ذخیرۂ برزن

الیگزینڈر برزن کا بدھ مت کے متعلق ذخیرۂ برزن

اس صفحہ کے متنی ورژن کی طرف سوئچ کریں۔ بنیادی گشت کاری کی طرف جائیں

ابتدائی صفحہ > مؤلف > بدھ مت سے وابستگی

بدھ مت سے وابستگی

سنگا پور، ١٠ اگست ١٩۸۸ء

نظرِ ثانی شدہ اقتباس:
Berzin, Alexander and Chodron, Thubten.
Glimpse of Reality.
Singapore: Amitabha Buddhist Centre, 1999.

[مزید دیکھیے: دو زندگیوں کے دوران ایک روحانی استاد سے وابستگی اور کیا آپ پنر جنم (تناسخ) میں یقین رکھتے ہیں؟]

میں بچپن سے ہی ایشیائی ثقافتوں میں دلچسپی رکھتا تھا۔ تقریباً ۱۳ سال کی عمر میں میں نے ہتھ یوگا کی مشقیں شروع کر دی تھیں۔ ١۶سال کی عمر میں میں نے رٹگرز یونیورسٹی میں داخلہ حاصل کر لیا جہاں میں نے دو سال کیمسٹری پڑھی۔ اس دوران میں نے ایک اختیاری کورس بھی پڑھا جو کہ ایشیائی تہذیبوں کے بارے میں تھا جو مجھے بہت ہی دلچسپ لگا۔ ایک لیکچر کے دوران پروفیسر صاحب نے ایک ملک سے دوسرے ملک میں بدھ مت کے پھیلنے کا ذکر کیا اور یہ بتایا کہ ترجمے کا سلسلہ کیا تھا اور بدھ مت نے کیونکر اپنے آپ کو مختلف ثقافتوں میں ڈھال لیا تھا۔ یہ بات میرے دل کو لگی کہ یہی تو میں تفصیل سے جاننا چاہتا تھا۔

پھر جب پرنسٹن یونیوورسٹی نے شعبہ مطالعاتِ ایشیا میں نئے تدریسی پروگرام کا آغاز کیا تو میں نے وہاں بھی داخلے کی درخواست دی اور مجھے مطالعاتِ چین کےحصے میں قبول کر لیا گیا۔ مجھے خاص طور پر اس موضوع سے دلچسپی تھی کہ بدھ مت کی آمد چین میں کیونکر ہوئی، اس پر چینی ثقافت کے کیا اثرات پڑے اور پھر خود بدھ مت نے بعد کے چینی فلسفے کو کیسے متاثر کیا۔ میں یہ بھی جاننا چاہتا تھا کہ روز مرہ زندگی میں بدھ مت پر کیسے عمل کیا جاتا ہے۔ پرنسٹن میں تعلیم کے دنوں میں مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ گَیشے وانگیال بھی میرے آس پاس کے علاقے میں مقیم ہیں۔ گَیشے وانگیال روس کے وولگا منطقے کے ایک منگول کالمیک گَیشے تھے اور امریکہ میں پہلی تبتی – منگول خانقاہ کے سربراہ تھے۔ ان دنوں مَیں صرف یہ خیال آرائی کیا کرتا تھا کہ بدھ مت کی تعلیمات کے مطابق سوچنا اور عمل کرنا کیسا ہوتا ہوگا۔

۱۹۶۵ء میں مجھے مشرق بعید کی زبانوں کے شعبے میں عہد وسطی کے چینی فلسفے اور تاریخ کے موضوع پر-ایم اے کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ پہلا سال ختم کرتے ہی میں نے فیصلہ کیا کہ مجھے سنسکرت پڑھ کر ہندوستانی بدھ مت کا زیادہ گہرائی میں مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ یہ دیکھ سکوں کہ بدھ مت ہندوستان تک کیسے پھیلا تھا۔ سو میں نے سنسکرت زبان اور ہندوستانی فلسفہ سیکھنا شروع کیا۔ پی-ایچ-ڈی کے لیے میرا مقالہ مشرقِ بعید کی زبانوں کے اور مطالعاتِ سنسکرت و ہند کے شعبوں کی مشترکہ ڈگری کے لیے تھا۔

