ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت کا تعارف > کرم اور پُنر جنم پر بنیادی سوالات

کرم اور پُنر جنم پر بنیادی سوالات

الیکزانڈربرزن
سنگاپور، ۱۰ اگست ۱۹۸۸ء

ترمیم شدہ اقتباس از:
Berzin, Alexander and Chodron, Thubten.
Glimpse of Reality.
Singapore: Amitabha Buddhist Centre, 1999.

سوال: کیا کرموں کا نظریہ تجربہ اور مشاہدہ پر مبنی اور سائنسی ہے یا کیا اسے محض ایمان کی بنیاد پر قبول کیا جاتا ہے؟

جواب: کرموں کا نظریہ کئی حساب سے معقول ہے لیکن یہ ہے کیا، اس بارہ میں خاصی غلط فہمی ہے۔ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد مقدر یا قسمت ہے۔ اگر کسی کا گاڑی کا حادثہ ہو جائے یا کاروبار میں خسارہ ہو جائے تو وہ کہتے ہیں "بد نصیبی سے یہ اس کا کرم تھا"۔ یہ کرموں کا بودھی نظریہ نہیں ہے بلکہ یہ 'خدا کی مرضی' کا خیال ہے ایسا امر جسے نہ تو ہم سمجھتے ہیں اور نہ ہی اس پر کوئی قدرت رکھتے ہیں۔

بدھ مت میں کرموں سے مراد اضطرابی رجحانات ہیں۔ ہمارے کردہ اعمال کے نتیجہ میں ہم میں مخصوص حرکتوں کے لیے یہ رجحانات ابھرتے ہیں۔ کرموں سے مراد وہ رجحانات ہیں جو کہ مثلاً کسی کے ذہن میں ابھرتے ہیں کہ وہ اسٹاک منڈی میں کوئی حصص خرید لے ان کی قیمت میں اچانک کمی یا اضافہ سے پہلے۔ یا پھر کسی کے ذہن میں رجحان پیدا ہوتا ہے کہ وہ سڑک عبور کرے عین اس وقت جب اس کی کسی گاڑی سے ٹکر ہونی ہو، نہ اس سے پانچ منٹ پہلے اور نہ بعد۔ ان رجحانات کا عین اس وقت ابھرنا اس شخص کے کسی گزشتہ عمل یا اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔ مثلاً ممکن ہے کہ ایک گزشتہ زندگی میں اس شخص نے کسی کو ایذا دی ہو یا قتل کیا ہو۔ ایسے تباہ کن رویوں کے نتیجہ میں اس شخص کی عمر کم ہو جاتی لیکن عموماً کسی اور زندگی میں۔ نتیجتاً عین اس وقت سڑک عبور کرنے کا رجحان ابھرتا ہے جب کہ گاڑی سے ٹکر ہونی ہو۔

ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص میں کسی دوسرے پر غصہ ہونے یا اسے تکلیف دینے کا رجحان ابھرے۔ یہ رجحان عموماً ان عادتوں کی بنا پر ہوتا ہے جو کہ گزشتہ رویوں سے بنتی ہیں۔ ڈانٹنے یا تکلیف دینے سے اس قسم کے رویہ کا ایک امکان، میلان اور پھر عادت بن جاتی ہے اور پس مستقبل میں ہم اسے دہراتے ہیں۔ غصہ سے چیخنے سے اور بھی زیادہ غصہ کا رجحان میلان اور عادت بنتے ہیں کہ دوبارہ اور بھی غصہ کیا جائے۔

سگرٹ نوشی ایک اور مثال ہے۔ ایک سگرٹ پینے سے ایک اور سگرٹ پینے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ اور اس سے سگرٹ نوشی کا میلان اور عادت بھی بنتے ہیں۔ نتیجتاً جب حالات مائل ہوتے ہیں یا تو اسی جنم میں جب کوئی ہمیں سگرٹ پیش کرتا ہے یا کسی اگلے جنم میں جب ہم چھوٹی عمر میں لوگوں کو سگرٹ نوشی کرتے دیکھتے ہیں تو ہمارے اندر سگرٹ نوشی کا رجحان پیدا ہوتا ہے اور ہم اسے شروع کر دیتے ہیں۔ کرم اس امر کی شرح کرتا ہے کہ اس رجحان کا باعث کیا تھا۔

سوال: کیا کسی کا بدھ مت کا فہم اور اس کی جانب آمادگی بھی کرموں کے باعث مقدر ہو سکتے ہیں؟

جواب: کسی چیز کے مقدر ہونے اور اس کے قابلِ شرح ہونے میں بڑا فرق ہے۔ ہم اپنی بدھ مت کی جانب آمادگی اور اس کے فہم کی کرموں کے ذریعہ وضاحت کر سکتے ہیں۔ یعنی گزشتہ جنموں میں ہمارے مطالعہ اور مشق کے باعث ہم اس جنم میں اس کو قبول کرنے پر آمادہ ہیں۔ اگر ماضی میں ہمیں اس کی اچھی سمجھ تھی تو پھر طبعی طور پر ہم اس زندگی میں بھی اس کا اچھا فہم رکھیں گے۔ اور اگر پچھلی زندگی میں ہم الجھن میں مبتلا تھے تو وہ الجھن اس زندگی میں بھی در آئے گی۔

تاہم بدھ مت کے مطابق چیزیں مقدر نہیں ہوتیں اور تقدیر اور قسمت کوئی چیز نہیں۔ جب کرموں کی شرح بطور رجحانات کی جاتی ہے تو رجحان وہ چیزیں ہیں کہ جن پر عمل کرنے یا نہ کرنے میں ہم مختار ہیں۔ موجودہ اور گزشتہ زندگی میں ہمارے اعمال کی بنا پر ہم یہ پیشگوئی کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں کیا ممکن ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ مثبت اعمال کے خوش آئیند نتائج ملتے ہیںاور مہلک اعمال کے غیر مطلوب نتائج۔ لیکن ایک مخصوص کرمی عمل کی پختگی بہت سے عوامل پر منحصر ہے اور بہت سی چیزیں اس پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔ اس کی ایک تمثیل یہ ہو سکتی ہے کہ اگر ہم ایک گیند کو ہوا میں اچھالیں تو ہم یہ پیشگوئی کر سکتے ہیں کہ وہ ضرور نیچے آئے گی۔ اسی طرح سے گزشتہ اعمال کی بنیاد پر ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ مستقبل میں کیا پیش آئے گا۔ لیکن اگر ہم اس گیند کو ہوا میں ہی پکڑ لیں تو وہ واپس نہیں آئے گی۔ اسی طرح سے جب ہم گزشتہ اعمال کی بنا پر مستقبل کے بارہ میں پیشگوئی کرتے ہیں تو یہ کوئی پتھر میں لکیر نہیں ہوتی جس کا ہونا لازم ہو۔ کرم کی اس پختگی پر دوسرے میلان، اعمال اور حالات اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

