ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت کا تعارف > دوسرے مذاہب کے بارے میں بدھ مت کا نقطہٴ نظر

دوسرے مذاہب کے بارے میں بدھ مت کا نقطہٴ نظر

سنگاپور، ۱۰ اگست ۱۹۸۸ء

نظرِ ثانی شدہ اقتباس:
Berzin, Alexander and Chodron, Thubten.
Glimpse of Reality.
Singapore: Amitabha Buddhist Centre, 1999.

سوال: دوسرے مذاہب کے وجود کو بدھ مت کس نظر سے دیکھتا ہے؟

جواب: چونکہ سب انسانوں کے میلانات اور دلچسپیاں ایک سی نہیں ہوتیں اس لیے بدھ فلسفی نے مختلف لوگوں کو الگ الگ طریقے سے تعلیم دی۔ اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے تقدس مآب دلائی لامہ نے کہا: کیسی کمال کی بات ہے کہ دنیا میں اتنے بہت سے مختلف ادیان پائے جاتے ہیں۔ جیسے ایک ہی غذا کھانا سب لوگوں کو پسند نہیں آ تی ، سو ایک ہی مذہب یا اعتقادات کا ایک ہی مجموعہ ہر شخص کی ضرورت کی تشفی نہیں کر سکتا۔ مزید برآں یہ نہایت درجہ مفید ہے کہ مختلف ادیان کا ایک تنوع انسانوں کو میسر ہو جس میں وہ انتخاب کر سکیں۔ دلائی لامہ اس کا خیر مقدم کرتے ہیں اور اس پر اظہار مسرت کرتے ہیں۔

ہمارے زمانے میں مذہبی مکالمے میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی بنیاد ایک دوسرے کے احترام پر ہے۔ بدھ مت کے پیشوا دوسرے مذاہب کے مذہبی رہنماوٴں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر دلائی لامہ اور پوپ میں اکثر ملاقات رہتی ہے۔ اکتوبر ١٩٨٦ء میں اٹلی کے شہر آسیسی میں پوپ نے ساری دنیا کے مذہبی رہنماوٴں کو ایک بڑے جلسے میں مدعو کیا۔ تقریباً ڈیڑھ سو نمائندے وہاں موجود تھے۔ دلائی لامہ پوپ کے برابر بیٹھے تھے اور ان کو پہلی تقریر کرنے کا اعزاز دیا گیا تھا۔ کانفرنس میں روحانی رہنماوٴں نے ان موضوعات پر گفتگو کی جو سبھی مذاہب میں مشترک ہیں مثلاً اخلاقیات، پیار محبت اور درد مندی۔ مختلف مذہبی رہنماوٴں کو ایک دوسرے کا احترام کرتے دیکھنا، ان کی ہم آہنگی اور باہمی تعاون لوگوں کے لیے بہت حوصلہ بڑھانے والی چیز تھی۔

یہ درست ہے کہ اگر ما بعد الطبیعیات اور الہیات کے مسائل پر بحث کی جائے تو اس میں بہت سے اختلافات سامنے آتے ہیں، ان اختلافات سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ بحث اس لہجے میں کی جائے کہ "میرے ابو تمھارے ابو سے زیادہ طاقتور ہیں۔'' یہ بہت بچگانہ بات ہے۔ دنیا کے سارے مذاہب انسانوں کے حالات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے اور نیکی کی تلقین کر کے لوگوں کو اچھی زندگی گذارنا سکھاتے ہیں۔ سبھی کی تعلیم یہ ہے کھ انسان کو صرف زندگی کے مادی پہلو میں پھنس کر نہیں رہ جانا چاہئے بلکہ کم از کم اتنی کوشش کرنا چاہیے کہ مادی ترقی اور روحانی ترقی کے درمیان ایک توازن قائم رکھا جا سکے۔

کیا ہی اچھا ہو کہ دنیا کے سب مذہب مل جل کر دنیا کی حالت سدھارنے کے لیے کام کریں۔ ہمیں صرف مادی ترقی ہی درکار نہیں، روحانی ترقی بھی ہماری ضرورت ہے۔ اگر ہم صرف مادی ترقی ہی پر زور دیتے چلے گئے تو پھر ہمارا مقصد یہ بن جائے گا کہ ایک ایسا زور دار بم بنا ڈالیں جس سے سب لوگ ہلاک ہو جائیں۔ لیکن اگر ہم ایک روحانیت اور انسانیت کے انداز سے سوچیں تو ہماری سمجھ میں آجاۓ گا کہ سب کچھ تباہ کرنے اور زیادہ ہتھیار بنانے سے کیسا خوف اور کتنے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم صرفروحانیت ہی کی نشوونما کرتے رہیں اور مادی پہلو پر مراقبہ نہ دیں تو لوگ بھوک کا شکار ہونے لگتے ہیں اور یہ بھی اچھی چیز نہیں ہے۔ دونوں کے درمیان توازن قائم رکھا چاہیے۔

