر سال مادی طور پر مزید ترقی حاصل کرنا نا گزیر ہے تو یہ سوچ بہت غلط ہے۔ ایک دن آئے گا کہ آپ اپنی اقتصادی حالت کو محدود ہوتا دیکھیں گے۔ اس کے لیے تیار رہیے کہ جب یہ وقت آن پڑے تو آپ کے ذہن کے لیے تباہی کا سامان نہ بن جائے۔ چند سال بعد واقعی ایسا ہوا اور جاپان کو اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔

بعض لوگوں کے رہنے سہنے کا انداز بہت ہی پر آسائش ہوتا ہے۔ چوری نہیں کرتے، کسی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھاتے، کسی کو دھوکہ نہیں دیتے لیکن پھر بھی ان کے پاس بہت دولت ہے۔ ان کے اپنے مفاد کے نقطۂ نظر سے تو اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے اگر ان کے پیسہ کمانے کے طریقے اخلاقی حدود سے باہر نہ ہوں۔ لیکن اگر دوسروں کا بھلا بھی نظر میں ہو تو اگرچہ ان کے اپنے لیے تو اس میں کوئی بات غلط نہ ہو گی لیکن ، اخلاقی اعتبار سے یہ کوئی اچھی بات نہ ہوگی کہ دوسرے بھوکے مر رہے ہوں اورآپ عیش و عشرت میں رہیں۔ اگر ہر ایک کو یکساں عیش و عشرت کا طرز زندگی مل سکے تو ٹھیک ہے لیکن جب تک سب کےلیے سہولتوں اور آسائش کا ایک سا اہتمام نہ ہو جائے ان لوگوں کو جو بہتر معیار زندگی رکھتے ہیں اپنے اندر قناعت پیدا کرنی چاہیے۔ میں نے جو جاپان میں اور امریکہ میں دیکھا اور دیگر خوشحال تر معاشروں میں دیکھا جاتا ہے اس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے طرزِ زندگی میں کچھ نہ کچھ تبدیلی کرنا ضروری ہے۔

بعض ملکوں میں ایک خاندان کے پاس دو گاڑیاں، بعض اوقات تین گاڑیاں، بھی ہوتی ہیں۔ ذرا چین اور ہندوستان کا سوچیے جن کی آبادی مل کر دو ارب افراد سے بڑھ جاتی ہے۔ اگر دو ارب لوگ دو ارب گاڑیاں خریدنے چل پڑیں تو یہ بہت مشکل ہو جائے گا۔ اس سے بڑے مسائل پیدا ہوں گے اور ایندھن، مادی وسائل، قدرتی وسائل اور بہت سی دیگر پیچیدگیاں جنم لیں گی۔ معاملہ بہت الجھ جائے گا۔

ماحول کی حفاظت

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اخلاقی زندگی اور پہلو ہے جو قدرتی ماحول اور آب وھوا کی حفاظت سے تعلق رکھتا ہے مثلاً پانی کے استعمال کا مسئلہ۔ اس کے لیے مین اپنے طور پر جو کر سکا ہوں وہ شاید آپ کو احمقانہ لگے۔ وہ یہ ہے کہ میں برسوں سے ٹب میں لیٹ کر نہیں نہاتا بلکہ غسل کے لیے پانی کی پھوار استعمال کرتا ہوں۔ ٹب میں نہانے سے پانی کا ضیاع ہوتا ہے۔ شاید یہ بھی ایک سادہ لوحی ہے کیونکہ میں دن میں دو مرتبہ نہاتا ہوں سو پانی تو ایک جتنا ہی استعمال ہو جاتا ہے۔ اسی طرح بجلی کے استعمال کو دیکھیے تو جب بھی میں کمرے سے باہر جاتا ہوں اس میں جلنے والے ساری روشنیاں گل کر دیتا ہوں۔ اس طرح ماحولیات کے لیے میری یہ چھوٹی سی ایک مدد ہے۔ اس عالمگیر ذمہ داری کا اگر احساس رہے تو اس سے ایک نوع کی اخلاقی زندگی بہرحال شروع ہو جاتی ہے۔

خدمتِ خلق: کیونکر؟

یہ سوال کہ دوسروں کی مدد کیونکر کی جائے تو اس کے کئی طریقے ہیں۔ بہت کچھ حالات پر بھی منحصر ہے۔ جب میں سات آٹھ سال کا بچہ تھا تو میرے اتالیق لِنگ رنپوچے مجھے پڑھاتے ہوئے ہمیشہ ایک بید پاس رکھ کر بیٹھتے تھے۔ ان دنوں میں اور مجھ سے بڑے بھائی اکٹھے پڑھتے تھے۔ اصل میں دو بید ہوا کرتے تھے۔ ایک زرد رنگ کا بید تھا، مقدس بید جو صرف مقدس دلائی لامہ کی پٹائی کے لیے تھا۔ اگر مقدس بید بھی استعمال کیا جائے تب بھی میرے خیال میں کوئی درد مقدس نہیں ہو جاتا! یہ تربیت کا ایک سخت گیر طریقہ لگتا ہے، مگر اصل میں اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔

کوئی عمل مفید ہے یا نقصان دہ ہے اس کا فیصلہ تو آخرالامر ہماری محرکِ عمل سے ہوتا ہے۔ دوسروں کے طویل المیعاد بھلے کے لیے ہم پورے خلوص سے جو طریقے برتتے ہیں وہ کبھی نرم ہوتے ہیں کبھی سخت لگتے ہیں۔ کبھی کبھار ذرا سا جھوٹ بھی مدد دے جاتا ہے۔ مثلاً کوئی بہت ہی عزیز دوست یا والدین میں سے کوئی کسی دور دراز ملک میں شدید بیمار ہو یا بستر مرگ پر ہو اور آپ کو اس کا علم ہو لیکن کسی دوسرے کو یہ اس خیال سے نہ بتائیں کہ اگر اسے اپنے اس عزیز کے قریب المرگ ہونے کا پتا چلا تو وہ اتنا گھبرائے گا، اتنا پریشان ہوگا کہ بے ہوش ہو جائے گا۔ سو آپ اتنا کہہ دیتے ہیں کہ "وہ ٹھیک ہیں"۔ اگر آپ کو دوسرے کا سو فیصد خیال ہے کہ اسے پریشانی سے بچایا جائے تو ایسی صورت میں اگر آپ کے اپنےفائدے کو نظر میں رکھیے تو جھوٹ کہنا ایک غیر اخلاقی چیز ہوگی لیکن یہی بات دوسرے کے فائدے کے پیش نظر مناسب ترین کہی جاسکتی ہے۔

تشدد بمقابلہ عدم تشدد

تو پھر دوسروں کی مدد کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے؟ یہ بتانا مشکل ہے۔ اس کےلیے دانائی چاہیے؛ حالات کی بالکل واضح آگہی ہونی چاہیے اور اتنی لچک ہونا چاہیے کہ مختلف حالات میں الگ الگ طریقے برت سکیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہمارا محرکِ عمل کیا ہے۔ اس کام کےلیے ہمیں دوسروں کے بھلے کی سچی فکر ہونا چاہیے۔

مثال کے طور پر کسی طریقہ کار کا دار و مدار کہ یہ پر تشدد ہے یا اہمسا کا طریقہ ہے اس بات پر ہے کہ اس کے پیچھے کیا محرکِ عمل تھا۔ کسی معاملے میں سفید جھوٹ بولنا اپنی جگہ ایک بری بات ہے لیکن اگر اچھے محرکِ عمل اور ارادے سے کیا جائے تو یہی کام دوسروں کی مدد کا ایک طریقہ بن جاتا ہے۔ اس نقطۂ نظر سے یہ طریقہ زور زبردستی کا طریقہ نہیں رہ جاتا۔ دوسری طرف اگر ہم دوسروں کا نقصان کر کے اپنا بھلا کرنا چاہیں اور اس غرض سے ان کو ایک تحفہ دیں تو کہنے کو تو یہ ایک بے ضرر عمل ہوگا لیکن چونکہ ہماری محرکِ عمل ان سے فریب کرنے اور ان کا فائدہ اٹھا نے کی ہے اس لیے آخر میں جا کر یہی کام ایک بری چیز اور تشدد بن جائے گا۔ مطلب یہ ہوا کہ ہمسا ہو یا اہمسا تشدد یا عدم تشدد انحصار محرکِ عمل اور ارادے پر ہے۔ انسان کا ہر عمل محرکِ عمل پر منحصر ہے۔ کسی حد تک اس کا دارومدار، محرکِ عمل اور عمل کے ہدف پر بھی ہوتا ہے۔ اگر ہمارا محرکِ عمل صرف یہ مقصد حاصل کرنا ہو اور اگر غصہ ہمارے ارادے کو حرکت میں لائے تو پھر بات بگڑ جاتی ہے۔ سو آخری بات یہ ہے کہ محرکِ عمل سب سے اہم چیز ہے۔

مذاہب کے مابین ہم آہنگی

آج کی گفتگو کا حاصل آپ کے لیے کیا ہے؟ اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے اندر سکون پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ ہمیں اس کے بارے میں سوچنا چاہیے اور اپنے اندر اسے پروان چڑھانا چاہیے۔ اس کے علاوہ اگر سننے والوں میں آج کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی مذہب کے پیروکار ہیں اور اہل ایمان ہیں تو میرا ہمیشہ یہ کہنا ہوتا ہے کہ بین المذاہب ہم آہنگی پر زور دینا چاہیے۔ میرا خیال ہے کہ ان چھوٹے مذاہب کو چھوڑ کر جن میں چاند سورج کی پوجا ہوتی ہے سبھی بڑے مذاہب میں کسی نہ کسی طرح کا فلسفہ بھی ہے اور الہیات بھی۔ چونکہ ان کا مذہب ایک خاص فلسفے پر بنیاد رکھتا ہے اس لیے اس کی ہزاروں سال کی تاریخ ہے۔ لیکن مختلف فلسفے رکھنے کے باوجود سارے مذہب سب سے اچھا عمل اور بہترین کار خیر محبت اور درمندی کو قرار دیتے ہیں۔