جب ہمارے ذہن میں کسی کام کا رجحان پیدا ہوتا ہے تو ہمارے پاس قوت انتخاب ہوتی ہی۔ ہم چھوٹے بچوں کی طرح نہیں کہ ہم اپنے رجحانات پر قابو نہ پا سکیں۔ بالآخر ہماری بنیادی تربیت ہوئی ہے اور ہم اپنے رجحانات پر فوراً عمل نہیں کرتے۔ یہی حال کسی ایسے رجحان کا ہے جو ہمیں ایسی بات کہنے پر ابھارتا ہے کہ جس سے کسی کی دل آزاری ہو یا کسی پر ظلم ہو۔ جب کوئی ایسا میل یا رجحان ہمارے ذہن میں پیدا ہوتا ہے تو ہم یہ انتخاب کر سکتے ہیں کہ آیا میں یہ کام کروں یا نہ کروں۔ چیزوں کے بارہ میں سوچنے اور مثبت اور منفی اعمال میں فرق کرنے کی یہ قابلیت ہی انسانوں کو حیوانوں سے ممتاز کرتی ہے اور انسان ہونے کا یہ ایک بہت بڑا فائدہ ہے۔

پس ہم اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے کہ رجحانات کہاں سے ابھر رہے ہیں، اپنے اعمال کو انجام دینے یا نہ دینے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ بودھی تربیت کا ایک بڑا حصہ اسی ذہنی دھیان کی نشوونما ہے۔ جب ہم دھیمے ہو جاتے ہیں تو پھر ہم اس چیز سے آگاہ ہو جاتے ہیں کہ ہم کیا کہنے یا کرنے جا رہے ہیں۔ تنفس پر مراقبہ کہ جس میں ہم سانس کے دخل اور اخراج پر نگاہ کرتے ہیں، ہمیں وہ جگہ مہیا کرتا ہے کہ جس میں ہم رجحانات کو ابھرتے دیکھ سکیں۔ ہم یہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ "مجھ میں یہ رجحان پیدا ہو رہا ہے کہ میں کچھ کہوں کہ جس سے کسی کی دل آزاری ہو، اگر میں یہ بات کہ دوں تو اس سے مشکلات پیدا ہوں گی اس لیے بہتر ہے کہ میں یہ بات نہ کروں۔" ہمیں انتخاب کی طاقت حاصل ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم یہ ذہنی دھیان نہ کریں تو ہمارے اندر خیالات و رجحانات کا ایسا سیلاب ہوتا ہے کہ ہمیں عاقلانہ انتخاب کا موقع ہی نہیں ملتا اور ہم محض رجحانات پر عمل کرتے ہیں جس سے ہماری زندگیوں میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔

پس ہم یہ نہیں کہ سکتے کہ ہر چیز جیسا کہ ہماری دھرم کے لیے آمادگی، پہلے سے مقدر ہے۔ ہم اس کی عمومی پیشگوئی کر سکتے ہیں لیکن ہمارے پاس تبدیلی کے لیے وسیع مواقع موجود ہیں۔

سوال: کیا دوسرے مذاہب کے معتقد لوگوں کو بھی کرموں کا تجربہ ہوتا ہے؟

جواب: جی ہاں، کرموں کو تجربہ کرنے کے لیے ان پر یقین رکھنا ضروری نہیں۔ اگر ہمارا پاوں کسی چیز سے ٹکرا جائے تو ہمیں درد ہو گی چاہے ہم علت و معلول پر یقین رکھتے ہوں یا نہ۔ اگر ہم یہ یقین رکھیں کہ کوئی زہر ایک دلپذیر مشروب ہے تو پھر بھی اس کے پینے سے ہم بیمار ہو جائیں گے۔اسی طرح اگر ہم ایک مخصوص طرح کے عمل کریں تو ان کا نتیجہ لازماً ہمارے سامنے آئے گا چاہے ہم علت و معلول پر ایمان رکھیںیا نہ۔

سوال: کیا میں کسی ایسے شخص کا تسلسل ہوں جو کہ پہلے زندگی گزار چکا ہے؟ کیا پنر جنم کا بودھی نظریہ ما بعد الطبیعیاتی ہے یا سائنسی؟ آپ نے کہا تھا کہ بدھ مت عاقلانہ اور سائنسی ہے، کیا یہ پنر جنم کے بارہ میں بھی درست ہے؟

جواب: یہاں پر چند مختلف نکات ہیں۔ پہلا یہ کہ ہم کسی چیز کو سائنسی طور پر کیسے ثابت کرتے ہیں؟ اس سے یہ سوال نکلتا ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو معتبر طور پر کیسے جانتے ہیں؟ بودھی تعلیمات کے مطابق اس کے دو طریقہ ہیں: صاف ادراک اور استدلال۔ کسی تجربہ گاہ میں تجربہ کر کے ہم کسی چیز کے وجود کا صاف ادراک کر سکتے ہیں، ہم اسے اپنے حواس کے ذریعہ جان سکتے ہیں۔ لیکن کچھ چیزیں صاف ادراک سے نہیں جانی جا سکتیں اور نتیجتاً ہمیں منطق، عقل اور استدلال پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ پنر جنم کو صاف حسی ادراک سے ثابت کرنا بہت مشکل ہے۔ اگرچہ ھندوستان میں ایک قدیم بودھی استاد کی کہانی موجود ہے جس نے ایک بادشاہ پر پنر جنم ثابت کرنے کے لیے وفات پائی، دوسرا جنم لیا اور پھر کہا کہ "لو میں یہاں موجود ہوں"۔ اسی طرح بہت سے لوگوں کی مثالیں موجود ہیں جو کہ اپنی گزشتہ زندگیاں یاد رکھتے ہیں اور جو یا تو اپنی ذاتی ملکیت اور یا پھر ان لوگوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں کہ جنہیں وہ جانتے تھے۔

