ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت کا تعارف > روز مرہ زندگی میں دھرم کا کردار

روز مرہ زندگی میں دھرم کا کردار

الیگزینڈر برزن
موریلیا۔ میکسیکو ۔ ۶ جون، ۲۰۰۰

 

دھرم بطور حفظ ما تقدم

مجھے روز مرہ زندگی میں دھرم کی روش پر چلنے کے بارے میں بات چیت کرنے کو کہا گیا ہے۔ ہمیں یہ جاننا چاہئے کہ دھرم سے کیا مراد ہے۔ دھرم سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے لفظی معنی ہیں " حفظ ما تقدم۔ " یہ وہ کام ہے جو ہم مسائل سے بچنے کے لئے کرتے ہیں۔ دھرم کی مشق میں دلچسپی پیدا کرنے کی خاطر یہ جاننا ضروری ہے کہ زندگی میں مسائل ہوتے ہیں۔ اس کے لئے بہت جرأت کی ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ اپنے آپ کو یا اپنی زندگیوں کو سنجیدہ نظر سے نہیں دیکھتے۔ وہ تمام دن محنت مشقت کرتے ہیں اور شام کو، تھکان دور کرنے کی خاطر، تفنن طبع کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ وہ حقیقتاً اپنے انر جھانک کر اپنے مسائل کو نہیں دیکھتے۔ وہ خواہ اپنے مسائل سے واقف بھی ہوں مگر وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرنا چاہتے کہ ان کی زندگی غیر تسلی بخش ہے، کیونکہ ایسا کرنا بہت دلآزاری کا باعث ہو گا۔ اپنی زندگی کی صورت حال کا جائزہ لینا اور اگر یہ غیر تسلی بخش ہو تو اس امر کا ایمانداری سے اعتراف کرنا ایک جرأت مند اقدام ہے۔

غیر تسلی بخش حالات اور ان کی وجوہات

یقیناً عدم آسودگی کے کئی درجات ہیں۔ ہم یوں کہ سکتے ہیں، " بعض اوقات میں افسردہ خاطر ہوتا ہوں، اور بعض اوقات حالات سازگار ہوتے ہیں، مگر یہ ٹھیک ہے کیونکہ یہی زندگی ہے۔ " اگر ہم اس پر مطمٔن ہیں تو اچھی بات ہے۔ لیکن اگر ہمیں اس بات کی امید ہو کہ ہم حالات کو قدرے بہتر بنا سکتے ہیں تو ہم ایسا کرنے کا طریقہ ڈھونڈتے ہیں۔ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے ہمیں اپنے مسائل کی وجوہات کی شناخت کی ضرورت ہے۔ " مجھے تمہارے ساتھ اپنے تعلقات میں تمہاری وجہ سے مشکل پیش آرہی ہے! تمہارا اسلوب ویسا نہیں جیسا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہو۔ " ہم سیاسی یا معاشی حالات کو اپنے مسائل کے لئے مورد الزام ٹھرا سکتے ہیں۔ بعض نفسیاتی نظریات کے مطابق ہم اپنے مسائل کو بچپن کے بعض آزاردہ واقعات سے منسوب کرتے ہیں۔ اپنی عدم مسرت کا الزام دوسروں پر دینا نہائت آسان کام ہے۔ دوسروں پر یا سماجی اور معاشی حالات پر الزام تراشی مسائل کا کوئی حل پیش نہیں کرتی۔ اگر ہمارا انداز فکر اس قسم کا ہے تو ہم مائل بہ عفو ہو سکتے ہیں اور اس کا کچھ فائدہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن بیشتر لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ محض اتنا کرنے سے ان کے نفسیاتی مسائل اور عدم مسرت کا مداوا نہیں ہو سکا۔

بدھ مت یہ کہتا ہے کہ اگرچہ دیگر لوگ اور معاشرہ وغیرہ ہمارے مسائل میں اضافہ کرتے ہیں مگر وہ ان کی اصلی وجہ نہیں ہوتے۔ مسائل کی اصل وجہ جاننے کے لئے ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ بہر حال اگر ہم زندگی میں مسرت سے عاری ہیں تو یہ ہماری صورت حال کا ردعمل ہے۔ مختلف لوگ یکساں حالات میں مختلف ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر ہم محض اپنے آپ ہی کو دیکھیں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہم اپنے مسائل سے ایک سے دوسرے دن کی نسبت مختلف انداز سے نمٹتے ہیں۔ اگر مسئلے کی وجہ کوئی بیرونی عنصر ہوتا تو ہر دن ہمارا ردعمل ایک جیسا ہوتا، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ ہمارے ردعمل پر کئی عناصر اثرانداز ہوتے ہیں، مثلاً اگر کام پر ہمارا دن اچھا گذرا؛ مگر یہ محض سطحی، غیر حقیقی عناصر ہیں۔ یہ حقیقت کی گہرائی میں نہیں جاتے۔