۱۹۶۷ء میں جب میں نے ہندوستانی بدھ مت کے مطالعے کے جزو کے طور پر تبتی زبان سیکھنا شروع کی تو مجھے گَیشے وانگیال کا پتا چلا اور اس کے بعد جب بھی میں اپنے خاندان والوں سے ملنے کے لیے نیو جرسی آتا، ان سے ضرور ملاقات ہوتی۔ افسوس یہ رہا کہ ہارورڈ اتنی دور تھا کہ اس فاصلے سے اس گرو سے کچھ سیکھنے کا موقع نہیں مل پاتا تھا۔ البتہ یہ ہوا کہ گَیشے وانگیال کا ایک شاگرد رابرٹ تھرمن ہارورڈ میں میری اکثر کلاسوں میں موجود ہوتا تھا۔ رابرٹ پہلا مغربی شخص تھا جو تبّت کی بودھ روایت کا راہب بنا۔ اس نے مجھے مغربی تقدس مآب دلائی لاما کے بارے میں بتایا اس سے یہ بھی پتا چلا کہ تبّت کی جو بدھ آبادی ہندوستان ہجرت کرگئی تھی ان میں بدھ مت ایک زندہ روایت کے طور پر موجود ہے۔ اسی سے سنا کہ اس نے ہندوستان جا کر کیسے تعلیم حاصل کی اس کا کہنا تھا کہ اگر میں چاہوں تو میں بھی یقیناً ایسا ہی کر سکتا ہوں۔ مجھے اور کیا چاہیے تھا میں نے فل برائٹ وظیفے کے لیے درخواست دے دی  تاکہ ہندوستان جا کر اپنے پی-ایچ-ڈی کے مقالے کا تحقیقی کام تبتوں کے ساتھ مل کر کر سکوں۔ مجھے وظیفہ مل گیا اور  ۱۹۶۹ء میں ہندوستان جانے کا موقع ملا۔

دھرمشالے میں میری ملاقات تقدس مآب دلائی لاما اور ان کے اتالیق حضرات سے ہوئی۔ مجھ پر یہ دیکھ کر بہت گہرا اثر ہوا کہ یہ لوگ جس بات کو مانتے تھے اور جس پر عمل پیرا تھے وہ ایک حقیقت تھی۔ ۱۹۶۰ء کی دہائی میں کسی امریکی یونیورسٹی میں بدھ مت کا مطالعہ زیادہ تر بدھ مت کی تحریروں کے تاریخی اور لسانی تجزیہ پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ ایک خشک مضمون تھا اور پڑھتے ہوئے یوں لگتا تھا کہ گویا ہم کسی ایسی چیز کا مطالعہ کر رہے ہیں جو آج نہیں قدیم مصری مذاہب کی طرح صدیوں پہلے موجود تھی۔ ہندوستان میں بدھ مت کی تبتی روایت ایک زندہ چیز تھی۔ اب میں ان کتابی لوگوں سے نہیں سیکھ رہا تھا جنہیں دھرم کا کوئی ذاتی تجربہ نہ تھا۔ اب وہ لوگ میرے استاد بن گئے جو بدھ فلسفی کی تعلیمات پر ایمان رکھتے تھے، ان پر عمل کرتے تھے۔ یہ تعلیمات بدھ فلسفی سے لے کر آج تک، بغیر منقطع ہوئے، استاد سے شاگرد کو منتقل ہوتی آئی ہیں۔ یہ سب سیکھنے کے لیے مجھے بس اتنا کرنا تھا کہ میرے ارد گرد جو بڑے گرو اور استاد موجود تھے ان کی خدمت میں خود کو ایک آمادگی کے ساتھ پیش کر دوں۔اب میں نہ صرف اس چیز کو توجہ سے دیکھ رہا تھا کہ بدھ مت میں ایک ثقافتی ماحول سے نکل کر دوسرے میں جاتے ہوئے کیونکر تبدیلیاں واقع ہوئیں بلکہ بدھ مت میرے لیے ایک ایسا زندہ فلسفہ اور مذہب بن گیا تھا جس پر میں عمل بھی کر سکتا تھا۔