لیکن ان کہانیوں کو چھوڑتے ہوئے پنر جنم کی منطق بھی موجود ہے۔ عزت مآب دلائی لامہ نے فرمایا ہے کہ اگر کچھ نکات حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے تو وہ انہیں بدھ مت سے نکالنے کو تیار ہیں۔ اس کا اطلاق پنر جنم پر بھی ہوتا ہے۔ در حقیقت انہوں نے یہ اسی سیاق و سباق میں فرمایا تھا۔ اگر سائنسدان یہ ثابت کر دیتے ہیں کہ پنر جنم نہیںہوتا تو پھر ہم پر لازم ہے کہ ہم اس کی صداقت پر ایمان نہ رکھیں۔ تاہم اگر سائنسدان اسے باطل ثابت نہیں کر سکتے، تو پھر کیونکہ وہ ایک منطقی اور سائنسی روش پر چلتے ہیں جو کہ نئی چیزوں کو سمجھنے کا در کھلا رکھتی ہے اس لیے انہیں چاہیے کہ وہ اس امر کی تحقیق کریں کہ کیا اس کا واقعی وجود ہے۔ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ پنر جنم کا وجود نہیں، انہیں اس کے عدم وجود کو پانا پڑے گا۔ محض یہ کہنے سے کہ "پنر جنم کا وجود نہیں ہے کیونکہ میں اسے اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا" اس کا عدم وجود ثابت نہیں ہوتا۔ ایسی بہت سی چیزیں وجود رکھتی ہیں کہ جنہیں ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے۔

اگر سائنسدان پنر جنم کا عدم وجود ثابت نہیں کر سکتے تو پھر انہیں چاہیے کہ وہ اس امر کی تحقیق کریں کہ کیا پنر جنم کا واقعی وجود ہے۔ سائنسی طریقہ یہ ہے کہ کچھ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ایک منطقی قیاس کیا جائے اور پھر اس کا تجربہ کر کے دیکھا جائے کہ کیا وہ درست ہے۔ پس ہم حقائق کو دیکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بچے خالی کیسٹوں کی مانند نہیں پیدا ہوتے بلکہ بہت اوائل عمری میں بھی ان کی کچھ مخصوص عادات اور شخصی خصوصیات واضح ہوتی ہیں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ کہاں سے آتی ہیں۔

یہ کہنا نامعقول ہے کہ یہ محض والدین کے مادی مواد کا تسلسل ہیں یا پھر یہ کہ یہ نطفہ اور تخم سے آتی ہیں۔ ہر نطفہ اور تخم کہ جن کا ملاپ ہوتا ہے، رحم میں نصب ہو کر جنین نہیں بنتے۔ ان کے بچہ بننے اور نہ بننے میں فرق کہاں سے آتا ہے؟ ایک بچہ کی عادات اور جبلت کہاں سے آتی ہیں؟ ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ ڈی ان اے اور مورثہ سے آتے ہیں۔ یہ ان کا مادی پہلو ہے۔ کوئی اس بات کا انکار نہیں کر سکتا کہ ایک بچہ کی تخلیق کا یہ مادی پہلو ہے، لیکن تجربی پہلو کہاں ہے؟ ذہن کہاں سے آتا ہے؟

ذہن کے لیے انگریزی لفظ کا عین وہ مطلب نہیں جو کہ ان تبتی اور سنسکرت اصطلاحات کا ہے جن کا یہ ترجمہ کرتا ہے۔ ان زبانوں میں ذہن سے مراد ذہنی فعالیت اور ذہنی حوادث ہیں نہ کہ کوئی چیز جو کہ انہیں سر انجام دیتی ہے۔ یہ فعالیت یا حادثہ مخصوص چیزوں کا ادراکی ابھار ہے مثلاً خیالات، مناظر، آوازیں، جذبات وغیرہ اور ان کے ساتھ ایک ادراکی وابستگی یعنی کہ انہیں دیکھنا، سننا، سمجھنا یا نہ سمجھنا۔ ذہن کی ان دو امتیازی خصوصیتوں کا ترجمہ عموماً بطور "شفافیت" اور "آگاہی" کیا جاتا ہے لیکن یہ انگریزی الفاظ بھی گمراہ کن ہیں۔

تو پھر ایک شخص میں یہ ابھرنے اور ادراکی اہداف سے تعلق کی ذہنی فعالیت کہاں سے آتی ہے؟ یہاں ہم یہ نہیں کہ رہے کہ جسم کہاں سے آتا ہے کیونکہ وہ تو ظاہر ہے والدین سے آتا ہے۔ اور نہ ہی ہم عقلمندی وغیرہ کی بات کر رہے ہیں کیونکہ اس کے بارہ میں بھی کہا جا سکتا ہے کے اس کی جینیاتی بنیاد ہے۔ تاہم یہ کہنا کہ کسی شخص کا مثلاً چاکلیٹ کے لیے میل اور آمادگی اس کے والدین کے مورثہ سے ہے، خاصا بعید از قیاس ہے۔

ہم یہ کہ سکتے ہیں کہ ہمارے کچھ شوق ہمارے خاندان کے زیر اثر پیدا ہوتے ہیں یا پھر ان معاشی اور معاشرتی حالات کے کہ جن کے تحت ہم رہ رہے ہوتے ہیں۔ یہ عوامل ضرور اثر کرتے ہیں تاہم ہر چیز کو ان عوامل کا اثر نہیں گردانا جا سکتا۔ مثلاً میرے بچپن میں مجھے یوگا کا شوق کیوں ہوا؟ میرے خاندان یا میرے ارد گرد معاشرہ میں کسی کو یہ شوق نہیں تھا۔ میرے علاقہ میں اس موضوع پر کچھ کتابیں ضرور مہیا تھیں لہذا آپ کہ سکتے ہیں کہ معاشرہ کا کچھ اثر تھا، لیکن مجھے ہاتھا یوگا کی مخصوص کتاب میں کیوں دلچسپی ہوئی اور میں نے اسے کیوں اٹھایا؟ یہ ایک اور سوال ہے۔

لیکن ان سب چیزوں سے قطع نظر ہم اہم سوال کی جانب لوٹتے ہیں یعنی ادراکی اہداف کے ابھرنے کی ذہنی فعالیت اور ان سے ادراکی وابستگی کہاں سے آتی ہے؟ ادراک کی صلاحیت کہاں سے آتی ہے؟ زندگی کا شرارہ کہاں سے جلتا ہے؟ایک نطفہ اور تخم کے اختلاط میں زندگی کہاں سے پیدا ہوتی ہے؟ اس کو کیا چیز انسان بناتی ہے؟ خیالات اور مناظر کے ابھرنے کی صلاحیت کون دیتا ہے اور ان کے ساتھ ادراکی وابستگی کی جو کہ دماغ کی کیمیائی اور برقی نشاط کا تجربیپہلو ہے۔

