ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بدھ مت کا تعارف > بے تعلقی، عدم تشدد اور مہربانی و درد مندی کے بارے میں سوالات

بے تعلقی، عدم تشدد اور مہربانی و درد مندی کے بارے میں سوالات

سنگاپور، ۱۰ اگست ۱۹۸۸ء

نظرِ ثانی شدہ اقتباس:
Berzin, Alexander and Chodron, Thubten.
Glimpse of Reality.
Singapore: Amitabha Buddhist Centre, 1999.

سوال: بے تعلقی کا مطلب کیا ہے؟

جواب: بدھ مت میں بے تعلقی کے معنی اس سے قدرے مختلف ہیں جو عام طور پر اس لفظ سے انگریزی میں سمجھے جاتے ہیں۔ بدھ مت میں بے تعلقی کا معنوی رشتہ زہد اور ترکِ علائق سے ہے۔ انگریزی کا لفظ زہد خود گمراہ کُن ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ ہم سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی غار میں جا بیٹھیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ بدھ مت میں ایسی مثالیں بھی ملتی ہیں جس میں بعض لوگ، مثلاً میلاریپا، ترک دنیا کر کے غار نشین ہوئے لیکن ان کے عمل کے لیے بدھ مت میں ایک اور اصطلاح ہے، وہ لفظ نہیں جس کا ترجمہ "زہد" یا "بے تعلقی" کیا جاتا ہے۔ وہ لفظ جس کا ترجمہ بے تعلقی کیا جاتا ہے اس کا اصل مفہوم ہے "ہر تعلق سے آزاد ہونے کا عزم"۔ ہم پکا ارادہ کرتے ہیں: "میں اپنے مسائل اور مشکلات سے نکل کر رہوں گا۔ میرا ذہن اس مقصد کے لیے پورا تہیہ کر چکا ہے"۔ ہم اپنے نفس کی سب چالبازیوں سے پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں کیونکہ عزم کیے ہوئے ہیں کہ ان سے پیدا ہونے والے سارے مسائل سے خود کو آزاد کروا لیں گے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم ایک آرام دہ گھر یا اپنی آسائش کی چیزیں چھوڑنے چلے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم ان مسائل کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو ان اشیاء سے لگاؤ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں اس سے ان بندھنوں سے دل کی آزادی کی طرف رہنمائی ہوتی ہے اور بے تعلقی پیدا ہوتی ہے۔

قیدِ تعلق سے آزاد ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہم کسی شے کا مزہ نہیں لے سکتے یا کسی کے ساتھ رہ کر خوش نہیں ہو سکتے۔ بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ کسی چیز یا کسی شخص سے بہت سختی سے چپکے رہنا ہمارے لیے مسائل کا باعث بنتا ہے۔ ہم اس شخص کے محتاج ہو کر رہ جاتے ہیں اور یوں سوچنے لگتے ہیں کہ "اگر میں نے اسے کھو دیا یا ہمیشہ نہ پایا تو میں بہت برے حال میں ہوں گا"۔ بے تعلقی کا مطلب ہے کہ "اگر مجھے اپنی پسند کا کھانا مل گیا تو بہت خوب۔ اگر نہ مل سکا تو بھی ٹھیک ہے۔ کیا ہوا، کیا دنیا ختم ہو جائے گی؟" یعنی دل اس میں اٹکا نہیں ہوا، اس سے تعلق کی قید میں نہیں۔

جدید نفسیات میں "تعلق" کا لفظ کئی سیاق و سباق میں مثبت معنی رکھتا ہے۔ ایک معنی میں یہ والدین کی اولاد سے رشتہ و پیوند کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات بتاتے ہیں کہ بچے کو اگر شروع میں والدین سے لگاؤ نہ ملے تو اس کی نشو و نما میں دشواریاں ہوتی ہیں۔ یہاں پھر مشکل یہ ہے کہ بدھ مت کے مفہوم کو انگریزی میں صحیح طرح ادا کرنے کے لیے لفظ ڈھونڈنا ایک مسئلہ ہے کیونکہ بدھ مت میں لگاؤ کے ایک متعین معنی ہیں۔ جب اس کی تعلیمات یہ کہتی ہیں کہ انسان کو اپنے اندر بے تعلقی کو پروان چڑھانا چاہیے تو اس سے مراد یہ نہیں ہوتا کہ ہم والدین اور بچے کا فطری رشتہ قائم نہیں کرنا چاہتے۔ "بے تعلقی" کا مطلب یہ ہے کہ کسی شے یا کسی شخص سے تعلق اس طرح غالب نہ ہو کہ دل اسی میں اٹکا رہے اور اس کی تمنا بے تاب رکھے۔

