ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > دنیا میں بدھ مت کا مقام > بین الادیان محاکات اور ارتباط > مذہبی ہم آہنگی، مہربانی و خیر خواہی اور اسلام

مذہبی ہم آہنگی، مہربانی و خیر خواہی اور اسلام

تقدس مآب چودھویں دلائی لامہ
میلان، اٹلی، ۹ دسمبر ۲۰۰۷ء
تحریر و تدوین: الیگزینڈر برزن

آج میں آپ سے مذہبی ہم آہنگی پر کچھ باتیں کرنا چاہتا ہوں۔ بعض اوقات مذہب اور عقیدہ بھی لڑائی جھگڑے کی لپیٹ میں آ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر شمالی آئر لینڈ کے ماضی میں آویزش بنیادی طور پر سیاسی تھی لیکن جلد ہی ایک مذہبی مسئلے میں تبدیل ہو گئی۔ یہ بڑے افسوس کی بات تھی۔ اسی طرح آجکل شیعہ اور سنی مسلمانوں میں بھی لڑائی ہو جاتی ہے۔ یہ بھی بہت قابل افسوس ہے۔ سری لنکا میں بھی لڑائی تو سیاسی ہے لیکن بعض صورتوں میں لگتا یوں ہے کہ گویا ہندوؤں اور بودھوں میں لڑائی ہو رہی ہے۔یہ بہت درد ناک ہے۔ پچھلے زمانوں میں مختلف مذاہب کے ماننے والے زیادہ تر ایک دوسرے سے الگ تھلگ زندگی گزارتے تھے لیکن آج کی دنیا میں وہ ایک دوسرے کے کہیں قریب آگئے ہیں لھذا ہمیں چاہئیے کہ مذہبی ہم آہنگی کو بڑھانے کے لیے خاص طور پر کوشش کریں۔

۱۱ ستمبر کے سانحے پر سال گزرا تو واشنگٹن کے قومی کیتھیڈرل میں یادگاری دعا کی تقریب کی گئی۔ میں بھی اسی محفل میں شریک تھا۔ دوارنِ گفتگو میں نے ذکر کیا کہ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آجکل بعض لوگ یہ تاثر دیتے نظر آتے ہیں کہ چند شر پسند مسلمانوں کی وجہ سے سارے مسلمان ہی جھگڑالو اور تشدد پسند ہیں۔ اور مزید وہ اسلامی اور مغربی تہذیبوں کے ٹکراؤ کی بات کرنے لگتے ہیں۔ یہ سب غیر حقیقی ہے۔

یہ بات سرے سے غلط ہے کہ چند شر پسند لوگوں کی وجہ سے ایک پورے مذہب کو برا بنا دیا جائے۔ یہ نکتہ اسلام، عیسائیت، یہودیت، ہندومت، بدھ مت سب کے بارے میں یکساں درست ہے۔ایک مثال لیجیے۔ شوگدن کےکچھ پیروکاروں نے میرے گھر کے قریب تین لوگوں کو قتل کر دیا۔ ان میں سے ایک صاحب بہت اچھے استاد تھے لیکن شوگدن پر تنقید کرتے تھے۔ انہیں چاقو کے سولہ زخم لگے۔ دوسرے دو مرنے والے ان کے شاگرد تھے۔ ان کے قاتل واقعی شر پسند لوگ تھے لیکن اس بنا پر اگر کوئی شخص یہ کہنے لگے کہ سارے تبتی بدھ مت کے پیروکارجنگ جو اور دن گئی ہیں تو اس بات کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا۔ بدھ فلسفی کے زمانے میں بھی کتنے ہی شر پسند لوگ تھے۔ یہ کوئی خاص بات نہیں ہے۔

ستبر ۱۱ کے بعد سے، بدھ مت کا پیرو کار ہوتے ہوئے اور اسلام سے باہر کا آدمی ہوتے ہوئے بھی میں رضا کارانہ طور پر اسلام جیسے عظیم مذہب کے دفاع کی کوشش کرتا چلا آیا ہوں۔ میرے مسلمان بھائیوں، اور چند بہنوں نے مجھ پر واضح کیا ہے کہ جو شخص بھی خون ریزی کرتا ہے وہ اسلام سے باہر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سچے مسلمان، اسلام کی صحیح پیروی کرنے والے مرد یا عورت، کو تو ساری مخلوق خدا سے پیار کرنا چاہیے۔ اسی طرح جیسے وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ساری مخلوق کو اللہ نے پیدا کیا۔ اگر انسان اللہ سے محبت کرتا ہو، اس کے گن گاتا ہو تو اسے خلق خدا سے لازماً پیار ہونا چاہیے۔