یہ کہنا مشکل ہے کہ ایک نو زائیدہ بچہ کی ذہنی نشاط اس کے والدین سے آتی ہے کیونکہ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کیسے آتی ہے؟ اس کا کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے۔ کیا زندگی کا شرارہ کہ جس کی خصوصیت اشیا سے آگہی ہے، والدین سے آتا ہے اور اسی طرح سے جس طرح نطفہ اور تخم آتے ہیں؟ کیا یہ جماع کی مستی کے وقت آتا ہے یا تخم ریزی کے ساتھ؟ اگر ہم اس چیز کی کوئی منطقی اور سائنسی نشاندہی نہیں کر سکتے کہ یہ والدین سے کب آتا ہے تو پھر ہمیں کوئی اور حل ڈھونڈنا چاہیے۔

محض منطقی نقطہ نظر سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ فعلی مظاہر اپنے ہی تسلسل سے واقع ہوتے ہیں، اپنی ہی نوعیت کے مظاہر کے گزشتہ لمحات سے۔ مثلاً ایک طبعی مظہر چاہے وہ مادہ ہو یا توانائی، اسی مادہ یا توانائی کے گزشتہ لمحات سے آتا ہے۔ یہ ایک تسلسل ہے۔

غصہ کی مثال لیجیے۔ ایک پہلو سے تو جب ہم غصہ ہوتے ہیں تو ہم ایک مادی توانائی کا احساس کر سکتے ہیں۔ لیکن غصہ محسوس کرنے کی ذہنی نشاط پر غور کریں یعنی اس جذبہ کے ابھرنے اور اس کی شعوری یا غیر شعوری آگاہی پر۔ ایک شخص کا غصہ ہونے کا تجربہ اس کی زندگی کے گزشتہ لمحات سے وابستہ ہے لیکن اس سے قبل وہ کہاں سے آیا؟ یا تو یہ اس کے والدین سے آیا اور اس کی آمد کی شرح کا کوئی طریق کار نہیں اور یا پھر یہ ایک تخلیق کنندہ خدا سے آیا۔ تاہم کچھ لوگوں کے لیے اس امر کی شرح کہ ایک قادر مطلق خدا کس طرح تخلیق کرتا ہے، منطقی طور پر غیر موافق ہے۔ ان مشکلات سے گریز کرنے کے لیے متبادل نظریہ یہ ہے کہ کسی بھی شخص کی زندگی میں غصہ کا پہلا لمحہ اپنے تسلسل کے گزشتہ لمحہ سے آیا۔پنر جنم کا نظریہ یہی کہتا ہے۔

ہم پنر جنم کو ایک فلم کی تمثیل سے سمجھنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ جیسا کہ ایک فلم متعدد فلمی فریموں کا تسلسل ہے، ہمارے ذہنی تسلسل یا ذہنی روشیں بھی ایک زندگی میں یا ایک سے دوسری زندگی میں مظاہر کی آگہی کے ہر لحظہ بدلتے ہوئے لمحات کا تسلسل ہیں۔ یہ کوئی جامد، قابل دریافت وجود مثلاً "میں" یا "میرا ذہن" نہیں جو کہ دوبارہ پیدا ہو۔ پنر جنم ایک ایسے مجسمہ کی تمثیل نہیں جو کہ ایک برقی پٹی پر بیٹھا ایک زندگی سے دوسری میں جا رہا ہو۔ بلکہ یہ ایک فلم کی طرح ہے یعنی ایک چیز جو کہ مسلسل بدل رہی ہے۔ ہر فریم پچھلے سے مختلف ہے لیکن اسی کا تسلسل ہے یعنی ہر فریم اگلے سے وابستہ ہے۔ اسی طرح مظاہر سے آگہی کے لمحات کا ایک مسلسل بدلتا ہوا تسلسل ہے اگرچہ ان میں سے کچھ لمحات غیر شعوری ہیں۔ مزید از آن، جس طرح تمام فلمیں ایک ہی فلم نہیں اگرچہ وہ سب فلمیں ہی ہیں، اسی طرح سب ذہنی تسلسل یا "ذہن" ایک ہی ذہن نہیں بلکہ مظاہر سے آگاہی کے تسلسل کی لاتعداد انفرادی روشیں ہیں۔

یہ وہ دلائل ہیں کہ جن سے ہم ایک منطقی اور سائنسی نقطہ نظر سے تفتیش کر سکتے ہیں۔ اگر ایک نظریہ منطقی طور پر درست لگے تو پھر ہم اس بات کو سنجیدہ طور پر لے سکتے ہیں کہ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں اپنی گزشتہ زندگیاں یاد ہیں۔ اس طرح سے ہم پنر جنم کے وجود کی ایک سائنسی نقطہ نظر سے تحقیق کر سکتے ہیں۔

سوال: بدھ مت کہتا ہے کہ کوئی روح یا نفس نہیں ہے۔ تو پھر وہ کیا چیز ہے جو کہ دوسرا جنم لیتی ہے؟

جواب: ایک بار پھر، پنر جنم کی مثال ایک روح کی مانند نہیں یعنی ایک مجسمہ جو کہ ایک برقی پٹی پر بیٹھا ایک زندگی سے دوسری میں جا رہا ہو۔ برقی پٹی وقت کی نمائندگی کرتی ہے اور اس سے جو تصور پیدا ہوتا ہے وہ ایک جامد چیز کا ہے یعنی ایک ٹھوس شخصیت یا روح جس کا نام "میں" ہے زندگی کے سفر میں: "اب میں جوان ہوں، اب میں بوڑھا ہوں، اب میں اِس زندگی میں ہوں، اب میں اُس زندگی میں ہوں"۔ یہ پنر جنم کا بودھی نظریہ نہیں ہے۔ بلکہ اس کی ایک بہتر تمثیل ایک فلم کی ہے جس میں تسلسل ہوتا ہے جس کے فریم ایک تسلسل بناتے ہیں۔

اور نہ ہی بدھ مت یہ کہتا ہے میں تم بن جاوٗں گا یا یہ کہ ہم سب ایک ہیں۔ اگر ہم سب ایک ہوتے اور میں تم ہوتا تو بھر اگر ہم دونوں بھوکے ہوں تو تم گاڑی میں بیٹھو اور میں کھانا کھاتا ہوں۔ یہ ایسا نہیں ہے۔ہم دونوں کی اپنی، اپنی انفرادی تسلسل کی روشیں ہیں۔ میری فلم کا تسلسل تمہاری فلم میں تبدیل نہیں ہو گا بلکہ ہماری زندگیاں اس پہلو سے فلموں کی مانند ہیں کہ وہ ثابت اور جامد نہیں ہیں۔ زندگی ایک فریم سے دوسرے میں جاتی ہے، اس کی کرموں کے تحت ایک ترکیب ہے اور اس سے ایک تسلسل بنتا ہے۔