اگر ہم غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں کہ یہ ہمارا زندگی کی طرف، اپنے آپ کی طرف، اور اپنے حالات کی طرف رویہ ہے جو اس بات کا تعین کرتا ہے کہ ہم کیسا محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم ہر دم اپنے اوپر ترس نہیں کھاتے، جیسے اگر ہمارا دن اچھا گذر رہا ہے۔ لیکن جب ہمارا دن اچھا نہ گذر رہا ہو تو خود ترسی عود آتی ہے۔ زندگی کے متعلق ہماری بنیادی روش اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ہم زندگی کیسے گزارتے ہیں۔ اگر ہم مزید غور کریں تو ہمیں پتہ چلے گا کہ ہماری روش بے یقینی کا شکار ہے۔

بے یقینی بطور مسائل کی جڑ

اگر ہم بے یقینی کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس کا ایک پہلو رویے کے لحاظ سے علّت و معلول سے متعلق ہے۔ ہم اس بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہیں کہ ہم کیا کریں اور کیا کہیں اور پھر اس کا نتیجہ کیا ہو گا۔ ہم اس بارے میں کہ کس قسم کی ملازمت تلاش کریں، شادی کریں یا نہ کریں ، بچے پیدا کریں یا نہ کریں، وغیرہ نہائت عدم تیقّن کا شکار ہیں۔ اگر ہم کسی سے تعلق استوار کرتے ہیں تو اس کا نتیجہ کیا ہو گا؟ ہم نہیں جانتے۔ ہمارے فیصلوں کا کیا نتیجہ نکلے گا یہ محض ہمارے سہانے تصورات ہیں۔ ہم ایسا سوچ سکتے ہیں کہ اگر ہم کسی خاص شخص کے ساتھ گہرے تعلقات پیدا کریں تو ہم کسی پریوں کی کہانی کی مانند ہمیشہ کے لئے خوش باش رہیں گے۔ اگر ہم کسی صورت حال سے پریشان ہیں، ہم سوچتے ہیں کہ چیخنے چلانے سے حالت بہتر ہو جاۓ گی۔ ہمارے فعل کے جواب میں دوسرے شخص کا ردعمل کیا ہو گا اس بارے میں ہم بے حد الجھن میں ہیں۔ ہم یوں سوچتے ہیں کہ اگر ہم چلائیں اور اپنے من کی بات کہ ڈالیں تو ہم بہتر محسوس کریں گے اور سب ٹھیک ہو جاۓ گا، مگر سب ٹھیک نہیں ہو گا۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ کیا ہو گا۔ ہم مایوسی کی حالت میں علم نجوم کی طرف رجوع کرتے ہیں یا ' بک آف چینجز ' دی آئی چنگ کے لئے سکے پھینکتے ہیں۔ ہم ایسا کیوں کرتے ہیں؟ کیونکہ ہم حالات کو اپنے قابو میں رکھنا چاہتے ہیں۔

بدھ مت کا یہ کہنا ہے کہ عدم تیقّن کا ایک گہرا مقام وہ ہے جہاں ہم اس بارے میں الجھن میں مبتلا ہوتے ہیں کہ ہمارا اور دوسروں کا وجود کیسے ہے اور یہ کہ دنیا کیسے اپنا وجود رکھتی ہے۔ ہم اختیار کے معاملہ میں بھی بے یقینی کا شکار ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو کچھ بھی ہوتا ہے اس پر پورا اختیار ممکن ہے۔ اس وجہ سے ہمیں شکست خوردگی کا احساس ہوتا ہے۔ ہر وقت حالات قابو میں ہونا ممکن نہیں۔ یہ حقیقت نہیں۔ حقیقت بہت پیچیدہ ہے۔ جو ہوتا ہے اس میں کئی عناصر کا ہاتھ ہوتا ہے، محض وہی نہیں جو ہم کرتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سب کچھ ہمارے اختیار سے باہر ہے یا یہ کہ صرف خارجی عناصر ہی کار فرما ہوتے ہیں۔ جو کچھ ہوتا ہے اس میں ہمارا ہاتھ بھی ہوتا ہے مگر ہم اکیلے ہر بات کے ذمہ دار نہیں۔