درد مندی کے ساتھ درگذاری، برداشت اور قناعت کا رویہ خود بخود پیدا ہوتا ہے۔ یہ سب مذاہب میں مشترک ہے۔ یہ رویے ان بنیادی انسانی اقدار کو آگے بڑھانے کے لیے بھی اہم ہیں جن کا ہم ذکر کر رہے تھے۔ اس لحاظ سے سارے مذاہب ہمارے مددگار ہوتے ہیں کیونکہ ان سے ہماری خوشی کی بنیاد یعنی اخلاقیات پر مدار رکھ کر زندگی گذارنے کا عمل بڑھتا ہے۔ مزید برآں سبھی مذاہب کا پیغام ایک ہی ہے چونکہ ان سب میں عالم انسانیت کی مدد کرنے کا ایک سا مادہ پایا جاتا ہے۔

مختلف زمانوں میں، الگ الگ مقامات پر مختلف تعلیمات پیش کی گئیں۔ ایسا ہونا ہی تھا۔ زمانے کا، جگہ کا اور مختلف طرز حیات کا فرق اس لیے تھا کہ ہر ایک کا ماحول اور حالات جداگانہ تھے اور اسی کارن مذاہب کے درمیان اختلافات پروان چڑھے۔ زمانے کے لیے کچھ مذہبی افکار موزوں [اختیار کیے گئے] تھے۔ اس لیے ہزار سالہ مذاہب میں ہر ایک کی اپنی روایت ہے۔ ہمیں بھر پور روایتوں کا یہ تنوع درکار ہے۔ یہ سب مختلف قسم کے لوگوں کے کام آتی ہیں۔ ایک ہی مذہب ہر طرح کے لوگوں کے لیے نہ تو موزوں ہوتا ہے نہ ان کے لیے کارآمد رہتا ہے۔

بدھ فلسفی کے زمانے تک ہندوستان میں بدھ مت کے علاوہ کئی اور مذہبی روایتیں پیدا ہو چکی تھیں۔ بدھ فلسفی نے سارے ہندوستان کو بدھ مت کا پیروکار بنانے کی کوشش نہیں کی۔ دوسرے مذاہب بھی ٹھیک تھے۔ کبھی کبھار ان میں آپس میں بحث مباحثہ بھی ہو جاتا تھا۔ خاص طور پر بدھ فلسفی کے بعد کے زمانے میں کئی صدیوں تک بدھ گرو ایک دوسرے سے مباحثے کرتے رہے۔ یہ مباحثے بہت فائدہ مند تھے خاص طور پر علمیات کے میدان میں۔ ہوتا یہ تھا کہ ایک مذہبی روایت کے اہل علم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے مذہب کے فلسفے اور افکار کا ناقدانہ تجزیہ کر دیتا اور اس سے سبھی لوگ اپنے اپنے مذہب کے بارے میں، اپنی مذہبی روایت کے بارے میں سوچنے پر مجبور ہو جاتے اور یوں مباحثہ شروع ہو جاتا۔ قدرتی بات ہے کہ اس طرح سوچ کو ترقی ملتی رہی۔ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ ان مباحثوں، مناظروں میں کچھ لڑائی جھگڑے اور تشدد کا رنگ آگیا۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے لیکن عمومی طور پر یہ ایک صحت مند سرگرمی اور نشوونما تھی۔

اس لحاظ سے ہندوستان سچی مذہبی رواداری کی بہت اچھی مثال ہے جو خود اپنی جگہ ایک صدیوں پرانی روایت بن چکی ہے اور آج بھی ہندوستان میں زندہ اور توانا ہے۔ باقی دنیا کے لیے یہ ایک اچھی قابلِ تقلید مثال ہے۔

پرانے زمانے میں لوگ الگ تھلگ رہتے تھے۔ مگر آج ہمارے حالات مختلف ہیں۔ لندن کی مثال لیجیے، یہ شہر تقریباً سب مذاہب کا ملا جلا معاشرہ بن چکا ہے سو مذہبی رواداری بہت اہم ٹھہری ہے۔ آپ میں سے جو لوگ کسی مذہب پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لیے ہم آہنگی اور رواداری بہت اہم ہے۔ آپ کو جب بھی موقع ملے اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کی کوشش کیا کیجیے۔