سوال: مختلف رجحانات کو ذہن میں کیسے ذخیرہ کیا جاتا ہے اور وہ کیسے ابھرتے ہیں؟

جواب: یہ خاصا پیچیدہ امر ہے۔ جب ہم ایک مخصوص فعل انجام دیتے ہیں، مثلاً جب ہم سگرٹ پیتے ہیں تو کیونکہ اس میں توانائی کا استمعال ہوتا ہے تو یہ فعل ایک اور سگرٹ پینے کا امکان یا طاقت بن جاتا ہے۔ توانائی کی ایک مجموعی قسم ہے جو کہ فعل کے اختتام کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن توانائی کی ایک لطیف قسم بھی ہے جو کہ اس فعل کے دوبارہ کرنے کی مخفی توانائی ہے۔ سگرٹ پینے کے امکان کی مخفی توانائی اس لطیف ترین توانائی میں شامل ہو جاتی ہے جو کہ لطیف ترین ذہن کے ہمراہ ہوتی ہے جو کہ ایک جنم سے دوسرے میں جاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں لطیف ترین ذہن سے مراد شفافیت اور آگاہی کی نشاط کی لطیف ترین سطح ہے جبکہ لطیف ترین توانائی سے مراد وہ بہت ہی لطیف زندگی کا سہارا توانائی ہے جو کہ اس نشاط کوسہارا دیتی ہے۔ باہم، یہ دونوں اس چیز کو تشکیل دیتی ہیں کہ جسے ہم 'زندگی کا شرارہ' کہتے ہیں۔ یہ دونوں ایک جنم سے دوسرے میں جاتی ہیں اور کرمی امکانات زندگی کے شرارہ کے ہمراہ جاتے ہیں۔

عادات و اطوار بھی ہمراہ جاتے ہیں لیکن وہ کوئی مادی چیز نہیں ہوتے۔ ایک عادت کس چیز کا نام ہے؟ مثلاً ہم میں چائے پینے کی عادت ہے، ہم نے آج صبح چائے پی تھی اور گزشتہ روز بھی اور اس سے قبل بھی۔ یہ عادت ایک مادی چائے کی پیالی کا نام نہیں ہے، یہ ہمارا ذہن نہیں جو کہہ رہا ہو "چائے پیو" بلکہ یہ ایک مشابہ واقعات کا تسلسل ہے یعنی بار بار چائے پینا۔ اس تسلسل کی بنیاد پر ہم یہ کہ سکتے ہیں یا 'الزام دھر' سکتے ہیں کہ ایک چائے پینے کی عادت موجود ہے۔ ہم اس تسلسل کا نام چائے پینے کی عادت رکھتے ہیں۔ ایک عادت محض ایک مادی چیز نہیں ہوتی بلکہ ایک تجریدی چیز ہوتی ہے جسے کہ مشابہ واقعات کے تسلسل کی بنا پر عادت کا نام دیا جاتا ہے۔ اس پر بنا کر کے ہم پیشگوئی کر سکتے ہیں کہ یہ امر دوبارہ مستقبل میں بھی واقع ہو گا۔

اسی طرح جب ہم کہتے ہیں کہ عادات و اطوار و جبلت مستقبل میں جاری رہتے ہیں تو یہ کوئی مادی چیز نہیں ہوتی جو کہ جاری ہو لیکن ایک ذہنی تسلسل کے لمحات کی بنا پر ہم کہتے ہیں اس وقت اور اُس وقت یہ واقع ہوا تھا لہذا مستقبل میں بھی ہو دوبارہ ہو گا۔

سوال: اگر زندگی میں شعور کا انتقال ہوتا ہے تو پھر کیا کوئی ابتدا ہے؟

جواب: بدھ مت سکھاتا ہے کہ کوئی ابتدا نہیں ہے۔ ابتدا ایک غیر منطقی چیز ہے۔مادہ، توانائی اور انفرادی ذہنوں کا تسلسل بغیر ابتدا کے ہے۔ اگر ان کی ابتدا ہوتی تو پھر یہ ابتدا کہاں سے آئی تھی؟ اور اس سے قبل کیا تھا؟

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں ابتدا کی ضرورت ہے، لہذا خدا نے ہر چیز کو پیدا کیا۔وہ ایک خالق خدا کے ہونے کا دعوی کرتے ہیں جس کو مختلف مذاہب مختلف نام دیتے ہیں۔ اس پر ایک بودھی یہ سوال کرے گا کہ پھر خدا کہاں سے آیا؟ کیا اس کی بھی ابتدا ہے؟ اس کا جواب یا تو یہ ہو گا کہ خدا کی ابتدا نہیں جس پر بودھی شخص یہ کہے گا کہ آپ بھی 'عدم ابتدا' پر یقین رکھتے ہیں، اور یا پھر جواب یہ ہو گا کہ خدا کو بھی کسی نے بنایا تو اس سے ان کے اپنے عقائد کی نفی ہو جائے گی۔

ایک ملحد (منکرِ خدا) کہتا ہے "کوئی خدا نہیں ہے، ہر چیز عدم وجود سے پیدا ہوئی، کائنات کا ارتقا بھی عدم سے ہوا، ہمارے ذہنی تسلسل بھی عدم سے آتے ہیں۔" تو ہم اس سے سوال کریں گے کہ عدم کہاں سے آیا؟ تو وہ کہے گا کہ "عدم ہمیشہ سے موجود تھا، ہمیشہ ہی عدم وجود تھا، عدم کی کوئی ابتدا نہیں۔" تو ہم کہیں گے کہ آپ بھی عدم ابتدا کی بات کرتے ہیں۔ چاہے جواب کچھ بھی ہو، بالآخر ہم عدم ابتدا پر پہنچتے ہیں۔

اگر عدم ابتدا وہ واحد منطقی نتیجہ ہے کہ جس تک ہم پہنچ سکتے ہیں تو پھر ہمیں اس امر کی تحقیق کرنی چاہیے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی فعال چیز عدم سے جاری ہوئی ہو؟ کیا کوئی چیز عدم سے آ سکتی ہے؟ یہ مُہمل بات ہے، چیزوں کی علت ضروری ہے۔ تو پھر کیا دوسرے جواب یعنی کسی قادر خالق کا ہونا زیادہ عاقلانہ ہے؟ ہمیں اس دعوی پر مزید غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً اگر ایک قادرِ مطلق وجود یا محض ایک مادی "بِگ بینگ" نے ہر چیز کو تخلیق کیا تو پھر کیا تخلیق ایک مخصوص وقت پر کسی ترغیب، ہدف یا حالات کے تحت ہوئی؟ اگر ہوئی تو پھر وہ چیز کہ کس کے تحت تخلیق ہوئی ہر تخلیق شدہ چیز سے پہلے ہی موجود تھی اور یہ ایک غیر منطقی بات ہے۔ اگر خالق دردمند بھی ہے اور بغیر ابتدا کے بھی تو پھر اس نے دردمندی کو کیسے پیدا کیا؟ کیونکہ اس صورت میں تو دردمندی ہمیشہ سے موجود تھی۔