سوال: کیا ایک عملِ بے تعلق اور اخلاقی طور پر مثبت عمل میں فرق ہوتا ہے؟

جواب: اس کا جواب دینے سے پہلے میں ایک اور بات عرض کردوں۔ میں "تعمیری" کے لفظ کو "پارسائی" پر ترجیح دیتا ہوں۔ "پارسا" اور "غیر پارسا" یا نیک اور بد کے الفاظ ایک اخلاقی فیصلہ کرتے نظر آتے ہیں جو بدھ مت کی مراد نہیں ہے۔ ہم کوئی قدری فیصلہ صادر نہیں کر رہے ہیں، نہ یہاں ثواب و عتاب کی بات ہے - ہمارے نزدیک کچھ عمل تعمیری ہوتے ہیں اور کچھ تخریبی۔ اگر کوئی آدمی گولی چلا کر لوگوں کو مار ڈالتا ہے تو یہ تخریبی عمل ہے۔ اگر کوئی اپنے گھرانے کے دوسرے لوگوں پر ہاتھ اٹھاتا ہے تو یہ تخریبی کام ہے۔ اس سے سب کو اتفاق ہے۔ اس میں کوئی اخلاقی فیصلہ شامل نہیں ہے۔ اگر ہم دوسروں پر مہربان ہیں، ان کے کام آتے ہیں تو یہ بہت مثبت اور تعمیری چیز ہے۔

جب ہم دوسروں کی مدد کرتے ہیں تو یہ عمل بے تعلقی سے بھی ہو سکتا ہے اور لگاؤ کے تحت بھی انجام دیا جا سکتا ہے۔ کسی کی مدد کسی غرض سے کرنے کی مثال یہ ہے کہ "میں آپ کی مدد کروں گا کیونکہ میری خواہش ہے کہ آپ مجھے چاہنے لگیں۔ میں آپ کو احساس دلانا چاہتا ہوں کہ میری بھی ایک حیثیت ہے آپ کے لیے"۔ اس پر ہم یہ کہیں گے کہ مدد کا عمل تو مثبت ہے لیکن نیت اس سے بہتر بھی ہو سکتی تھی۔

جب کرموں کے موضوع پر بات کی جاتی ہے تو ہم محرکِ عمل اور عمل کے درمیان فرق کرتے ہیں۔ ایک مثبت کام گھٹیا محرکِ عمل سے بھی کیا جا سکتا ہے۔ مثبت کام سے کچھ خوشی ملے گی جبکہ خراب محرکِ عمل کے نتیجے میں کچھ نہ کچھ دکھ اٹھانا پڑے گا۔ اس کے برعکس بھی درست ہے۔ عمل منفی ہے، مثلاً اپنے بچے کی پٹائی، لیکن محرکِ عمل مثبت ہے، اس سے بچے یا بچی کی زندگی بچانا مقصود ہے۔ مثال کے طور پر ہمارا چھوٹا سا بچہ سڑک پر کودنے کو ہے اور ہم صرف میٹھے لہجے میں اسے اتنا کہہ کر رک جائیں کہ "عزیزم، سڑک پر مت دوڑو"۔ یہ کہنے سے ہم اسے روک نہیں پائیں گے۔ اگر ہم اپنے بیٹے کو پکڑ کر اس کی پشت پر ایک زور کی دھپ رسید کریں تو وہ چلائے گا، مچلے گا یعنی ہمارے عمل کا کسی حد تک ایک منفی اثر ہوا۔ تاہم محرکِ عمل درست تھی اور اس کا مثبت نتیجہ منفی نتیجے سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ اس سے بچے کی جان بچ گئی۔ پھر یہ بھی ہے کہ ہمارا بیٹا اس بات کی قدر کرتا ہے کہ ہم اس کا خیال رکھتے ہیں۔