ہماری بے یقینی اور عدم تحفظ کے باعث ہم اکثر تخریبی روش اختیار کرتے ہیں بغیر اس احساس کے کہ یہ رویہ تباہ کن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم پریشان کن جذبات، طرز عمل اور اضطراری محرکات کا شکار ہوتے ہیں جو کہ ہماری عادات سے پیدا ہوتے ہیں۔ نہ صرف ہم دوسروں سے تخریبی انداز میں پیش آتے ہیں بلکہ بنیادی طور پر خود تلف طرز عمل اختیار کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم اپنے لئے مزید مسائل پیدا کر لیتے ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ اپنے مسائل کو کم کریں یا ان سے مکش حاصل کریں، یا اس سے بھی بڑھ کر، اپنے اندر دوسروں کی مسائل سے بچ نکلنے میں مدد کرنے کی صلاحیت پیدا کریں، تو ہمیں اپنی کمزوریوں کے منبع کا اعتراف کرنا ہو گا۔

عدم تیقّن سے چھٹکارا حاصل کرنا

فرض کیجئے کہ ہم مانتے ہیں کہ ہمارے مسائل کا منبع بے یقینی ہے۔ یہ کچھ خاص مشکل بات نہیں۔ بہت سارے لوگ اس مقام تک پہنچ جاتے ہیں جب وہ یہ کہتے ہیں " میں یقیناً مغالطے میں ہوں۔ میری حالت دگر گوں ہے۔ " تو پھر؟ پیشتر اس کے کہ ہم اس کورس پر یا اس عافیت گاہ پر پیسہ خرچ کریں ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا واقعی ہمارے لئے بے یقینی سے نجات حاصل کرنا ممکن ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسا ہونا ممکن نہیں تو پھر ہم کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اگر ہم محض یہ امید لئے جا رہے ہیں کہ بے یقینی سے نجات ممکن ہو سکتی ہے تو یہ کوئی پکی بات نہیں۔ یہ دیوانے کا خواب ہے۔

ہمیں یہ خیال آ سکتا ہے کہ نجات حاصل کرنے کے کئی طریقے ہیں۔ ہم یوں سوچ سکتے ہیں کہ کوئی ہمیں بچا لے گا۔ یہ کوئی الوہی ہستی ہو سکتی ہے، مثلاً خدا۔ تو ہم عیسائِت کے پیروکار بن جاتے ہیں۔ یا پھر ہم کسی روحانی مرشد، شریک حیات یا کوئی اور جو ہمیں بےیقینی سے نجات دلا سکے کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ ایسی صورتوں میں دوسرے شخص کا دست نگر ہوجانا اور ناپختہ طرز عمل اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات ہم کسی ایسے شخص کے جو ہمیں ( بے یقینی سے ) بچا سکے اس شدت سے متلاشی ہوتے ہیں کہ ہم اس بات کی تمیز بھی نہیں کرتے کہ ہم کس کا انتخاب کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے ہم کسی ایسے شخص کا انتخاب کر بیٹھیں جو خود اپنے پریشان کن جذبات اور روش کی وجہ سے ہماری معصومانہ دست نگری سے ناجائز فائدہ اٹھاۓ۔ یہ آگے بڑھنے کا کوئی استقلالی انداز نہیں۔ ہم کسی روحانی مرشد یا کسی رشتہ سے اپنی الجھنوں کو دور کرنے کی توقع نہیں کر سکتے۔ ہمیں اپنی الجھنوں کو خود دور کرنا ہو گا۔

کسی روحانی مرشد یا شریک حیات سے ناطہ جوڑنے سے سازگار حالات پیدا ہو سکتے ہیں مگر صرف اس صورت میں جب یہ رشتہ صحت مند ہو۔ جب ( یہ رشتہ ) غیر صحت مند بنیاد پر استوار ہوتا ہے تو اس سے معاملہ اور بگڑ جاتا ہے۔ اس سے مزید الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ شروع میں ہم یہ سوچ کر کہ ہمارا مرشد کامل ہے، ہمارا شریک حیات بے عیب ہے ( حقیقت سے ) مکمل طور پر منکر ہو سکتے ہیں، مگر آخر کار ہماری سادہ لوحی ڈھلنے لگتی ہے۔ جب ہمیں دوسرے شخص میں خامیاں نظر آنے لگتی ہیں اور یہ احساس کہ یہ شخص ہمیں ہماری تمام الجھنوں سے بچا نہیں سکتا تو ہم گر پڑتے ہیں۔ ہم فریب زدہ محسوس کرتے ہیں۔ ہمارا ایمان اور ہمارا اعتماد لٹ چکا ہے۔ یہ بہت افسوسناک احساس ہے ! یہ عین لازم ہے کہ ہم شروع سے ہی اس سے بچنے کی کوشش کریں۔ ہمیں دھرم یعنی حفاظتی تدابیر کی راہ پر چلنا چاہئے۔ ہمیں سمجھنا چاہئے کہ کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں ہو سکتا۔ ایک روحانی مرشد کیا کر سکتا ہے، اور کیا نہیں کر سکتا؟ ہم تباہی سے بچنے کے لئے حفاظتی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔

ہمیں ایسا انداز فکر تشکیل دینے کی ضرورت ہے جو بے یقینی سے آزاد ہو۔ الجھن کا الٹ، سمجھ بوجھ ، الجھن پیدا ہونے سے روکے گا۔ دھرم کے مطابق ہمارا کام ہے کہ ہم اپنی روش، اپنے پریشان کن جذبات اور اپنے اضطراری، من موجی، اور نیوراتی طرزعمل کے بارے میں گہری سوجھ بوجھ رکھیں اور توجہ سے کام لیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اپنے اندر ایسی چیزوں کو تلاش کرنے کی جرأت پیدا کرنا جو خاص اچھی نہیں، ایسی چیزیں جن سے ہم منکر ہونے کو ترجیح دیں گے۔ جب ہمیں ایسی باتیں نظر آتی ہیں جو ہمارے لئے مسائل کا باعث ہیں، یا مسائل کی علامت ہیں تو ہمیں ان کے الٹ باتوں کو حرکت میں لانا چاہئے تا کہ ان پر قابو پایا جا سکے۔ یہ سب مطالعہ اور مراقبہ پر مبنی ہے۔ ہمیں پریشان کن جذبات اور روشوں کی شناخت کرنا سیکھنا چاہئے اور یہ کہ وہ کہاں سے آتے ہیں۔

مراقبہ

مراقبہ سے مراد مختلف متضاد عناصر کو کسی قابوکے اندر ماحول میں حرکت میں لانے کی مشق ہے تا کہ ہم اس بات سے روشناس ہو سکیں کہ اس بات کا اطلاق کیسے ہوتا ہے اور پھر حقیقی زندگی میں ایسا کر سکیں۔ مثلاً اگر ہم لوگوں سے ہماری مرضی کے مطابق نہ چلنے پر ناراض ہو جاتے ہیں تو مراقبہ میں ہم ایسے حالات و واقعات پر غور کرتے ہیں اور ایک مختلف نقطہ نظر سے ان کا جائزہ لیتے ہیں۔ دوسرا شخص کئی مختلف وجوہات کی بنا پر ہماری مرضی کے خلاف چل رہا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ کسی نفرت کا اظہار کر رہا ہے کیونکہ وہ ( اب ) ہم سے پیار نہیں کرتا۔ مراقبہ کے ذریعہ ہم ایسے رویوں کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ " میرا دوست اب مجھ سے محبت نہیں کرتا کیونکہ اس نے مجھے کال نہیں کیا۔ "

اگر ہم ایسی صورت حال کو ایسے انداز فکر سے جو پرسکون، مائل فہم اور صابر ہے سمجھنے کی مشق کریں تو پھر اگر وہ شخص ہفتہ بھر بھی ہم سے رابطہ نہ کرے تو بھی ہم اتنی ناراضگی کا اظہار نہیں کریں گے۔ جب ہمیں غصہ آنا شروع ہوتا ہے تو ہم سوچتے ہیں کہ شائد وہ شخص بہت مصروف ہے۔ لیکن ہمارا یہ سوچنا خودپسندی ہے کہ ہم اس کی زندگی میں نہائت اہم انسان ہیں۔ اس سے ہمیں اپنے جذبات کو ٹھنڈا رکھنے میں مدد ملتی ہے۔

دھرم ایک کل وقتی کام ہے

دھرم کی مشق کوئی شغل نہیں۔ یہ کوئی ایسا کام نہیں جسے ہم تفنن طبع یا دلجمعی کے لئے کرتے ہیں۔ ہم کسی آشرم میں محض کسی گروہ میں شامل ہونے یا میل ملاپ کے لئے نہیں جاتے۔ اگرچہ وہاں جانا مزے کی بات ہو سکتی ہے مگر یہاں یہ مقصد نہیں۔ مزید یہ کہ ہم کسی آشرم میں کسی نشئی کی طرح نہیں جاتے جو وہاں اپنا نشہ پورا کرنے جاتا ہے – ایک ایسی الوہی لذت جو اسے ایک پر کشش، خوشکن استاد سے ملتی ہے جو ہمیں خوشی دیتا ہے۔ لیکن اگر ہم ایسا کریں تو گھر جانے کے جلدی بعد ہم اداس سے محسوس کرتے ہیں اور پھر ہمیں نشے کی ایک اور گولی کی ضرورت پڑتی ہے۔ دھرم کوئی نشے کی گولی نہیں۔ ( دھرم کے ) استاد نشہ آور دوائیاں نہیں۔ دھرم کی مشق ایک کل وقتی مصروفیت ہے۔ یہاں ہم اپنی زندگی میں ہر چیز کے بارے میں رویہ تبدیل کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم تمام ذی شعور مخلوق کے لئے دل میں محبت پیدا کرنے پر لگے ہوۓ ہیں تو ہمیں ( پہلے ) اپنے خاندان پر اس کا اطلاق کرنا ہو گا۔ بہت سے لوگ اپنے کمرے میں بند مراقبے میں اپنے دل میں محبت پیدا کرنے میں مصروف ہیں مگر وہ اپنے والدین یا اپنے شریک حیات کے ساتھ خوش اسلوبی سے نباہ نہیں کر سکتے۔ یہ افسوس کی بات ہے۔