تیسرا متبادل یہ ہے کہ یہ سوچا جائے کہ کیا چیزیں بغیر ابتدا کے جاری ہیں؟ یہ ایک زیادہ سائنسی طریقہ ہے جو اس اصول کے بھی موافق ہے کہ مادہ کو نہ تو تخلیق اور نہ تباہ کیا جا سکتا ہے، وہ محض اپنی صورت بدل لیتا ہے۔ یہی حال انفرادی ذہنی تسلسوں کا بھی ہے۔ ان کی کوئی ابتدا نہیں اور ہر چیز منحصر طور پر بدلتی ہے علتوں اور حالات کے سبب۔

سوال: مہاتما بدھ نے اپنے پیروکاروں کو تعلیم دی کہ وہ خدا نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر بدھ مت میں دعا کا کیا کردار ہے؟

جواب: دعا کے متعلق اہم نکتہ یہ سوال ہے کہ کیا یہ کسی اور کے لیے ممکن ہے کہ وہ ہمارے دکھ اور مشکلات دور کر دے؟ مہاتما بدھ نے فرمایا کہ کوئی ہماری تمام مشکلات نہیں دور کر سکتا جیسا کہ وہ ایک خرگوش کو اس کے کانوں سے پکڑ کے ایک مشکل صورتحال سے نکال دے۔ یہ ناممکن ہے۔ ہمیں جو کچھ درپیش ہوتا ہے اس کی ذمہ داری ہمیں خود لینی پڑتی ہے۔ پس اگر ہم خوشی کے اسباب پیدا کرنا اور مشکلات کے اسباب دور کرنا چاہیں تو ہمیں خالص اخلاقیات کی پیروی کرنی چاہیے۔اگر ہم اپنی زندگیوں میں بہتری لانا چاہتے ہیں تو یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے رویوں اور اطوار کو بدلیں تاکہ اس کا اثر مستقبل میں ہونے والے واقعات پر ہو۔

بدھ مت میں جب ہم دعا مانگتے ہیں تو ہم یہ درخواست نہیں کرتے کہ "اے بدھ، مجھے ایک مرسیڈیز کار لے دیں"۔ آسمان پر کوئی ہمیں یہ نہیں دے گا۔ بلکہ دعا مانگنے سے ہم کسی چیز کے ہونے کی ایک شدید خواہش کی ساخت کر رہے ہوتے ہیں۔ ہمارے اطوار اور ہمارے افعال اس چیز کو حقیقت میں لاتے ہیں لیکن مہاتما بدھ اور بودھی ستوا ہمیں متحرک کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھار "متحرک کرنے یا پُرجوش کرنے" کی اصطلاح کا ترجمہ بطور "برکت دینے" کے کیا جاتا ہے لیکن یہ ایک خاصا غلط ترجمہ ہے۔ مہاتما بدھ اور بودھی ستوا ہمیں متحرک کر سکتے ہیں اپنی مثالوں سے۔ وہ ہمیں راہ کی تعلیم دے سکتے ہیں یا اس کی نشاندہی کر سکتے ہیں لیکن ہمیں اس پر خود چلنا پڑھتا ہے۔ جیسا کہ ضرب المثل ہے کہ 'آپ ایک گھوڑے کو پانی تک لے جا ضرور سکتے ہیں لیکن اس کی خاطر پانی پی نہیں سکتے' یہ گھوڑے کو خود کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح ہمیں راہ پر خود چلنے کی ضرورت ہے اور اپنی مشکلات کو دور کرنے کی آگاہی خود حاصل کرنے کی۔ ہم یہ ذمہ داری کسی بیرونی قادرِ مطلق وجود پر یہ سوچتے ہوئے نہیں ڈال سکتے کہ "تم قادرِ مطلق ہو، میرے لیے یہ کام تم کرو، میں اپنے آپ کو تم میں ضم کرتا ہوں۔" بلکہ ہم بدھ مت میں بدھوں کی طرف نگاہ کرتے ہیں کہ وہ اپنی مثال سے ہم میں تحریک پیدا کریں۔ وہ اس تحریک اور اپنی مثالوں کے ذریعہ ہماری مدد اور رہبری کرتے ہیں۔ تاہم ہمیں اپنے آپ میں بھی ان کی تحریک کو وصول کرنے کے لیے امکان پیدا کرنا پرتا ہے۔ بنیادی کام ہمیں خود کرنا ہوتا ہے۔

بدھ مت کے متعلق اکثر غلط فہمیاں بودھی اصطلاحات و نظریات کے انگریزی اور دوسری زبانوں میں غلط ترجموں سے پیدا ہوئی ہیں۔ مثلاً، اکثر ترجمہ کی اصطلاحات کو، کہ جن کی مدد سے بودھی متون کا انگریزیترجمہ کیا جاتا ہے، گزشتہ صدی میں یا اس سے بھی قبل، بودھی ڈکشنرییوں کے مدونین نے وضع کیا تھا۔ ان ابتدائی علما کی اکثریت کا پس منظر (عیسائی) تبلیغی یا وکٹورین تھا اور انہوں نے وہ ذخیرہ الفاظ چنے جو کہ ان کے اپنے پس منظر سے میل کھاتے تھے۔ تاہم ان میں سے بہت سے الفاظ بودھی مفہوم کی درست ترسیل نہیں کرتے۔جب ہم یہ الفاظ پڑھتے ہیں تو ان کا عیسائی یا وکٹورین مفہوم ہمارے ذہن میں آتا ہے جو کہ یہ درست نہیں۔