دنیا کے مختلف مذاہب کے آپس میں باہمی عمل کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے ہاں کی خاص خاص چیزوں میں دوسروں کو شریک کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر عیسائیوں اور بدھ مت والوں کو دیکھیے۔ کتنے ہی عیسائی درویش بدھ مت سے ارتکاز اور مراقبہ کرنے کے طریقے سیکھنے میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ بہت سے کیتھولک پادری، راہبوں کے نگران اور راہب اور راہبائیں ہندوستان جا کر دھرم شالہ میں یہ گر، یہ ہنر سیکھتے ہیں تاکہ واپس جا کر ان کو اپنی مذہبی روایت میں متعارف کروائیں۔ بدھ مت کے کئی اہل علم کیتھولک خانقاہوں میں پڑھاتے ہیں۔ مجھے بھی کبھی کبھی ان اداروں میں بلایا جاتا ہے جہاں میں ان کو مراقبہ کرنا سکھاتا ہوں، توجہ مرکوز کرنے اور مراقبہ جمانے اور دوسروں کے لیے اپنے اندر پیار کرنے کے طریقے بتاتا ہوں ۔ عیسائیت یہ تعلیم تو دیتی ہے کہ ہر ایک سے پیار کرو لیکن تفصیل سے یہ نہیں بتاتی کہ یہ کیسے کیا جائے۔ بدھ مت میں اس جذبہٴ محبت کو بیدار کرنے کے بہت سے طریقے ہیں۔ مسیحیت کی اونچی سطح پر بدھ مت سے یہ طریقے سیکھنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سارے عیسائی بدھ مت کے پیروکار ہو جائیں گے، یہاں کوئی کسی کا دین تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ یہ طریقے تو ان کے اپنے مذہب کے اندر قبول کر لیے جاتے ہیں تاکہ ان کو استعمال کر کے وہ بہتر عیسائی بن سکتے ہیں۔

اسی طرح بہت سے بودھ عیسائیت سے خدمت خلق کا سبق لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ مسیحی روایت کی کئ شاخیں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ ان کے راہب اور راہبائیں تعلیم و تدریس میں حصہ لیں، ہسپتالوں میں خدمت کریں، بوڑھوں کی، یتیموں کی دیکھ بھال کریں اور ایسی ہی سرگرمیوں میں شامل رہیں۔ بعض بودھ ممالک نے اگرچہ خدمت خلق کا یہ نظام اپنا لیا ہے لیکن مختلف جغرافیائی اور سماجی اسباب کی بنا پر سب جگہوں پر ایسا نہیں ہو سکا۔ بدھ مت والے مسیحیوں سے خدمت خلق کا سبق لے سکتے ہیں۔ تقدس مآب دلائی لامہ اس ضمن میں بہت کشادہ دل ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدھ مت کے پیرو کار عیسائی ہوتے جا رہے ہیں۔ بلکہ مسیحی تجربے کے کچھ پہلو ایسے ہیں جن سے بدھ مت والے سیکھ سکتے ہیں۔ ایسے ہی جیسے بدھ مت والوں کے ہاں ایسی چیزیں ہیں جو مسیحیوں کو سیکھنا چاہیں۔ اس طرح دنیا کے مذاہب ایک کھلی جگہ ہیں، ایک مجلس عام ہیں، جہاں ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے دوسروں سے سیکھا جا سکتا ہے۔

مذاہب کے مابین گفتگو اور تبادلہٴ افکار عموماً ان کی بالا ترین سطح پر واقع ہوتا ہے جہاں لوگوں میں کشادہ دلی اور آمادگی ہوتی ہے اور تعصبات کم ہوتے ہیں۔ نچلے طبقات کے لوگوں میں اپنے آپ کو غیر محفوظ جان کر ایک فٹ بال ٹیم والا رویہ پیدا ہو جاتا ہے: "یہ ہماری فٹ بال ٹیم ہے اور دوسرے مذاہب ہماری حریف فٹ بال ٹیم ہیں۔'' اس طرح کے رویے سے ہم مقابلے اور لڑائی پر اتر آتے ہیں۔ یہ بہت افسوسناک بات ہے خواہ مختلف مذاہب میں واقع ہو یا بدھ مت کی مختلف روایتوں کے درمیان جنم لے۔ بدھ فلسفی نے بہت سے الگ الگ طریقے بتائے ہیں اور یہ سب طریقے ایک ہم آہنگی سے کام کرتے ہوئے مختلف لوگوں کا ایک بڑا منظر نامہ تخلیق کرتے ہیں۔ اس لیے بدھ مت میں بھی اور دوسرے مذاہب میں بھی سب روایتوں کا احترام کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے۔