ایک رپورٹر میرا دوست تھا۔ اس نے آیت اللہ خمینی کے دور میں تہران میں کچھ وقت گزارا تھا۔ اس نے بعد میں مجھے بتایا کہ مذہبی رہنما کس طرح دولت مند خاندانوں سے پیسے جمع کر کے غریب لوگوں میں تقسیم کرتے تھے تاکہ تعلیم کے لیے ان کی مدد ہو سکے اور غربت میں کمی کی جا سکے۔ یہ ہے سچا سماجی خدمت کا عمل۔ مسلمان ممالک میں بنکوں کا سود پسند نہیں کیا جاتا۔ غرض یہ کہ اگر ہم اسلام سے واقف ہوں اور ہماری نظر اس پر رہے کہ اسلام کے پیروکار اس پر دل سے عمل کیونکر کرتے ہیں تو دوسرے ہر مذہب کی طرح یہ بھی بہت شاندار عمل ہے۔ بلکہ عمومی طور پر یوں کہیے کہ اگر ہمیں دوسرے افراد کے مذاہب کا علم ہو تو ہم باہمی احترام، ‎افزودگی اور داد ستائش پیدا کر سکتے ہیں، ایک دوسرے کی قدر کرنا سیکھ سکتے ہیں اور زیادہ بھر پور زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس لیے یہ ہماری ضرورت ہے کہ مختلف مذاہب کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوششوں کو اور مذہبی ہم آہنگی بڑھانے میں مسلسل لگے رہیں۔

حال ہی میں مجھے لزبن کی ایک مسجد میں مختلف مذاہب کی ایک مجلس میں شریک ہونے کا اتفاق ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی بین المذاہب مجلس مسجد میں منعقد کی گئی۔ اجلاس کے بعد ہم سب بڑے ہال میں چلے گئے اور سب نے خاموش دعا و مراقبہ کیا۔ یہ سب سچ مچ شاندار تھا۔ اس لیے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ہمیشہ کوشاں رہا کیجیے۔

کچھ کہتے ہیں خدا کا وجود ہے، کچھ کہتے ہیں نہیں۔ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اصل اہمیت ہے علت معلول کے قانون کی۔ یہ سب مذاہب میں ایک ہے: قتل نہ کرو، چوری مت کرو، جنسی غلط کاری مت کرو ، جھوٹ نہ بولو ۔ مختلف مذاہب میں طریقے بے شک الگ الگ ہیں لیکن ان سب کا مقصد ایک ہے۔ سو، نتیجے پر نظر رکھو، اس کے اسباب پر نہ جاؤ۔ جب آپ ریستوران میں جائیے تو سب اچھے کھانوں کا مزہ لیجیے اس بحث میں نہ پڑیے کہ فلاں کھانے کے اجزاء یہاں سے آئے یا وہاں سے لیے گئے۔ بہتر یہ ہے کہ کھائیے اور لطف اٹھائیے۔

اسی طرح یہ سب مختلف مذاہب ہیں۔ یہ بحث نہ اٹھائیے کہ میرا فلسفہ بہتر ہے یا کم تر ہے، یہ دیکھیے کہ سب مذاہب کی تعلیم یہی ہے کہ درد مندی کو مقصد اور منزل بنایا جائے اور سبھی مذاہب اچھے ہیں۔ مختلف طریقے برتنا اس لیے حقیقت ہے کیون کہ مختلف لوگوں کے لیے الگ الگ طریقے مفید ہوتے ہیں، سو ہمیں بھی ایک سچا اور حقیقت پسند نقطۂ نظر اور طرز عمل اپنانا چاہیے۔

انسان کے اندر کے سکون کا تعلق بھی درد مندی سے ہے۔ سارے بڑے مذاہب کا یہی پیغام ہے۔ پیار، درد مندی، درگذر۔ ہمیں چاہیے کہ رحم اور درد مندی کے فروغ کے لیے کوئی سیکولر راستہ تلاش کریں۔ جو لوگ کسی دین کو مانتے ہیں اور جو اپنے دین سے مخلص ہیں، اس پر سنجیدگی سے عمل کرتے ہیں۔ ان کے لیے اپنے اندر درد مندی اور رحم کی صلاحیت بڑھانے کے لیے ان کے دین میں ہی بہت بڑی گنجائش موجود ہے۔ رہے غیر دینی لوگ، یعنی وہ جن کا کسی دین سے کوئی ناطہ نہیں بلکہ وہ بھی جو دین سے بیزار ہیں، تو اکثر ان کو بھی رحم و درد مندی سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی کیونکہ ان کے خیال میں درد مندی ایک مذہبی چیز ہے۔ یہ سراسر غلط ہے۔ آپ مذہب کو ایک منفی چیز کے طور پر دیکھیے، آپ کو اس کی آزادی ہے لیکن درد مندی کے بارے میں ایک منفی رویہ رکھنے کے کوئی معنی نہیں ہیں۔