حد درازی سے اجتناب

دھرم کے اپنی روز مرہ زندگی میں اطلاق میں، گھر پر ہو یا کام پر، ہمیں انتہا پسندی سے بچنا چاہئے۔ انتہا پسندی کی ایک حد دوسروں پر سارے کا سارا الزام دھرنا ہے۔ اس کی دوسری حد تمام الزام اپنے سر لینا ہے۔ کاروبار حیات بہت پیچیدہ ہے۔ دونوں اطراف حصہ لیتے ہیں، دوسرے لوگ بھی شامل ہیں، ہم بھی خطاوار ہیں۔ ہم دوسروں کو ان کا سلوک اور رویہ تبدیل کرنے کی رغبت دلانے کی کوشش کرسکتے ہیں، مگر مجھے یقین ہے ہم سب اپنے ذاتی تجربے سے جانتے ہیں کہ یہ اتنا آسان کام نہیں – خصوصاً ایسی صورت میں جب ہم اپنے آپ کو بہت نیک اور پارسا مانیں اور دوسرے شخص کو گناہ گار گردانیں۔ اپنے آپ کو تبدیل کرنا بہت آسان ہے۔ اگرچہ ہم دوسرون کو مشورہ دے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ قبولیت پر راغب ہوں اور ہمارے مشورے کی وجہ سے مزید جارحیت پر نہ اتر آئیں، تو اصل کام تو ہمارا ہی ہے۔

اپنی اصلاح کے دوران ہمیں حدود سے متجاوز دو اور باتوں سے ہوشیار رہنا چاہئے – اپنے جذبات میں پوری طرح سرشار ہونا، یا ان سے بے خبر ہونا۔ پہلی چیز انتہا کی خودپرستی ہے۔ ہم صرف اسی بات کے بارے میں فکر کرتے ہیں جیسا کہ ہم محسوس کرتے ہیں۔ ہم دوسروں کے احساسات کو نظرانداز کرنے پر مائل ہوتے ہیں۔ ہم سوچنے لگتے ہیں کہ ہمارے جذبات دوسروں کے جذبات کی نسبت کہیں زیادہ اہم ہیں۔ حالانکہ ہو سکتا ہے کہ ہم مکمل طور پر اپنے جذبات سے بے خبر ہوں یا مکمل طور پر بے حس، ایسے جیسے کہ انہیں نوواقوین کا ٹیکہ لگا دیا گیا ہو۔ ایسی انتہاپسندی سے بچنے کے لئے لطیف توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ اتنا آسان کام نہیں۔

اگر ہم ہر وقت اپنے آپ پر ہی نظر رکھیں تو اس سے ایک طرح کی خیالی دوئی پیدا ہوتی ہے – ایک ہم اور دوسرے ہمارے اعمال و احساسات – تو یوں ہم نہ تو کسی سے کوئی تعلق رکھ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی کی رفاقت ۔ اصل فن تو یہ ہے کہ پر خلوص اور فطرتی انداز سے تعلق رکھا جاۓ اور عمل کیا جاۓ جبکہ ہماری کچھ توجہ ہماری ترغیب وغیرہ پر مرکوز ہو۔ تاہم ہمیں ایسا کرنے کی یوں کوشش کرنی چاہئے کہ ہمارے رویہ میں کوئی ایسا رخنہ نہ ہو جس کی وجہ سے ہم دوسرے شخص سے لا تعلق ہوں۔ میں اس طرف بھی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ اگر ہم کسی سے نسبت قائم کرتے وقت اپنی ترغیب اور جذبات کا جائزہ لے رہے ہوں تو دوسرے شخص کو اس بارے میں مطلع کرنا بعض اوقات سود مند ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ سوچنا کہ ہمیں دوسرے شخص کو یہ بتانا ہے انتہا درجہ کی نرگسیت ہو گی۔ اکثر لوگ ہمارے احساسات سے بیگانہ ہوتے ہیں۔ ایسا سوچنا کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں انتہائی خود پسندی ہو گی۔ جب ہمیں یوں محسوس ہو کہ ہمارے رویہ سے خود غرضی کی بو آنے لگی ہے تو ہمیں وہیں اسے روک دینا چاہئے۔ ہمیں اس کا اعلان کرنے کی ضرورت نہیں۔