پی-ایچ-ڈی کے لیے اپنی تحقیق کی خاطر میں نے ایک بڑے لاما (روحانی گرو) گَیشے نگاوانگ دھارگیئے  سے تعلیم حاصل کرنے کا آغاز کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ میں نے بدھ مت پر عمل بھی کرنا شروع کردیا۔ دو سال بعد تقدس مآب دلائی لاما نے دھرمشالہ میں تبتی تحریروں اور ذخیروں کے کتب خانے قائم کی اور میرے استاد کو ہدایت کی کہ وہ اس کتب خانے میں غیر ملکیوں کو بدھ مت کے فلسفے اور گیان مراقبہ کی تعلیم دیا کریں۔ لاما شرپا اور لاما کھملُنگ دو نوجوان رنپوچے تھے جنہوں نے گَیشے وانگیال کے زیرِ نگرانی امریکہ میں انگریزی سیکھی تھی اور میں ان کے ساتھ مل کر تقدس مآب دلائی لاما کی کچھ تحریروں کا ترجمہ کر رہا تھا۔ دلائی لاما نے ان دونوں کو مترجم کے طور پر مقرر کیا۔ جب میں نے درخواست کی کہ مجھے بھی مدد کرنے کی اجازت دی جائے تو تقدس مآب  دلائی لامہ نے فرمایا، "ضرور، مگر پہلے امریکہ جاؤ، مقالہ جمع کرواؤ اور ڈگری حاصل کرو۔"

میں نے تحقیقی مقالہ جمع کروایا، یونیورسٹی میں پڑھانے کی نوکری کی پیشکش ہوئی جسے میں نے شکریے کے ساتھ رد کر دیا اور گَیشے دھارگیئے سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے ہندوستان لوٹ آیا۔ ہم نے مل کر مزید ترجمے کیے اور جب تبتی زبان میں میری بول چال کی مہارت بڑھ گئی تو میں ایک بڑے لاما کے مترجم کے طور پر کام کرنے لگا۔ یہی  لاما میرے اصل استاد بھی تھے۔ ان کا نام تسنژاب سرکونگ رنپوچے تھا اور وہ تقدس مآب دلائی لاما  کے نائب اتالیق اور بڑے استادِ منطق رہ چکے تھے۔ میں سرکونگ رنپوچے کے ساتھ مترجم کے طور پر دو بین الاقوامی تدریسی دوروں میں بھی شریک سفر تھا۔ جب یہ عظیم گرو ۱۹۸۳ء میں  اس دنیا  سے کوچ کر گئے تو کئی ملکوں سے بدھ مت کے مراکز نے مجھے اپنے ہاں آنے اور درس دینے کی دعوت دی۔

ہندوستان آ کر مجھے اس چیز نے بہت متاثر کیا کہ بدھ مت نہ صرف روز مرہ کی زندگی کے بارے میں عملی رہنمائی فراہم کرتا ہے بلکہ اس کے پاس ان بہت سے سوالوں کا جواب بھی موجود تھا جن کا حل تلاش کرنا اس سے پہلے میرے لیے ممکن نہ تھا۔ یہ سوالات کچھ یوں تھے۔ "میری زندگی ایسی کیوں تھی؟" "میری زندگی میں یہ سب کچھ کیوں ہوا؟" بدھ مت کرموں کے جو معنی بتاتا ہے اس سے ان سوالوں کا جواب مل جاتا ہے۔ یہ دریافت میرے لیے بہت دلچسپی کی حامل تھی کیونکہ اسی سے میں اس قابل ہوا کہ زندگی میں جو کچھ پیش آیا تھا اس کو ایک معنویت دے سکوں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ بدھ مت ذہن اور اس کی کار کردگی کی جس طرح وضاحت کرتا ہے وہ صاف سمجھ میں آ جاتی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ جب ہم زندگی میں پیش آنے والے روز مرہ مسائل کا سامنا کرنے کے لیے بدھ مت کے طریقوں پر عمل کرتے ہیں تو ہمیں ان کے مؤثر نتائج کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ مجھے اس چیز نے بہت ہمت دی کہ میں نے ٹھیک راستہ چنا تھا جو میرے لیے ہر طرح مناسب تھا۔

تدریس و ترجمہ کرتے ہوئے میری کوشش یہ رہتی ہے کہ میں نے بدھ مت کے بارے میں جو سبق سیکھا اور ایک سماجی، ثقافتی منطقے سے دوسرے میں اس کے پھیلنے کے بارے جو کچھ جانا اس کو استعمال کروں۔ میرے مطالعے اور جائزے نے مجھے اس نکتے سے آگاہ کیا ہےکہ اگر بدھ مت کو مغربی دنیا اور جدید معاشروں کے سامنے پیش کرنا ہے تو کون سے عوامل ایسے ہیں جن کے بارے میں احتیاط برتنا چاہیے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ماضی میں بدھ مت نے ہر نئے ثقافتی ماحول سے کیونکر سازگاری پیدا کی مجھے امید ہے کہ میں جدید دنیا کے دیگر ممالک میں اس کی اشاعت کے لیے مدد گار ثابت ہو سکتا ہوں۔