ان الفاظ کی مثال 'برکت'، 'گناہ'، 'نیک'، 'گناہگار' وغیرہ ہیں۔ عیسائیت میں ان الفاظ سے ایما کسی قسم کا اخلاقی فیصلہ اور اس کی بنیاد پر ثواب یا سزا کا ہے۔ تاہم بودھی نظریہ ہرگز ایسا نہیں ہے۔اگرچہ یہ "برکت" کے لفظ سے مشابہ ہے لیکن یہ الفاظ مختلف ثقافتی پس منظر سے آئے ہیں۔ پس بدھ مت کے مطالعہ میں یہ امر بہت اہم ہے کہ گزشتہ مترجمین کے چنیدہ الفاظ کی ثقافتی تہ کو ہر ممکن حد تک صاف کیا جاوے۔وہ لوگ بودھی تعلیمات کے مضمون کے عظیم پیش قدم تھے اور ہمیں ان کی عالی شان کوششوں کا شکر گزار ہونا چاہیے۔ لیکن اب ہمیں متون کی اصل زبانوں کی جانب واپس لوٹنا چاہیے اور بودھی نظریات کو ان زبانوں کی تشریح کے مطابق سمجھ کر ان معنوں کی مناسبت سے انگریزی الفاظ و اصطلاحات میں ڈھالنا چاہیے۔

سوال: ڈارون کے نظریہ ارتقا کے متعلق بدھ مت کیا کہتا ہے؟

جواب: ڈارون کا نظریہ ان ممکنہ اجسام کی ارتقا کے بارہ میں ہے کہ جن میں ذہنی تسلسل، زمین کی تاریخ کے کئی ادوار میں پنر جنم لے سکتے ہیں۔ اس کا موضوع ان اجسام کا ارتقا نہیں کہ جنہیںایک انفرادی ذہنی تسلسل متاخر زندگیوں میں لے گا۔ اس سیارہ پر مادی جسمانی اشکال اور ان میں پنر جنم لینے والے ذہنی تسلسلوں کے دوام میں بہت فرق ہے۔

بودھی متون میں ارتقا کی کچھ وضاحتیں شاید ہمیں عجیب لگیں۔ وہ ان وجودوں کی بات کرتے ہیں جو کہ ماضی میں ہم سے بہتر حالت میں تھے اور پھر انہیں زوال آ گیا۔ اس کی صحت کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر چیز کی جو کہ مہاتما بدھ اور ان کے پیروکاروں نے سکھائی، سائنس سے تصدیق نہیں کی جا سکتی، اور عزت مآب دلائی لامہ ان چیزوں کو کہ جن کی تصدیق نہیں ہو سکتی، ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ ہو سکتا ہے کہ استادوں نے بظاہر عجیب وضاحتیں خاص مقاصد کے تحت دیں اور نہ کہ اس لیے کہ انہیں لفظی طور پر لیا جائے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ یہ مختلف معاشرتی اور نفسیاتی حقائق کی نشاندہی کرتی ہوں۔

تاہم ارتقا کے اپنے سیاق و سباق میں، ایک زمانہ میں ڈائنوسار موجود تھے اور اب وہ ناپید ہیں۔ اب زمین پر کسی ہستی کے بطور ڈائنوسار پنر جنم کے کرم یا رجحان باقی نہیں رہے۔ اب ذہنی روشوں کے بطور جسم اختیار کرنے کے لیے اور دوسری مادی اساسیں موجود ہیں۔ پنر جنم کے لیے مہیا مادی اساسوں کا وقت کے ساتھ بدلنا بودھی وضاحتوں کے خلاف نہیں ہے۔

سائنسدانوں کے ساتھ ایک نشست میں عزت مآب دلائی لامہ سے پوچھا گیا تھا کہ کیا کمپیوٹر کبھی ذی حس مخلوق بن سکیں گے۔انہوں نے اس کا بہت دلچسپ جواب دیا۔ انہوں نے فرمایا کہ اگر کمپیوٹر یا روبوٹ کبھی نفاست کی اس سطح پر پہنچ جائیں کہ وہ ایک ذہنی روش کی بنیاد بن سکیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ایک ذہنی روش ایک خالصاً غیر نامیاتی مشین کے ساتھ اتصال کر کے اسے اپنی ایک زندگی کی مادی بنیاد بنا لے۔ یہ تو ڈارون سے بھی آگے کی بات ہے!

اس کا یہ مطلب نہیں کہ کمپیوٹر ایک ذہن ہے۔ نہ ہی یہ کہ ہم مصنوعی طور پر کمپیوٹر میں ایک ذہن بنا سکتے ہیں۔ تاہم، اگر ایک کمپیوٹر اتنا نفیس ہو جائے تو ایک ذہنی روش اس کے ساتھ اتصال کر کے اسے اپنی مادی بنیاد بنا سکتی ہے۔

ایسے دور رس خیالات کی وجہسے جدید دور کے لوگ بدھ مت کے بارہ میں پُرجوش ہوتے ہیں اور اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بودھی بہادر لوگ ہیں اور سائنسدانوں کے ساتھ ان گفتگوؤں کا حوصلہ رکھتے ہیں اور جدید دور کے مشہور مسائل کے سامنے کا۔ بدھ مت کے پاس قدیم دانشنہ صرف مہاتما بدھ سے جاری شدہ ایک غیر شکستہ تسلسل میںموجود ہے بلکہ وہ ایک زندہ مذہب ہے اور حال اور مستقبل کے مسائل کا بھی سامنا کرتا ہے۔

سوال: جب ایک شخص بدھ بن جاتا ہے تو اس کی ذہنی روش کا کیا بنتا ہے؟

جواب: اس سوال کا جواب دینے سے قبل ضروری ہے کہ میں وضاحت کر دوں کہ مہاتما بدھ نے بہت سے لوگوں کو تعلیم دی۔ ہر شخص ایک جیسا نہیں ہوتا۔ہم سب کی دسترس اور استعداد مختلف ہے۔مہاتما بدھ اس بارہ میں بہت مہارت رکھتے تھے اور آپ نے مختلف تعلیمات دیں تاکہ ہر شخص اپنے فہم اور دسترس کے مطابق مناسب نقطہ نظر اختیار کر سکے۔ پس بدھ مت کی اہم روایات سادہ ذہن لوگوں کے لیے ہینیان، اور وسیع ذہن کے لوگوں کے لیے مہایان ہیں۔ ہینیان کے قدیم زمانہ کے اٹھارہ مکاتب فکر میں سے آج صرف ایک یعنی تھرواد باقی ہے۔اگر کسی ایک شخص کو جو کہ اپنی امنگوں اور خواہشات میں سادہ ہو، مہاتما بدھ یہ کہتے کہ ہر ایک کی ذہنی روش ہمیشہ باقی رہتی ہے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی حوصلہ شکنی ہوتی۔ کچھ لوگ اپنی مشکلات سے مغلوب ہوتے ہیں۔ پس انہیں مہاتما بدھ نے کہا "اپنی مشکلات سے نکلو، مُکش حاصل کرو یعنی ارہت بنو اور نروان پاو۔ جب تم مرو گے تو تمہیں پرنروان مل جائے گا۔ اس وقت تمہاری ذہنی روش ختم ہو جائے گی جیسا کہ موم ختم ہونے پر موم بتی بھج جاتی ہے۔" ایسے شخص کے لیے یہ وضاحت بہت حوصلہ افزا ہے کیونکہ وہ مسلسل مشکلات اور پنر جنموں کے دور سے نکلنے کا خواہشمند ہے، اس قسم کے شخص کے لیے یہ بہت مؤثر ہے۔ تاہم اس بات کو ملحوظ نظر رکھیے کہ مہاتما بدھ نے یہ نہیں فرمایا کہ بالآخر سب ذہنی روشیں مل جاتی ہیں جیسا کہ سب دریا سمندر میں ضم ہو جاتے ہیں۔ یہ وضاحت ہندو مت کی ہے۔