انتہا پسندی کا ایک اور رخ یہ ہے کہ یا تو ہم مکمل طور پر برے ہیں یا مکمل طور پر اچھے۔ اگر ہم اپنی مشکلات، اپنے مسائل اور اپنے پریشان کن جذبات کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیں تو ہم یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ ہم برے انسان ہیں۔ یہ احساس آسانی سے احساس جرم میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ " مجھے ( دھرم ) پر چلنا چاہئے، اور اگر میں ایسا نہیں کرتا تو میں ایک برا انسان ہوں۔ " یہ دھرم کی راہ پر چلنے کا نہائت نیوراتی طریقہ ہے۔

ہمیں اس کی دوسری حد سے بھی بچنا چاہئے جو کہ ہمارا اپنی خوبیوں کو حد سے زیادہ اہمیت دینا ہے۔ " ہم سب بے عیب ہیں۔ ذرا اپنی مہاتما بدھ والی فطرت کو دیکھو۔ ہر چیز لا جواب ہے۔ " یہ سوچ نہائت خطرناک ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں کسی شے کو بھی ترک کرنے کی ضرورت نہیں، ہمیں اپنی منفی عادات و حرکات کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمیں جس چیز کی ضرورت ہے وہ محض اپنی مہاتما بدھ والی فطرت کو دیکھنا ہے۔ " میں لا جواب ہوں۔ میں کامل ہوں۔ مجھے اپنے منفی رویہ کو نہیں بدلنا۔ " ہمیں توازن قائم رکھنا چاہئے۔ اگر ہم ذرا مایوسی کا شکار ہیں تو ہمیں اپنے آپ کو ہماری مہاتما بدھ والی فطرت کے بارے میں یاد دہانی کروانی چاہئے۔ یا اگر ہمارا دل عیش و عشرت سے بھرا ہوا ہے تو ہمیں اپنے منفی پہلو پر غور کرنا چاہئے۔

ذمہ داری کی قبولیت

بنیادی طور پر ہمیں اپنے متعلق، اپنی ترقی کے متعلق اور اپنے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ یہ کام خود کرنا آسان نہیں۔ ہم روحانی مرشدوں سے یا ہماری روحانی جنتا سے مدد مانگ سکتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو ہم فکر ہیں، جو اپنے مسائل کے لئے دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی بجاۓ اپنی اصلاح پر کام کر رہے ہیں۔ اسی لئے کسی شراکت داری میں یہ لازم ہوتا ہے کہ باہم ایک جیسا رویہ رکھا جاۓ، خصوصاً جب مسائل پیدا ہوں تو دوسرے شخص پر الزام نہ دیا جاۓ۔ اگر دونوں شرکاء ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھرائیں تو اس سے کام نہیں چلے گا۔ اگر دونوں میں سے ایک اپنی اصلاح پر کام کر رہا ہے اور دوسرا محض الزام تراشی میں مصروف ہے تو اس سے بھی کام نہیں چلے گا۔ اگر ہم پہلے سے ہی کسی ایسے رشتے میں بندھے ہوۓ ہیں جس میں دوسرا شخص الزام تراشی کر رہا ہے، مگر ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ اس میں ہمارا کیا حصہ ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم تعلق کو توڑ دیں، لیکن یہ ہے بہت مشکل۔ ہمیں ایسے تعلق میں شہید بننے سے گریز کرنا چاہئے۔ " میں یہ سب برداشت کر رہا ہوں ! یہ مشکل کام ہے۔ " سارا معاملہ نہائت نیوراتی ہو سکتا ہے۔

یابندگی الہام

وہ مدد جو ہمیں کسی روحانی مرشد یا ہم خیال روحانی جنتا سے ملتی ہے اسے بعض اوقات " الہام " کہا جاتا ہے۔ بدھ مت کی تعلیمات ایسا الہام تین جواہر، یا مرشد وں وغیرہ سے حاصل کرنے پر بہت زور دیتی ہیں۔ تبتی زبان کا لفظ " جنلاب " ( بئین - رلابس ) ہے جس کا مطلب عموماً " آشیر باد " لیا جاتا ہے جو کہ ایک غیر مناسب ترجمہ ہے۔ ہمیں الہام کی ضرورت ہے۔ ہمیں کسی قسم کی طاقت کی ضرورت ہے تا کہ ہم آگے کی طرف چلتے رہیں۔