پہلی بات تو یہ ہے کہ ہم اپنی ماؤں کے جنے ہوئے ہیں۔ دوسرے انسان اور جانور بھی اپنی ماؤں کے جنے ہوئے ہیں اور انہی کے پالنے پوسنے سے زندہ ہیں۔ یہاں ایک حیاتیاتی عنصر ہے جوہمیں ایک دوسرے کے ساتھ بندھ دیتا ہے ۔ اچھی پرورش کے لیے شفقت و درد مندی ایک لازمی عنصر ہے۔ میری ماں مثال کے طور پر بہت شفیق تھیں۔ تو پہلے میں نے درد مندی بدھ مت کی نسبت میری ماں کی وجہ سے سیکھی اور بدھ مت پرھنے کے بعد اس احساس میں اور اضافہ ہو گیا۔ آگر میری ماں شفیق نہ ہو تھیں تو شاید میرے لئے درد مندی سے پیش آنا مشکل ہوتا اسی لئے درد مندی ایک حیاتیاتی عنصر ہے اور۔ ہمیں اس کی ضرورت ہے کہ ہم زندہ رہ سکیں۔

شفقت ایک لازمی عنصر ہے۔ سائنسدانوں نے بندروں کے بچوں پر تجربے کیے ہیں۔ جو بچے اپنی ماؤں کے ساتھ تھے وہ ہمیشہ کھیلتے کودتے رہتے اور بہت کم ایک دوسرے سے لڑتے تھے۔ جن بچوں کو ماؤں سے الگ کر دیا گیا تھا وہ اکثر چڑچڑے اور ناخوش رہتے تھے اور بے تحاشا لڑتے تھے۔ چنانچہ نشوونما کا تعلق دوسرے فرد کی شفقت سے ہے۔ طبی معالجین کا کہنا ہے کہ ان کی دریافت یہ ہے کہ ہم دوسروں سے جتنی درد مندی کرتے ہیں اتنی ہی ہماری بے چینی اور تناؤ میں کمی ہوتی رہتی ہے اور ذہنی سکون بڑھتا جاتا ہے، دورانِ خون بہتر ہو جاتا ہے اور فشارِ خون کم ہو جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں بدن کا دفاعی نظام مضبوط تر ہو جاتا ہے۔ ہر وقت کا غصہ اور نفرت ہمارے بدن کے دفاعی نظام کو کھا جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ ہم دردی اور درگذر کی صفات صحت اور لمبی زندگی کے لیے بہت مدد گار ہوتی ہیں۔

یہ باتیں لوگوں کو ابتدائی تعلیم سے ہی صحت کی حفاظت کے لیے سکھائی جا سکتی ہیں۔ اس لیے ہمیں انسانی اقدار کو ٹھیک سے آگے بڑھانا چاہیے، صرف مذہب کے وسیلے سے ہی نہیں بلکہ سیکولر تعلیم کے زریعے بھی۔ جدید تعلیم میں دلسوزی اور گرمجوشی پر پوری توجہ نہیں دی جاتی۔ اس میں یہ ایک کمی ہے۔ بعض یونیورسٹیوں میں یہ تحقیق ہو رہی ہے کہ جدید نظام تعلیم میں مہربانی اور دلسوزی کی اہمیت کو کس طرح بتایا جائے اور شامل کیا جائے۔ یہ بہت اچھی بات ہے۔

سیکولر اخلاقیات کے فروغ کے لیے ہمیں ایک سیکولر طریقہ درکار ہے۔ سیکولر کا مطلب مذہب کے خلاف ہونا نہیں ہے یا مذہب کی بے احترامی نہیں ہے۔ میں جب سیکولر کا لفظ بولتا ہوں تو اس طرح جیسے اسے ھندوستان کے آئین میں استعمال کیا گیا ہے۔ گاندھی سیکولر مذہب پر زور دیتے تھے، وہ سب مذاہب کی عبادت اور دعائیں کیا کرتے تھے۔ سیکولر کا مطلب ہے کہ کسی ایک مذہب کو دوسرے پر ترجیح نہ دی جائے بلکہ تمام مذاہب کا احترام کیا جائے اور لا مذہب لوگوں کو بھی احترام دیا جائے۔ سو سیکولر اخلاقیات ہماری ضرورت ہے، سیکولر طریقے سے، جو تعلیم کی بنیاد پر عمومی تجربے اور سائنسی شواہد کے پرمعتمد ہو۔

سوال: آج کی دنیا میں مادیت پرستی اتنی عام ہے۔ مادیت پرست لوگوں کا کیا ہوگا؟ ان سے کیسے معاملہ کیا جائے؟