ایک وسیع الذہن شخص کو مہاتما بدھ کہیں گے: "گزشتہ مثال تو میں نے سادہ لوگوں کے فائدہ کے لیے دی ہے۔ تاہم میری وضاحت حرف بہ حرف میرا مدعا نہیںتھا کیونکہ در حقیقت ذہنی روش ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ اپنی مشکلات پر قابو اور نروان پانے کے بعد تمہارے ذہن کی خاصیت بدل جاتی ہے۔ تمہارا ذہن پہلے کی طرح پریشان حالت میں جاری نہیں رہتا۔" پس ان وسیع الذہن لوگوں کے لیے کہ جن کا مقصد روشن ضمیری حاصل کرنا ہے، مہاتما بدھ نے وضاحت کی کہ ذہنی روش ہمیشہ جاری رہتی ہے یعنی بغیر ابتدا اور انتہا کے۔جب روشن ضمیر لوگ اپنے موجودہ اجسام چھوڑ دیتے ہیں تو ان کی ذہنی روشیں قائم و دائم رہتی ہیں۔

ارہتوں، یعنی مکش حاصل کردہ لوگوں میں کہ جنہوں نے نروان پا لیا ہو اور بدھوں میں، جو کہ کاملاً روشن ضمیر ہیں، فرق ہے۔ جب کہ ارہت اپنی مشکلات، مصیبتوں اور ان کے اسباب سے فارغ ہوتے ہیں، بدھوں نے اپنی تمام حدود کو عبور کر لیا ہوتا ہے اور دوسروں کی مؤثر ترین مدد کرنے کے اپنے امکان پورے کر لیے ہوتے ہیں۔

سوال: کیا نروان کی حالت دائمی ہے؟ جب ہم روشن ضمیری حاصل کر لیں تو ہم ایک متانت کی حالت میں ہو جاتے ہیں جو کہ نہ تو خوشی ہے اور نہ غمی۔ کیا یہ بیزارکُن نہیں؟

جواب: ہمیں "دائمی" کی اصطلاح استمعال کرنے میں محتاط ہونا چاہیے۔ بعض اوقات اس کا مفہوم ہوتا ہے ثابت ہونا اور کبھی نہ بدلنا۔ اس کا دوسرا مطلب ہمیشہ قائم رہنا ہے۔ جب ہم نروان حاصل کرتے ہیں تو ہم اپنی سب مشکلات سے چھٹکارہ حاصل کر لیتے ہیں۔ یہ حالت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔ جب مشکلات ایک دفع دور ہو جائیں تو وہ دوبارہ واپس نہیں آتیں۔ اورسب حدود کے دور ہونے کی حالت بھی نہیں بدلتی۔ تاہم ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ کیونکہ نروان ایک دائمی حالت ہے اس لیے یہ ایک ٹھوس اور جامد چیز ہے اور ہم اس حالت میں کچھ نہیں کرتے۔ ایسا نہیں ہے۔ جب ہم نروان حاصل کر لیتے ہیں تو ہم دوسروں کی مدد اور دوسری چیزیں جاری رکھ سکتے ہیں۔ نروان ان معنوں میں دائمی نہیں ہے کہ سب فعالیت رک جائے اور کچھ واقع نہ ہو۔ہمیں لفظ دائمی کے استمعال میں زیادہ دقیق ہونا چاہیے اور اس کا مفہوم سمجھنا چاہیے۔ نروان کی حالت بذاتِ خود نہیں بدلتی اور نہ ہی اپنی حدود دور کرنے کی تکمیل بدلتی ہے، یہ ہمیشہ جاری رہتی ہے۔ لیکن جو شخص اس حالت کو پا لیتا ہے وہ کام انجام دیتا رہتا ہے۔ متانت کے بھی کئی مفہوم ہیں۔ اس سے مراد وہ بے کیف احساس بھی ہو سکتا ہے کہ جس میں ہم نہ تو خوش ہوں اور نہ ہی ناخوش۔ لیکن یہ بودھی تجربہ نہیں ہے۔ کچھ اعلی الہ اپنے آپ کو گہرے مراقبہ کی بیخودی میں جذب کر لیتے ہیں جو کہ خوشی یا غم کے احساس سے ماورا ہے۔ وہ ان مراقبوں میں کامل بے رنگی کی حالت تجربہ کرتے ہیں۔ جو لوگ بدھ بنتے ہیں وہ اپنے آپ کو ان بے رنگ احساسات سے بھی نجات دلا لیتے ہیں کیونکہ ان کا شمار بھی الجھن میں ہوتا ہے۔ جب ہم اپنی تمام مشکلات و حدود سے نجات حاصل کر لیتے ہیں تو ہم ایک بڑی مقدار میں توانائی کا اخراج کرتے ہیں جو کہ پہلے پریشانی، پاگل پن اور اضطراب میں الجھی ہوئی تھی۔ اس توانائی کے اخراج پر جو کہ اب کسے الجھن میں نہیں پھنسی ہوتی، ہم بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔یہ خوشی عام خوشی کے احساس سے بہت فرق ہوتی ہے جو کہ الجھن سے وابستہ ہوتی ہے اور یہ ہرگز بے رنگ یا بے کیف نہیں ہوتی۔

متانت کی اصطلاح کا ایک اور استمعال بدھوں کا ہر ایک کی جانب متین ہونا ہے۔ یہاں متانت سے مراد بے تعلقی نہیں بلکہ ہر ایک کے لیے فکر اور نگرانی کی برابری ہے۔ بدھ ایسے نہیں کرتے کہ کچھ لوگوں کو پسند کریں اور دوسروں کو ناپسند یا ان کی پروا نہ کریں۔