دھرم کا راستہ کوئی آسان راستہ نہیں۔ اس کا مطلب ہے زندگی کے تلخ پہلوؤن سے نمٹنا۔ ہمیں الہام کے استقامت پذیر ذرائع کی ضرورت ہے۔ اگر ہمارے الہام کا منبع ایسے مرشد ہیں جو معجزات کے شاندار قصے اور اس قسم کی باتیں سناتے ہیں – اپنے بارے میں یا بدھ مت کی تاریخ میں دوسروں کے بارے میں - تو یہ الہام کا کوئی زیادہ مستحکم ذریعہ نہیں ہو گا۔ یہ یقیناً بہت ولولہ انگیز ہو سکتا ہے لیکن ہمیں اس بات کا جائزہ لینا چاہئے کہ ہمارے اوپر اس کا کیا اثر ہو رہا ہے۔ اس سے بہت سے لوگوں کو جو معجزوں کے ذریعہ نجات کے خواہشمند ہیں ان کی خیالی صورت گری کو تقویت ملتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ کوئی بہت بڑا جادوگر اپنے جادو کے زور سے ہمیں بچا لے گا یا ہم اچانک اپنے اندر ایسی کرشماتی قوت پیدا کر لیں گے۔ ہمیں ان شاندار قصے کہانیوں کے بارے میں نہائت محتاط رہنا چاہئے۔ وہ ہمارے ایمان کو الہامی قوت بخش سکتے ہیں، وغیرہ وغیرہ، اور یہ فائدہ مند ہو سکتا ہے مگر یہ الہام کی کوئی مستحکم بنیاد نہیں۔ ہمیں ایک مظبوط بنیاد چاہئے۔

اس کی ایک بہترین مثال مہاتما بدھ کی مثال ہے۔ مہاتما بدھ لوگوں کو " الہام " بخشنے یا انہیں متاثر کرنے کے لئے شاندار قصے نہیں سناتے تھے۔ وہ گھوم پھر کر اور لوگوں کو آشیرباد دے کر اور ایسے کام کر کے اپنی بڑائی نہیں جتلاتے پھرتے تھے۔ جو مثال وہ استعمال کرتے تھے، اور جس کا ذکر تمام بدھ متی تعلیمات میں موجود ہے، وہ یہ کہ ایک مہاتما بدھ سورج کی مانند ہے۔ سورج لوگوں کو گرمائی پہنچانے کی کوشش نہیں کرتا۔ یہ قدرتی امر ہے کہ جیسی سورج کی ساخت ہے وہ بے ساختگی سے سب کو گرمی پہنچاتا ہے۔ کوئی نہائت عمدہ کہانی سن کر، یا کسی مجسمہ کا لمس اپنے سر پر محسوس کر کے، یا کوئی سرخ رسی گلے میں ڈالنے کے لئے پا کر ہو سکتا ہے کہ ہمیں سرور ملے، مگر یہ مستحکم چیز نہیں۔ الہام کا مستحکم ذریعہ کسی مرشد کی ذات کی فطرت اور اس کی بے ساختگی ہے - اس کا کردار ہے، دھرم کی راہ پر چلنے سے جیسی اس کی شخصیت کی ساخت ہوئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جس سے الہام ہوتا ہے، نہ کہ کوئی شعبدہ جو وہ شخص ہمارے تفنن طبع کے لئے کرتا ہے۔ اگرچہ یہ کسی شاندار کہانی کی طرح ولولہ انگیز تو نہیں مگر اس سے ہمیں مستحکم الہامی کیفیت محسوس ہو گی۔

جوں جوں ہم آگے بڑھتے ہیں تو ہمیں خود اپنی ترقی سے الہام حاصل ہوتا ہے – معجزاتی قوت پانے سے نہیں بلکہ اس سے جیسے کہ ہمارے کردار میں تبدیلی آتی ہے۔ تعلیمات ہمیشہ اپنے مثبت اقدامات پر خوشی منانے پر زور دیتی ہیں۔ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ ترقی کبھی بھی یک سمت نہیں ہوتی۔ اس میں روز بروز اضافہ نہیں ہوتا۔ سمسار کا ایک پہلو یہ ہے کہ ہمارے مزاج میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے حتیٰ کہ ہم سمسار سے آزاد ہو جائیں جو کہ ایک نہائت ترقی یافتہ مقام ہے۔ ہمیں اس بات کی توقع کرنی چاہئے کہ کبھی ہم خوش ہوں گے اور کبھی ناخوش۔ بعض اوقات ہمارا رویہ مثبت ہو گا اور بعض اوقات ہماری نیوراتی عادات غالب ہوں گی۔ یہ اتار چڑھاؤ جاری رہے گا۔ معجزے عموماً پیش نہیں آیا کرتے۔