تقدس مآب: مادی چیزیں صرف جسمانی آرام دے سکتی ہیں، دماغی سکون نہیں۔ مادیت پرست شخص کا اور ہمارا دماغ تو ایک ہی ہے لہذا ہم دونوں کو ذہنی تکلیف، تنہائی، خوف ، بے یقینی، حسد کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس سے ہرشخص کے ذہن میں پریشانی پیدا ہوتی ہے۔ اسے پیسے سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ پریشان ذہن، بے تحاشا تناؤ اور دباؤ میں آئے ہوئے لوگ دوائیں لیتے ہیں۔ اس سے وقتی طور پر تناؤ کم ہو جاتا ہے مگر کتنے ہی ذیلی اثرات پیدا ہو جاتے ہیں۔ شاید ذہنی سکون خریدا جا ہی نہیں سکتا۔ یہ چیز کسی بازار میں نہیں بکتی لیکن ذہنی سکون کی ہر ایک کو ضرورت ہے۔ اس کے لیے بہت سے لوگ سکون اور دوائیں استعمال کرتے ہیں لیکن ذہنی تناؤ کے مریض دماغ کی اصل دوا درد مندی ہے۔ سو، مادیت پرست لوگوں کو ہمدردی اور مہربانی کی حاجت ہے۔

اچھی صحت کے لیے سب سے اچھی دوا ذہنی سکون ہے اس سے جسمانی عناصر میں زیادہ توازن پیدا ہوتا ہے۔ یہی بات نیند بھر سونے کے بارے میں بھی درست ہے۔ اگر ہم ذہنی سکون میں سوتے ہیں تو نیند میں کوئی خلل نہیں پڑتا اور ہمیں نیند آور دوائیں نہیں کھانا پڑتیں۔ کتنے ہی لوگ اپنے چہرے کے حسن کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ لیکن اگر آپ غصے میں بھرے ہوئے ہوں تو چاہے جتنا غازہ مُنہ پر تھوپ لیں، کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ آپ کی بدصورتی وہیں رہے گی۔ لیکن اگر آپ میں غصہ نہ ہو، مسکراہٹ ہو تو آپ کا چہرہ پر کشش ہو جاتا ہے، زیادہ بھلا لگتا ہے۔

اگر ہم درد مندی کی بھرپور کوشش کریں تو پھر جب غصہ آئے گا تو صرف تھوڑی دیر کے لیے ہو گا۔ گویا ہمارا دفاعی نظام طاقتور ہو گیا ہو اور جب کوئی جرثومہ حملہ کرے تو زیادہ تکلیف نہیں ہوتی۔ سو ہمیں سب پہلووں کو نظر میں رکھنا چاہیے کہ ہمیں اس کی اور درد مندی کی ضرورت ہے۔ اس طرح ایک دوسرے سے آشنا ہونے، مانوس ہونے اور ہر ایک کے باہم دگر مربوط ہونے کا تجزیہ کر کے ہمیں مزید قوت حاصل ہو گی۔

ہم سب میں نیکی کرنے کی ایک سی صلاحیت ہوتی ہے۔ سو اپنے آپ پر غور کیجیے۔ اپنے تمام مثبت امکانات دیکھیے۔ منفی چیزیں بھی ہوتی ہیں لیکن اچھی چیزوں کے لیے صلاحیت بھی تو موجود ہے۔ انسان کی بنیادی فطرت میں بھلائی برائی سے زیادہ ہے۔ ہماری زندگی درد مندی سے شروع ہوتی ہے لہذا درد مندی کا بیج غصے کے بیج سے زیادہ طاقتور ہے۔ پس اپنے آپ کو زیادہ مثبت انداز میں دیکھیے۔ اس سے آپ کو زیادہ شانتی اور سکون ملے گا۔ پھر اگر کوئی مسئلہ اٹھے گا تو اسے سنبھالنا آسان ہو گا۔

ہندوستان کے ایک بڑے بدھ گرو، شانتی دیو نے لکھا ہے کہ کوئی مسئلہ درپیش ہونے والاہو اور ہم اس کا تجزیہ کر کے اس کو سلجھانے کا یا اس سے بچنے کا کوئی راستہ سوچ لیں تو پھر فکر کی کوئی بات نہیں۔ اور اگر ہم مسئلے پر قابو نہ پا سکیں تو خواہ مخواہ کی پریشانی فکر مندی سے کوئی مدد نہیں ملنے والی۔ ایسے میں حقیقت کو قبول کر لو۔

اگر آپ کو میری بات سے کوئی دلچسپی ہے تو خود اس کا تجربہ کر لیجیے۔ اگر یہ آپ کے دل کو نہیں لگتی تو چھوڑ دیجیے۔ میں تو کل چلا جاؤں گا، آپ کے مسائل البتہ آپ کے ساتھ رہیں گے۔