یہی بات ایک تعمیری کام کے لیے بھی کہی جا سکتی ہے۔ اس کے پیچھے ایک بے تعلقی کی نیت بھی کام کر سکتی ہے اور اس کام کو کسی لاگ لگاؤ کے تحت بھی کیا جا سکتا ہے۔

سوال: کیا در درد مندی کا لازمی تقاضا ہے کہ ہم ہمیشہ خاموشی سے ہر بات قبول کر لیں اور تعمیل کیا کریں یا کبھی زور زبردستی کا طریقہ اپنانے کی بھی اجازت ہوتی ہے؟

جواب: درد مندی کو "بے عقلی کی درد مندی" ہرگز نہیں ہونا چاہیے جس میں ہر کسی کو جو وہ مانگےدے دیا جاتا ہے۔ اگر ایک شرابی نشے کی طلب کرے یا قاتل پستول مانگے تو اس کی فرمائش پوری کرنا کسی طرح درد مندی نہیں ہو سکتی۔ درد مندی اور فراخ دلی کو دانائی اور نیک و بد کے امتیاز کے ساتھ رہنا چاہیے۔

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ ایسا طریقہ برتنا پڑتا ہے جو زبردستی لگتا ہے۔ کسی بچے کی تربیت کے لیے یا کسی ہولناک صورت حال سے بچنے کے لیے جہاں تک ممکن ہو بہتر ہی ہوتا ہے کہ خطرے سے بچنے کےلیے عدم تشدد کا راستہ اپنایا جائے۔ لیکن جب یہ دیکھا جائے کہ اس سے خطرہ ٹل نہیں سکتا تو اس سے نپٹنے کا ایک ہی فوری راستہ رہ جاتا ہے کہ طاقت کا استعمال کیا جائے اور اگر اس وقت اسے استعمال نہ کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم مدد کرنا ہی نہیں چاہتے تھے۔ بایں ہمہ ہمیں اس انداز میں عمل کرنا چاہیے جس سے دوسروں کو بڑا نقصان نہ پہنچے۔

تقدس مآب دلائی لامہ سے ایک انٹرویو میں ایسا ہی ایک سوال کیا گیا تھا اور جواب میں انہوں نے یہ مثال دی کہ: کوئی شخص ایک بپھرے ہوئے پر خطر دریا کو تیر کر پار کرنا چاہتا ہے جسے عبور کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ وہ دریا میں اترنے ہی والا ہے۔ دو آدمی پاس ہی سے دیکھ رہے ہیں اور دونوں جانتے ہیں کہ اگر اس نے دریا میں قدم رکھا تو تندو تیز موجیں اسے بہا کر لے جائیں گی۔ ایک شخص چپکا دیکھتا رہتا ہے اور کچھ نہیں کرتا۔ اس کا خیال ہے کہ اسے عدم تشدد کا پالن کرنا ہے اور اس کا مطلب ہے کہ اسے دخل نہیں دینا چاہیے۔ دوسرا شخص پکار کر پانی میں کودنے والے آدمی کو روکتا ہے کہ پانی میں نہ اترے۔ پانی کا ریلا خطر ناک ہے۔ پیراک کہتا ہے "مجھے کوئی پروا نہیں۔ میں ہر صورت دریا میں اتر کر رہوں گا"۔ دونوں میں بحث ہوتی ہے آخر میں اسے موت کے منہ میں جانے سے بچانے کے لیے ساحل پر کھڑا شخص اس پر وار کر کے اسے بے ہوش کر دیتا ہے۔ اس صورت حال میں وہ شخص جو چپکا بیٹھا دیکھتا رہا کہ تیرنے والا پانی میں اترے اور ڈوب جائے اس سے تشدد کا ایک عمل سرزد ہوا۔ عدم تشدد والا آدمی وہ ہے جس نے اس شخص کو بے موت مرنے سے بچا لیا خواہ اس کے لیے اسے زور زبردستی کا ایک راستہ اپنانا پ۔