آٹھ دنیاوی معاملات سے گریز کے بارے میں تعلیمات اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اگر حالات ہمارے حسب منشا ہوں تو ہمیں غرور نہیں کرنا چاہئے، اور نہ ہی دل برداشتہ ہونا چاہئے اگر حالات سازگار نہ ہوں۔ یہی زندگی ہے۔ ہمیں مستقبل بعید نہ کہ مستقبل قریب میں اس کے اثرات کو دیکھنا چاہئے۔ مثال کے طور پر اگر ہم پانچ سال سے اس کی مشق کر رہے ہیں تو پانچ سال پہلے کے مقابلہ میں کافی ترقی نظر آۓ گی۔ اگرچہ ہم کبھی کبھار غصے میں آ جاتے ہیں، لیکن اگر ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ اب ہم معاملات کو زیادہ پرسکون اور شفاف دل اور من کے ساتھ نمٹا لیتے ہیں تو یہ ہماری کچھ ترقی کی علامت ہے۔ یہ بات الہام بخش ہے۔ یہ ڈرامائی نہیں ( بہت بڑا کارنامہ نہیں ) اگرچہ ہم چاہیں گے کہ یہ ڈرامائی ہو کیونکہ ہم ڈرامائی واقعات سے سرور حاصل کرتے ہیں۔ یہ مستحکم الہام ہے۔

عملی تدبیر سازی

ہمیں سادگی پسند اور حقیقت پسند ہونا چاہئے۔ جب ہم اپنے آپ کو پاک کرنے کی مشق مثلاً وجراستا مشق کرتے ہیں تو اس کے بارے میں یوں سوچنا لازم ہے کہ سنت وجراستا ہمیں پاک نہیں کر رہا۔ یہ کوئی بیرونی طاقت جیسے کوئی مہا سنت نہیں جو ہمیں بچاۓ گا اور پاکیزگی بخشے گا۔ یہ قطعی اس کا طریق کار نہیں۔ وجراستا سے مراد ایک صاف، لطیف من کی فطری پاکیزگی ہے جو کہ پیدائشی طور پر ہی بے یقینی کا شکار نہیں۔ اس بے یقینی کو دور کیا جا سکتا ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے ہم اپنی کوششوں سے احساس جرم، منفی امکانات، وغیرہ سے جان چھڑائیں اور اس طرح اپنے من کے فطری خالص پن کا ادراک کریں۔ اس طرح پاکیزگی کا سلسلہ عمل درآمد ہوتا ہے۔

مزید یہ کہ ان مشقوں کو کرتے ہوۓ اور دھرم کو اپنی روز مرہ زندگی میں شامل کرنے کی کوشش میں ہمیں یہ جاننا اور تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ہم کس منزل پر ہیں۔ یہ نہائت اہم ہے کہ ہم کسی زعم میں مبتلا نہ ہوں، یا ہم جس منزل پر اس وقت ہیں اس سے اپنے آپ کو اوپر محسوس نہ کریں۔

حاصل بحث

ہمیں آہستہ آہستہ آگے قدم بڑھانا چاہئے۔ جب ہم کوئی اعلیٰ درجہ کے اسباق سنیں، تنتری عطا اختیار کا مزہ چکھیں، وغیرہ وغیرہ، تو اگرچہ ماضی کے عظیم دانش وروں نے یہ کہا ہے " جونہی تم کوئی علمی بات سنو، اس پر فوراً عمل شروع کر دو، " پر ہمیں اس بات کا تعین کرنا چاہئے کہ کیا یہ تعلیم ہمارے موجودہ معیار سے بہت اونچی تو نہیں، یا کہ ہم اس کی ابھی سے مشق شروع کر سکتے ہیں۔ اگر یہ بہت ترقی یافتہ ہے تو ہمیں ان اقدامات کی بصیرت حاصل کرنا ہو گی جن کی ہمیں اس تعلیم کو عملی شکل دینے میں ضرورت پڑے گی، اور پھر ہمیں وہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ مختصراً، جیسا کہ میرے ایک استاد گیشے نوانگ دھرگئے نے کہا " اگر ہم خیالی پلاؤ پکائیں تو نتیجہ بھی خیالی ہو گا؛ اگر ہم عملی تدبیر کریں تو نتائج بھی حقیقی شکل میں ہوں گے۔ "